21

امریکی ’جی پی ایس‘ کے مقابلے میں چینی ’بیدو نیوی گیشن سسٹم‘ کی مقبولیت میں اضافہ

زمین پر رہنمائی فراہم کرنے کےلیے چین کے ’بیدو نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم‘ میں 35 مصنوعی سیارچے شامل ہیں۔ (فوٹو: سی جی ٹی این)

زمین پر رہنمائی فراہم کرنے کےلیے چین کے ’بیدو نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم‘ میں 35 مصنوعی سیارچے شامل ہیں۔ (فوٹو: سی جی ٹی این)

بیجنگ: خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ چین کا تیار کردہ جدید ترین نیوی گیشن سسٹم ’بیدو‘ امریکی ساختہ ’گلوبل پوزیشننگ سسٹم‘ (جی پی ایس) کا متبادل بنتا جارہا ہے جس کا عوامی استعمال 2025 تک 156 ارب ڈالر مالیت تک جا پہنچے گا۔

گزشتہ روز بارہویں سالانہ چائنا سیٹلائٹ نیوی گیشن کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں چینی سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم کمیٹی کے چیئرمین، حہ یو بین نے بتایا کہ جولائی 2020 میں بیدو-3 عالمی سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم کے باضابطہ طور پر استعمال میں آنے کے بعد سے چین نے ابتدائی طور پر نیوی گیشن سسٹم کا انتظامی نظام قائم کیا اور دنیا بھر کے 120 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں بیدو نظام متعارف کروایا جا چکا ہے۔

کووِڈ 19 کی وبا پھیلنے کے بعد، بیدو نظام سے متعلق بین الاقوامی تعاون آن لائن جاری رہا اور بین الاقوامی معیار کی تنظیموں میں اس کی شمولیت کے عمل میں بھی تیزی آرہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق، چین کی سیٹلائٹ نیوی گیشن انڈسٹری سالانہ 20 فیصد کی شرح سے پھیل رہی ہے جو بلاشبہ غیرمعمولی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس وقت بھی 120 ممالک میں ’بیدو نیوی گیشن سسٹم‘ استعمال کرنے والوں کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ چین کے ’بیدو نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم‘ میں 35 مصنوعی سیارچے شامل ہیں جو زمین پر رہنمائی کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔ فی الحال عوام کےلیے اس نظام کی درستی 3.6 میٹر ہے جبکہ انکرپٹڈ سیٹلائٹ نیوی گیشن کےلیے یہ درستی 10 سینٹی میٹر تک لے جائی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں