21

ایک گلاس دودھ روزانہ، امراضِ قلب سے چھٹکارا

دودھ کا باقاعدہ استعمال امراضِ قلب سے بچاتا ہے۔ فوٹو: فائل

دودھ کا باقاعدہ استعمال امراضِ قلب سے بچاتا ہے۔ فوٹو: فائل

ملبورن، آسٹریلیا: اگرچہ یہ کچھ عجیب خبر ہے لیکن لاکھوں لوگوں پر کئے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ دودھ کا باقاعدہ استعمال مضر کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور دل کے امراض کا خدشہ کم ہوجاتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں 20 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ دودھ پینے والوں کے جسم میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے لیکن مضر کولیسٹرول کی سطح کم رہتی ہے اور لامحالہ امراضِ قلب کا خطرہ کم کم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کی مکمل سائنسی وجہ سامنے نہیں آسکی کیونکہ ہم دودھ کو قدرے مختلف انداز میں ہضم کرتے ہیں۔

24 مئی کو انٹرنیشنل جرنل آف اوبیسٹی میں شائع ایک طویل تحقیق کے مطابق یونیورسٹی آف ریڈنگ، یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا اوریونیورسٹی آف آکلینڈ کے سائنسدانوں نے برطانیہ میں لگ بھگ 20 لاکھ افراد کا ڈیٹا دیکھا ہے۔ اس میں جینیاتی سطح پردودھ پینے والے افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ ایک جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے وہ لیکٹوز ہضم کرلیتے ہیں اور اسی بنا پر ان میں دودھ پینے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔

اگرچہ دودھ پینے کی عادت باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں اضافے کی وجہ بنتی ہے لیکن اس سے اچھے اور برے دونوں قسم کے کولیسٹرول کم ہوتے ہیں۔ مجموعی طورپردودھ پینے سے امراضِ قلب میں 14 فیصد تک کمی ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دودھ سیرشدہ چکنائی والی غذا ہونے کے باوجود بھی یہ دل کی بیماریوں کی وجہ نہیں بنتا۔ یعنی یہ سرخ گوشت جیسا خطرناک ہرگز نہیں ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ شاید دودھ میں کوئی ان دیکھا کیمیائی مرکب ہے جو دل کو تندرست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری جانب یہ رگوں اور شریانوں کی تنگی کو بھی دور کرتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں