18

امریکا کا یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے اور فلسطینیوں کی مالی امداد بحال کرنے کا اعلان

امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے بعد فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی، فوٹو: اے ایف پی

امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے بعد فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی، فوٹو: اے ایف پی

رملہ: امریکی کی نئی حکومت نے سابق صدر ٹرمپ کی جانب سے بند کی گئی فلسطینیوں کی مالی امداد کو بحال کرنے اور یروشلم میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اسرائیل کے دورے کے بعد فلسطین پہنچے جہاں انہوں نے فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی اور اسرائیلی بمباری سمیت خطے کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

رملہ میں ہونے والی ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے جنگ کے باعث تباہ حال غزہ میں تعمیر نو کے لیے کئی ملین ڈالرز بطور امداد فراہم کرنے کی خوشخبری بھی سنائی۔

یہ خبر پڑھیں : حماس نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی تو زیادہ طاقت سے حملہ کریں گے، اسرائیل 

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین اتھارٹی کے لیے تمام قسم کی مالی امداد بند کردی تھی جب کہ 2019 میں یروشلم میں سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل  کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل اور حماس گیارہ روز سے جاری جنگ بندی پر رضامند 

مشرق وسطیٰ کے 3 روزہ دورے پر آئے امریکی وزیر خاجہ انتھونی بلنکن نے ملاقات کے دوران تنازع کے حل کے لیے دو ریاستوں کے قیام کو ہی واحد حل قرار دیا جب کہ صدر محمود عباس نے فلسطین کی سابقہ حیثیت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے دوسرے کسی بھی طریقے کو فلسطینی عوام کی حمایت سے مشروط کیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : جنگ بندی کے باوجود مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی نمازیوں پر شیلنگ  

واضح رہے کہ 11 روز تک اسرائیلی بمباری کے بعد مصر کی مداخلت اور امریکی حمایت سے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے فوری بعد امریکی وزیر خارجہ اسرائیل، فلسطین اور مصر کے دورے پر سب سے پہلے تل ابیب پہنچے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں