33

افغانستان میں بدامنی پر افغانوں کے بعد سب سے بھاری قیمت پاکستان نے چکائی، قریشی

ہم نے طالبان کو بارہا مذاکرات کا کہا کیونکہ یہ انکے مستقبل کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ انہیں خود کرنا ہے، استنبول کانفرنس (فوٹو : فائل)

ہم نے طالبان کو بارہا مذاکرات کا کہا کیونکہ یہ انکے مستقبل کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ انہیں خود کرنا ہے، استنبول کانفرنس (فوٹو : فائل)

استبول: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم طالبان کو بار بار مذاکرات کا کہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے مستقبل کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ انہیں خود کرنا ہے، افغانستان میں بدامنی کی سب سے بھاری قیمت، افغانوں کے بعد پاکستان نے چکائی ہے ہمیں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے استنبول میں ترک اور افغان وزرائے خارجہ کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ افغان امن عمل کے اس اہم موڑ پر سہ فریقی اجلاس کا انعقاد بہت اہمیت کا حامل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس فورم کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف وزارتی سطح پر بلکہ سمٹ لیول کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے اس سہ فریقی اجلاس میں سمٹ لیول انگیجمنٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا، بین الافغان مذاکرات کی صورت میں افغانوں کے پاس ایک نادر موقع ہے، انہیں چاہیے کہ وہ سب مل کر مذاکرات کو نتیجہ خیز بنائیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، واحد راستہ جامع اور وسیع مذاکرات ہیں، اسی لیے ہم طالبان کو بار بار مذاکرات کا کہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے مستقبل کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ انہیں خود کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ  افغانستان میں بدامنی کی سب سے بھاری قیمت، افغانوں کے بعد پاکستان نے چکائی ہے ہمیں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، ایک پرامن افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ آج کانفرنس میں ہم نے اقتصادی تعاون، غیر قانونی مائیگریشن کے مسئلے پر بھی بات چیت کی، غیر قانونی مائیگریشن پر موثر انداز میں قابو مشترکہ کاوشوں کے ذریعے پایا جا سکتا ہے، ہمارا مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ، ہماری سوچ میں یکسوئی کا مظہر ہے، افغانستان میں قیام امن سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں