35

آسکر ایوارڈ 2021ء – ایکسپریس اردو

’نومیڈ لینڈ‘ نے آسکر ایوارڈ حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔

’نومیڈ لینڈ‘ نے آسکر ایوارڈ حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔

آسکر ایوارڈ شوبز کی دنیا کا سب سے بڑا عالمی ایونٹ ہوتاہے، کھیلوں کے عالمی مقابلے اولمپکس کی طرح شوبزسے وابستہ شخصیات کی بھی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح آسکر ایوارڈ جیت سکیں،وہ فنکار یا ڈائریکٹر زجو یہ ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

عزت، دولت اور شہرت کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں اور دنیا بھر کی طرف سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے،ہمیشہ کی طرح اس بار بھی 93ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب کا اہتمام امریکی ریاست لاس اینجلس میں کیا گیا ، اس بار ایونٹ کو یادگار بنانے والے آسکر کے فاتحین کا تعلق صرف امریکہ اور برطانیہ سے نہیں بلکہ دیگر ممالک سے بھی تھا۔ان اداکاروں نے نہ صرف کئی ریکارڈز بنائے بلکہ ساتھ ہی ساتھ نئی روایات کی بنیادبھی رکھی۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث آسکرز کی تقریب کچھ مختلف رہی جسے2 الگ مقامات سے نشر کیا گیا اورماضی کے برعکس اس بارتقریب کے بعد کوئی پارٹی بھی نہیں رکھی گئی۔ گو یہ شام صرف 179 افراد کے درمیان سجی تاہم اس مختصر تقریب میں فیشن کے رنگ بھی خوب دیکھنے کو ملے۔یہ تقریب فروری میں ہونا تھی لیکن دنیا بھر میں جاری کورونا وائرس کی وجہ سے اسے25اپریل تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

فلمی دنیا کے سب سے معتبر فلمی ایوارڈ دینے والے ادارے دی اکیڈمی آف موشن پیکچرز آرٹس اینڈ سائنس نے اعلان کیاکہ تقریب کو  اپریل میں منعقد کیا جائے گا اور ایوارڈ تقریب کو ہر سال کی طرح اس بار بھی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ڈولبے تھیٹرز میں منعقد کیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق تقریب کا اہتمام کیا گیا تو نومیڈ لینڈ نے بہترین فلم، بہترین ڈائریکٹر اور بہترین اداکارہ کے ایوارڈ ز اپنے نام کر کے سب کو حیران کر دیا۔

اکیڈمی ایوارڈز سے قبل چین سے تعلق رکھنے والی ڈائریکٹر کلوئی زاؤ کو ہالی وڈ میں شاید زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے مگر انہوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ اگر جذبے سچے ہوں اور کچھ کر گزرنے کا عزم ہو تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے، کلوئی زاؤ نے نومیڈ لینڈ کے لیے بہترین فلم اور بہترین ڈائریکٹر کے آسکر ایوارڈ حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔کلوئی وہ پہلی غیر سفید فام خاتون ہیں جنھوں نے بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ جیتا ہے۔

39 سالہ کلوئی زاؤ کی زندگی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ چین میں پیدا ہوئیں، برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی فلموں میں اکثر ایسے اداکار دیکھنے کو ملتے ہیںجنہیں فلموں میں کام کرنے کا زیادہ تجربہ نہیں، صرف یہی نہیں بلکہ کلوئی کی فلم نومیڈ لینڈ کی بدولت فرانسس میک ڈارمنڈ کو بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ، مک ڈارمنڈ نے تیسری بار بہترین اداکارہ کا ایوارڈ اپنے نام کیا ہے۔اس طرح نومیڈ لینڈ نے مجموعی طور پر تین آسکر ایوارڈز اپنے نام کئے ہیں۔

سر انتھونی ہاپکنز کو دی فادر میں ڈمنشیا کے مریض کا کردار نبھانے کے لیے بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا، یوں وہ آسکر جیتنے والے سب سے معمر اداکار بن گئے ہیں۔ اداکار انتھونی ہاپکنز کو پہلی مرتبہ 1991 میں فلم ‘سائلنس آف دی لیمبز’ میں بہترین کارکردگی پر اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ انتھونی ہاپکنز نے فلم ‘دی فادر’ کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ اپنے نام کر کے ایک نہیں بلکہ دو ریکارڈز بنائے۔

بہترین اداکار کا آسکر اپنے نام کرتے وقت اداکار انتھونی ہاپکنز کی عمر 83 برس تھی جو پچھلے ریکارڈ ہولڈر کرسٹوفر پلمر سے بھی زیادہ ہے۔حال ہی میں انتقال کر جانے والے اداکار کرسٹوفر پلمر کو 2011 میں 82 برس کی عمر میں فلم ‘بیگینرز’ کے لیے بہترین معاون اداکار کا آسکر ملا تھا۔علاوہ ازیں انتھونی ہاپکنز کا دوسرا ریکارڈ انہیں دیے جانے والے دو آسکرز ایوارڈز کے درمیان سب سے زیادہ وقفے کا ہے۔انتھونی ہاپکنز کو پہلی مرتبہ 1991 میں فلم ‘سائلنس آف دی لیمبز’ میں بہترین کارکردگی پر اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

اب 29 برس بعد انہیں فلم ‘دی فادر’ کے لیے بہترین اداکار کا دوسرا آسکر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یوں انہوں نے اداکار جیک نکلسن کا 22 برس کے وقفے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔معاون اداکارہ کا ایوارڈ یونگ یوجُنگ کے حصے میں آیا،کوریا سے تعلق رکھنے والی یونگ یوجُنگ کو فلم میناری کے لیے بہترین سپورٹنگ اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔

بہترین سنیما ٹوگرافی ایوارڈ اور پروڈکشن ڈیزائن ایوارڈ فلم مینک کے حصے میں آیا، بہترین اوریجنل سونگ ایوارڈ فائٹ فور یو کو، اور بیسٹ ساؤنڈ ایوارڈ ساؤنڈ آف میٹل کو ملا۔ اوریجنل اسکرین پلے ایوارڈ فلم پرومسنگ ینگ وومن کو، اڈاپٹڈ اسکرین پلے ایوارڈ فلم دی فادر کو، انٹرنیشنل فیچر فلم ایوارڈ ڈنمارک کی فلم این ادر راؤنڈ کو ملا، جب کہ فلم مارینیز بلیک بوٹم بہترین میک اپ اور ہیئر اسٹائل کے ساتھ ساتھ کوسٹیوم ڈیزائننگ کا بھی ایوارڈ لے اڑی۔

فلم جوڈس اینڈ دی بلیک مسائیا کے لیے ڈینیئل کلویا کو بہترین اداکار کا آسکر ملا۔مزاح اور جذبات سے بھرپور فلم سول کو بہترین اینیمیٹڈ فلم کا ایوراڈ ملا ہے۔ 2020 میں محدود پیمانے پر ریلیز کے باوجود اس فلم کو سراہا گیا تھا۔پہلی بار بہترین اداکاروں کی صف میں ایک مسلمان اداکار رز احمدشامل تھے جنھیں ’ساؤنڈ آف میٹل‘ کے لیے نامزد کیا گیا۔ وہ بہترین اداکار کا ایوارڈ تو نہ جیت پائے لیکن اس فلم کو بہترین ساؤنڈ کا انعام ضرور ملا جس کا اعلان کرنے کے لیے انھیں سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی تھی۔

جہاں آسکر ایوارڈ کی بات ہو رہی ہے، وہیں قارئین کی دلچسپی کے لئے اس ایوارڈ کی تاریخ اور دلچسپ حقائق کے بارے میں بتانا بھی ضروری ہے، اکیڈمی اف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کا قیام 1927 میں عمل میں آیا۔ موشن پکچر یا فلم کی تیاری کے تمام مراحل کے دوران اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اعزاز عطا کرنے کے طریق کار وضع کرنا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔

لاس انجیلس کے بالٹی مور ہوٹل کے کرسٹل بال میں منعقدہ ایک ڈنر اجلاس میں طے پایا کہ یہ ایوارڈ سالانہ دیا جائے۔ ایم جی ایم مووی سٹوڈیو کے آرٹ ڈائریکٹر سڈریک گبونس نے اس اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کا ڈیزائن تیار کیا۔ اس کی شکل ایک چھوٹے مجسمے جیسی تھی، لاس اینجلس ہی کے ایک مجسمہ ساز جارج اسٹینلے نے اس ڈیزائن کو عملی شکل دے دی۔اکیڈمی ایوارڈ یعنی آسکر ایوارڈ کی پہلی تقریب ہالی ووڈ روزویلٹ ہوٹل لاس انجیلس میں 1929 میں منعقد ہوئی۔

یہ ایک پرائیویٹ ڈنر تھا جس میں صرف 270 افراد شریک تھے، صرف پندرہ منٹ جاری رہنے والی اس تقریب میں بارہ اقسام کے ایوارڈ دیئے گئے۔ اس اکیڈمی ایوارڈ کا نام آسکر کیسے پڑا؟ اس بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں۔ لیکن سب سے مصدقہ کہانی یہ ہے کہ اکیڈمی کی لائبریرین مارگریٹ نے پہلی دفعہ ایوارڈ کی ٹرافی دیکھی تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا، ’اس کی شکل تو میرے چچا آسکر سے ملتی جلتی ہے۔’’ اس دن سے لوگوں نے اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کو آسکر کہنا شروع کر دیا۔

اکیڈمی نے بھی یہ نام 1939 میں اپنا لیا۔شروع میں آسکر ٹرافی یا مجسمہ ٹھوس کانسی سے بنا کر اس پر سونے کا ملمع چڑھا دیا جاتا تھا۔ بعد میں کانسی کی بجائے برٹانیا، جو کہ پیتل، نکل، اور چاندی کا مرکب کو اختیار کر لیا گیا، آخر میں مجسمے پر 24 قیراط سونے کا ملمع یا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔ یوں دیکھنے میں آسکر خالص سونے کا بنا ہوا نظر آتا ہے۔ مجسمے کا قد ایک فٹ ڈیڑھ انچ اور وزن ساڑھے آٹھ پونڈ ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران دھاتوں کی قلت کے سبب تین سال تک جو آسکر مجسے تقسیم کیے گئے وہ دھاتوں کی بجائے روغن شدہ پلاسٹر سے بنائے گئے تھے۔

جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد اکیڈمی نے انعام یا فتگان سے روغنی پلاسٹر والے آسکر واپس لے کر انھیں سونے کے غلاف والے دھاتی آسکر دے دئیے۔آسکر ایوارڈ کی تقریب کو ٹی وی پر نشر کرنے کا آغاز 1953 میں ہوا۔آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں سب سے کم عمر دس سالہ معاون اداکارہ ٹیٹم اونیل تھیں جنہیں 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم پیپر مون میں بہترین معاون اداکارہ کا کردار ادا کرنے پر یہ اعزاز ملا۔ سب سے زیادہ معمر بیاسی سالہ کرسٹوفر پلمر تھے جو کہ فلم بیگننرز (2010) میں بہترین معاون اداکار ہونے کی وجہ سے اس اعزاز کے مستحق قرار پائے ( یہ ریکارڈ انتھونی ہالکنز نے رواں برس توڑ دیا تھا)۔

ہنری فونڈا کو 76 سال کی طویل عمر میں فلم آن گولڈن پونڈ (1981) میں بہترین اداکاری پر آسکر ایوارڈ ملا۔ مرد اداکاروں میں سب سے کم عمر 29 سالہ ادرین بروڈی تھے جنہیں دی پینسٹ (2002) میں بہترین اداکاری کے جوھر دکھانے پر آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔والٹ ڈزنی 59 بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کئے گئے اور وہ سب سے زیادہ یعنی 22 آسکر لے اڑے۔ انھیں چار اعزازی آسکر حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اداکاروں میں جیک نکلسن سب سے زیادہ بارہ بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے اور انہوں نے تین آسکر حاصل کر لئے۔ موسیقار جان ولیمز 49 بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے اور پانچ آسکر لینے میں کامیاب ہو گئے۔مرحوم ادکار پیٹر آوٹول آٹھ بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے مگر ایک بھی آسکر نہ لے سکے۔ آخر اکیڈمی نے ترس کھا کر 2003 میں انھیں ایک اعزازی آسکر سے نواز دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں