31

بزرگوں کو 40 فیصد تیزی سے چلانے والا بیرونی ڈھانچہ

بیرونی ڈھانچے کی بدولت بوڑھے افراد اب معمول سے 40 فیصد زائد تیز چل سکتے ہیں۔ فوٹو: اسٹینفرڈ یونیورسٹی

بیرونی ڈھانچے کی بدولت بوڑھے افراد اب معمول سے 40 فیصد زائد تیز چل سکتے ہیں۔ فوٹو: اسٹینفرڈ یونیورسٹی

اسٹینفرڈ: اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک بیرونی ڈھانچہ بنایا ہے جسے پہن کر عمر رسیدہ افراد کے چلنے کی رفتار 40 فیصد تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

اگرچہ اسے بیرونی ڈھانچہ یا ایکسو اسکیلیٹن کہا جاتا ہے لیکن ہم اسے مشینی ٹخنہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ٹخنے سے لے کر پنڈلی تک کو گھیرتا ہے اور بوڑھے لوگوں کا مددگار بن سکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ بوڑھے افراد کے چلنے کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ عمومی کمزوری اور گھٹنے کے عضلات کی ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔۔ اب نیا نظام مشقت کا کچھ بوجھ خود اٹھاتا ہے اور جوتا پہننے پر پنڈلی کے آگے کی ہڈی کو سہارا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ اپنے چلنے کی رفتار بھی ازخود سیٹ کرسکتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں اسے ایک دوڑنے والے بیلٹ (ٹریڈمل) پر آزمایا گیا جہاں بیرونی ڈھانچے کو ایک تار سے بجلی دی گئی اور اس کی پشت پر کمپیوٹر الگورتھم کام کررہا تھا۔ جیسے ہی پہننے والا چلتا ہے ایکسو اسکیلیٹن مشینی پنڈلی کی طرح کام کرتے ہوئے ایڑھی کو آگے کرتا ہے اور انگلیوں کو نیچے لاتا ہے۔ اس سے پہننے والے کی رفتار 40 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔

پہلے مرحلے پراسے دس تندرست رضاکاروں پر آزمایا گیا۔ عام جوتوں میں انہیں پانچ مختلف انداز میں چلایا گیا۔ ٹریڈ مل پر الگورتھم پر چلایا گیا اور 150 قدم کو نوٹ کیا گیا تو رضاکاروں کی رفتار 40 فیصد زائد دیکھی گئی۔ اگلے مرحلے میں اس نمونے کو مختصر، آرام دہ اور تجارتی فروخت کے لیے تیار کیا جائے گا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں