57

آدمی جتنا اوپرجاتا ہے اس کی ٹھرک بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے، فریال محمود

 میرے ساتھ جب جب ہوا میں نے مختلف طریقوں سے ردعمل دیا اور اب ایسا وقت آگیا ہے کی کوئی ایسا کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔

میرے ساتھ جب جب ہوا میں نے مختلف طریقوں سے ردعمل دیا اور اب ایسا وقت آگیا ہے کی کوئی ایسا کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔

اداکارہ و ماڈل فریال محمود کا کہنا ہے کہ میں اس لئے لوگوں کومشکل لگتی ہوں کیونکہ انہیں تفریح فراہم نہیں کرتی۔

اپنے ایک انٹرویومیں فریال محمود نے کہا کہ شوبزانڈسٹری میں ایمانداری کے ساتھ اپنی موجودگی کو برقراررکھنا اور آگے بڑھنا بہت مشکل ہے۔ اگر آپ کو روایتی طریقے آتے ہیں کہ کس کو کہاں کاٹنا ہے، کس کے بارے میں کیا بات پھیلانی ہے، کہاں پارٹی کرنی ہے یا کسی کے ساتھ کھانے پر چلے تو پھر بہت آسان ہے۔

فریال محمود کا کہنا تھا کہ انسان کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ میں نے 8 سال کے دوران بہت کچھ دیکھا ہے۔ مجھے مختلف طریقوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ آپ مجھے ایک سال دے دیں، کہیں باہرچلتے ہیں، میں کہتی تھی کہ ایک نہیں 2 سال لے لیں ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایسی کیا بات کرنی ہے جو دفترمیں نہیں ہوسکتی، آدمی جتنا اوپر جاتا ہے اس کی ٹھرک بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ سب سے اوپرجوآدمی ہوتا ہے وہ مجھ پر سوال اٹھاتا ہے کہ میرا رویہ اتنا کیوں خراب ہے، کوئی تمہارے ساتھ کام کیوں نہیں کرنا چاہتا۔ حتیٰ کہ میں ہمیشہ وقت پر پہنچتی ہوں، مجھے کسی اداکارکے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں اورمیں اپنے کام سے کام رکھتی ہوں۔

اداکارہ نے کہا کہ میں اس لئے لوگوں کومشکل لگتی ہوں کیونکہ انہیں تفریح فراہم نہیں کرتی، ان کے واہیات اور فضول لطیفوں پر ہنستی نہیں۔ شوبز میں ٖیرپیشہ وارانہ رویے سے متعلق فریال محمود نے کہا کہ ہمارے شعبے کو کسی کو لحاظ نہیں، کوئی تمیز سے واقف نہیں کہ کس سے کیسے بات کرنی ہے۔ میں نے بیرون ملک 18 سال کی عمر میں بحیثیت منیجر کام کیا، وہاں سکھایا جاتا ہے کہ خود سے بڑی عمر کے لوگوں سے کیسے بات کی جائے اور ان سے کیسے کام لیا جائے۔

اداکارہ نے کہا کہ میں سوچتی ہوں کہ والدہ اور خالہ روحی بانو ماضی میں ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کام کرتی تھیں، نہ ہمارے کام میں کوئی بہتری آئی ہے اور نا ہی ہم ذہنی طورپربہتر ہوئے ہیں۔ انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ ہراسانی سے متعلق فریال محمود نے کہا کہ یہاں صرف مرد ہی غلط نہیں ہوتے، میں نے خواتین فنکاراؤں کو بھی شوٹنگ کے دوران اور نجی محفلوں میں ایسا کرتے دیکھا ہے، سیٹ پر ایکسٹرا فنکارائیں معاون پروڈیوسر اور مرکزی کردار نبھانے والی اداکارائیں اپنے پروڈیوسر اور ڈائرکٹرز کے ساتھ تعلقات بناتی ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہوتاہے کہ یہ فارمولہ کام کرتا ہے، اگر خواتین اجازت دیتی ہیں تو ہی کوئی آگے بڑھتا ہے، میرے ساتھ جب جب ہوا میں نے مختلف طریقوں سے ردعمل دیا اور اب ایسا وقت آگیا ہے کی کوئی ایسا کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں