16

’ببل‘ کرکٹرزکیلیے خوف کی علامت بننے لگا

نفسیاتی دباؤ سے بچانے کے لیے متبادل ٹرم استعمال کرنے پر سوچ بچار جاری

نفسیاتی دباؤ سے بچانے کے لیے متبادل ٹرم استعمال کرنے پر سوچ بچار جاری

 لندن:  لفظ ‘ببل’ کرکٹرز کیلیے خوف کی علامت بننے لگا, ایک برس تک بائیوسیکیور ماحول میں رہنے کے منفی اثرات پڑنے لگے, انگلینڈ نے اس لفظ پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ کرلیا، انگلش کرکٹ ڈائریکٹر ایشلے جائلز متبادل ٹرم استعمال کرنے کے خواہاں ہیں، کرکٹرز کو بہلانے کیلیے ’کنٹرول ماحول‘ کا نام دیا جاسکتا ہے، سلیکشن سے قبل ماہر نفسیات پلیئرز کی ذہنی کیفیت کے بارے میں رپورٹ دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ نے گذشتہ برس اپنے 300 ملین پاؤنڈ بچانے کیلیے کورونا وائرس کی موجودگی میں سب سے پہلے کرکٹ کھیلنا شروع کی, وائرس اے محفوظ رہنے کیلیے انگلش بورڈ کی جانب سے ہی سب سے پہلے بائیو سیکیور ماحول تیار کیا جس کو بائیوببل کا نام دیا گیا, انگلینڈ کے کامیاب ہوم سیزن کے بعد دوسرے ممالک نے بھی بائیوببل میں اپنی کرکٹ شروع کردی, اب دنیا بھر میں بائیوسیکیور ماحول میں ہی کرکٹ کھیلی جارہی اور ہر جگہ پر اس کو بائیوببل کا ہی نام دیا جاتا ہے, اب اس لفظ ببل سے ہی کھلاڑی گھبرانے لگے ہیں۔

ایک برس سے ہوٹل اور وینیوز تک محدود رہنے کی وجہ سے وہ اب اکتانے لگے ہیں, حال ہی میں بہت سے کرکٹرز نے بائیوسیکیور ماحول کی شدت کے باعث مختلف ایونٹس سے دستبرداری بھی اختیار کی ہے، اسی نفسیاتی دباؤ سے بچانیکیلیے انگلش بورڈ اب لفظ ببل پر ہی پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے, ای سی بی کے ڈائریکٹر مینز کرکٹ ایشلے جائلز چاہتے ہیں کہ ببل کیلیے کوئی متبادل ٹرم استعمال کی جائے تاکہ کھلاڑیوں کو نفسیاتی دباؤ سے بچایا جاسکے۔

اس مقصد کیلیے’ کنٹرول ماحول’ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاسکتی ہے, ایشلے جائلز کی ہیر کے روز ہیڈ کوچ کرس سلور ووڈ کے ساتھ اہم میٹنگ بھی ہے جس میں نیوزی لینڈ سے پہلے ٹیسٹ کیلیے اسکوڈ کے انتخاب پر بات چیت ہوگی, پہلی بار ٹیم کے انتخاب کی مکمل ذمہ داری ہیڈ کوچ کے کندھے پریے، میٹنگ میں ٹیسٹ کپتان جوئے روٹ کے ساتھ مختلف اسپیشلسٹ بھی شریک ہوں گے جن ایک ماہر نفسیات بھی موجود ہوں گے جوکہ ہر کھلاڑی کی ذہنی کیفیت کے بارے میں رپورٹ دیں گے کہ وہ ایک بار پھر بائیوسیکیور ماحول میں داخل ہونے کو تیار ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ منتخب کرکٹرز پہلے 5 روز اپنے گھر پر کنٹرول ماحول میں گزاریں گے اور پھر اگلے 5 دن لندن کے ہوٹل میں بائیوسیکیور ماحول میں گزاریں گے, نیوزی لینڈ سے پہلا ٹیسٹ 2 جون سے شیڈول ہے۔

انگلینڈ نے اس ہوم سیزن میں نیوزی لینڈ سے 2 اور بھارت سے 5 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے علاوہ سری لنکا اور پاکستان کے ساتھ محدود اوورز کی سیریز بھی کھیلنی ہیں، جس کے بعد اسے ورلڈ کپ سے قبل بنگلہ دیش اور پاکستان کا ٹور بھی کرنا ہے اور سال کے آخر میں ایشز سیریز کیلیے آسٹریلیا بھی جانا ہے، اس مصروف ترین شیڈول کی وجہ سے کھلاڑیوں کو کنٹرول ماحول میں رہنا ہوگا، جہاں ایک بار پھر وہ وینیوز اور ہوٹل تک ہی محدود رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں