24

اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی نجمہ پروین تاریخ رقم کرنے کی خواہشمند

اپنی برق رفتاری کی وجہ سے نجمہ پروین کو پاکستانی یوسین بولٹ بھی کہاجاتا ہے

اپنی برق رفتاری کی وجہ سے نجمہ پروین کو پاکستانی یوسین بولٹ بھی کہاجاتا ہے

فیصل آباد کی نجمہ پروین  لگاتار دوسری بار اولمپکس  میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

سو، دو سو اور چار سومیٹر میں متعدد انٹرنیشل میڈلز جیتنے والی نجمہ پروین اس بار عمدہ کارکردگی دکھاکر تاریخ میں نام لکھوانے کی خواہش مند ہیں۔ دوہزار سولہ اولمپکس میں  بھی نجمہ پروین نے دوسومیٹر میں حصہ لیا تاہم  زیادہ بہتر پرفارم نہیں کرسکی تھیں، اس بار وہ کوچنگ سینٹر لاہور میں بین الصوبائی رابطہ کی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی خصوصی سرپرستی سے وہ ان دنوں ٹریننگ میں مصروف ہیں۔ کوچ سیمی رضوی انہیں ٹوکیو اولمپکس کے لیے تیاری کرارہی ہیں۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے نجمہ پروین نے بتایا کہ محنت سے ہی تمام خواب پورے ہوسکتے ہیں، ہر کھلاڑی کی سب سے بڑی خواہش اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہوتا ہے،خوش قسمت ہوں کہ ڈبل اولمپئن کا اعزاز ملنے کا موقع مل رہاہے، پاکستان میں روایت ہے کہ اولمپکس میں صرف ایک بار اتھلیٹ کو شرکت کا موقع ملتاہے،تاہم خود سے ضد لگالی تھی کہ اس روایت کو ختم کرنا ہے اور اتنی محنت کرنی ہے کہ سب پیچھے رہ جائیں، اپنے والدین، کوچز، پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن حکام کے تعاون اور سرپرستی کے بعد اس مقام پر پہنچانے میں کامیاب رہی۔

30 سالہ نجمہ پروین کہتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین سپورٹس پر مردوں کی طرح توجہ دینے کی ضرورت ہے، ٹیلنٹ کی کمی نہیں، دوسرے ممالک کی اتھلیٹس اس لیے ہم سےآگے ہیں کہ انہیں بہترین سہولیات کے ساتھ ٹریننگ کے بہت زیادہ مواقع ملتے ہیں، پاکستان میں ایونٹس زیادہ نہیں ہوتے، بیرون ملک ٹریننگ نہ ہونے  کے برابر ہے۔

اپنی برق رفتاری کی وجہ سے نجمہ پروین کو پاکستانی یوسین بولٹ بھی کہاجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ والد خود کھلاڑی تھے اور ان کی خواہش تھی کہ میری بیٹی بھی اس شعبے میں محنت کرکے نام کمائے،گھر والوں کی سپورٹ نے بہت مدد کی، کوچز نے بہت کام کیا،ساوتھ ایشن گیمز سمیت تمام بڑے مقابلوں میں میڈلز اپنے نام کیے ہیں، بس اب ایک ہی خواہش ہے کہ اولمپکس میں میڈل جیت کر پاکستان کی کامیاب اور خوش قسمت ترین لڑکی بن جاوں۔

نجمہ پروین کی کوچ سیمی رضوی نے بتایا کہ کوویڈ ایس اوپیز پر عمل کرتےہوئے ٹریننگ جاری رکھے ہوئے ہیں، موجودہ حالات اپنی جگہ لیکن ایک کھلاڑی کو اولمپکس کے لیے خود کو تیار کرنا ہے اور جتنی محنت نجمہ کررہی ہے، مجھے یقین ہے کہ اولمپکس میں اس کی پرفارمنس سے سب کا سرفخر سے ضرور بلند ہوگا۔ نجمہ ان تمام پاکستانی لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہے جو کھیل سمیت کسی بھی شعبے میں اپنی الگ پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں