17

انفیکشن کی صورت میں رنگ بدلنے والی اسمارٹ پٹی

تصویر میں دکھائی دینے والی پٹی کسی انفیکشن کی صورت میں روشنی ڈالنے پر دمکنے لگتی ہے۔ فوٹو: یونیورسٹی آف روڈ آئی لینڈؑ

تصویر میں دکھائی دینے والی پٹی کسی انفیکشن کی صورت میں روشنی ڈالنے پر دمکنے لگتی ہے۔ فوٹو: یونیورسٹی آف روڈ آئی لینڈؑ

روڈ آئی لینڈ: مریم پٹی کا مقصد زخم پر دوا برقرار رکھنا اور اسے انفیکشن سے بچانا ہوتا ہے۔ اب ایک اسمارٹ پٹی کی بدولت زخم پر کسی بھی قسم کے انفیکشن اور جراثیم کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف روڈ آئی لینڈ کے سائنسدانوں نے ایک اسمارٹ پٹی بنائی ہے جو کسی بھی جراثیم سے متاثر ہونے یا انفیکشن کی صورت میں روشنی خارج کرتی ہے۔ اسے کئی اشکال اور جسامت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔

ناسور، ذیابیطس کے زخم اور کسی وجہ سے شدید انفیکشن کی صورت میں پٹی کو بار بار کھول کر دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ عمل بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہوسکتا ہے۔ اسی لیے کاربن نینوٹیوب سے بنی ایک باریک جھلی بنائی گئی ہے۔ اسے ڈریسنگ پالیمر کے عام ریشوں کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ اس طرح نینوٹیوب زخم کے اندر نہیں گھستی لیکن وہ زخم سے بہت دور نہیں رہتیں اور کیمیکل یا مائع کا اخراج کرتی رہتی ہیں۔

زخم خراب ہونے یا انفیکشن کی صورت میں خارج ہونے والا ایک مشہور کیمیکل ہائیڈروجن پرآکسائیڈ ہے جو جراثیم (بیکٹیریا وغیرہ) کی صورت میں خون کے سفید خلیات سے خارج ہوتا ہے۔ جب کاربن نینوٹیوب پر روشنی ڈالی جائے تو یہ کیمیکل رنگ بدل لیتا ہے۔ اس کے لیے ایک چھوٹا سا آلہ براہِ راست بینڈیج کے اوپر رکھا جاتا ہے اور نیچے سے پٹی دمکنے لگتی ہے۔ اس کی اطلاع کسی اسمارٹ فون تک بھی پہنچائی جاسکتی ہے۔

اس منصوبے پر محمد معین سیفی نے اہم کام کیا ہے جو یونیورسٹی کے سابق طالبعلم بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ ہماری ایجاد زخم کے انفیکشن کو ابتدا میں ہی بھانپ لیتی ہے۔ اس طرح اینٹی بایوٹکس کے اندھا دھند استعمال کی ضرورت نہیں رہتی  اور یہاں تک اعضا کو کاٹنے سے بھی بچاجاسکتا ہے۔ اس طرح یہ دیرینہ ناسور اور ذیابیطس کے زخم کے انتظام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

پہلے اسے تجربہ گاہ میں تیارکردہ خلیات پر آزمایا جائے گا اور اس کے بعد چوہوں پر اس کی آزمائش کی جائے گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں