17

امریکا میں نسلی تعصب کے بعد ’ماحولیاتی تعصب‘ میں بھی اضافہ

 سفید فام افراد کی نسبت سیاہ فام افراد کی زندگی کا بیشتر حصہ زیادہ گرمی میں گزرتا ہے۔(فوٹو:فائل)

 سفید فام افراد کی نسبت سیاہ فام افراد کی زندگی کا بیشتر حصہ زیادہ گرمی میں گزرتا ہے۔(فوٹو:فائل)

 واشنگٹن۔: امریکا میں مختلف رنگت والے افراد کو نسلی تعصب کے بعد ’ماحولیاتی تعصب‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سائنس جریدے نیچر میں شایع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکا میں رہنے والے سیاہ فام افراد کو سفید فام افراد کی نسبت گرمی کی شدت کا زیادہ سامنا ہے۔

اس تحقیق کی سربراہی کرنے والی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کی ڈاکٹر انیجل ہسو کا کہنا ہے کہ یہ فرق غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ تاریخی نسلی عصیبت اور جداگانہ حیثیت کی وجہ سے ہے، جس کے نتیجے میں رنگ دارافراد( سفید فام کے علاوہ براؤن اور سیاہ فام افراد) عموما ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں سبزہ کم، سڑکیں اورعمارات زیادہ ہیں۔ جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تیکنیکی زبان میں اس کے لیے ’سرفیس اربن ہیٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہروں میں موجود انفرا اسٹرکچر، عمارتوں اور سڑکوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ کنکریٹ اورتارکول زیادہ گرمی کو جذب اور ذخیرہ کرتے ہیں، جب کہ شہری علاقوں میں مضافاتی علاقوں کی نسبت دن اور رات میں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ جن علاقوں میں درخت اور سرسبز مقامات زیادہ ہیں وہاں کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔

اس مطالعے میں ایک پرانے تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں 1930 میں بڑے شہروں میں گرم آبادیوں اور ہاؤسنگ پریکٹسز کے درمیان ربط کو تلاش کیا گیا۔ اُس وقت وفاقی حکام کی جانب سے دستاویزات میں افریقی امریکیوں یا تارکین وطن کی بڑی آبادیوں کو گھر کے لیے قرضوں اور سرمایہ کاری  کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ’سرخ لکیر‘ کھینچ دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے بڑے شہروں کے کچھ حصوں میں کم آمدن والے گھروں کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا۔ اسی مطالعے کی بنیاد پر نئی تحقیق میں گرم علاقوں اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔

نئی تحقیق میں امریکا کی مردم شماری کے اعداد اور سیٹلائیٹ سے حاصل کردہ درجہ حرارت کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سفید فام افراد کی نسبت سیاہ فام افراد کی زندگی کا بیشتر حصہ زیادہ گرمی میں گزرتا ہے۔

تحقیق کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں سیاہ فام افراد کو اوسطا ً 3 اعشاریہ12 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ سفید فام افراد کو 1 اعشاریہ47 سینٹٰ گریڈ اضافی درجہ حرات کا سامنا کرتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے سے نہ صرف شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ  فالج، کام کی جگہ پر پیدواری صلاحیت میں کمی اور سیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں