17

اسیر نوجوان نے 85 سالہ ماں کی مدد سے الیکشن میں بی جے پی کو شکست دیدی

اکھل گگوئی 2019 سے حراست میں ہیں، فوٹو : فائل

اکھل گگوئی 2019 سے حراست میں ہیں، فوٹو : فائل

نئی دہلی: بھارتی ریاست آسام میں آزاد امیدار اکِھل گگوئی نے جیل میں رہتے ہوئے اپنی ماں کی مدد سے انتخابی مہم چلائی اور مودی کی جماعت بی جے پی کو شکست کی دھول چٹادی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست آسام کے الیکشن میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے جب جیل میں قید کاٹنے والے نوجوان کسان رہنما اکھل گگوئی کی 85 سالہ ماں پریادا گگوئی نے نہ صرف بیٹے کی انتخابی مہم چلائی بلکہ طاقتور حکمراں جماعت کے مضبوط امیدوار کو شکست سے دوچار بھی کیا۔

یوں تو بھارت میں پانچ ریاستوں میں الیکشن ہوئے جس میں مغربی بنگال سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا تاہم سب سے انوکھا اور دلچسپ معرکہ اپر آسام میں شیوا ساگر کے حلقے میں ہوا۔ جہاں وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے اپنے امیدوار کے حق میں جلسے کیئے لیکن اس کے باوجود بی جے پی مالی طور پر کمزور لیکن پُرعزم نوجوان سے ہار گئی۔

اکھل گگوئی 2019 سے جیل میں ہیں۔ انہیں شہریت کے متنازع بل کے خلاف عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے اور حکومت مخالف ریلیوں پر حراست میں لیا گیا تھا تاہم نوجوان رہنما نے جیل سے بھی مہم جاری رکھی۔ اسی دوران جب کسانوں نے حکومت کو ناکوں چنے چبوائے تو اس میں بھی اکھل گگوئی نے جیل میں رہتے ہوئے اپنے علاقے کے کسانوں کی قیادت کی تھی۔

یاد رہے کہ اس وقت اکِھل گگوئی کی صحت مبینہ طور پر خراب ہے اور وہ عدالتی تحویل میں گوہاٹی میڈیکل کالج اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں