16

بغیر سرجری ہاتھوں پر اضافی انگوٹھا لگانے کا کامیاب تجربہ

برطانوی سائنسدانوں نے روبوٹک انگوٹھا بنایا ہے جو کلائی اور پیرکے انگوٹھے کے اشاروں سے کام کرتا ہے۔ فوٹو: فائل

برطانوی سائنسدانوں نے روبوٹک انگوٹھا بنایا ہے جو کلائی اور پیرکے انگوٹھے کے اشاروں سے کام کرتا ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: اگر آپ کا دل چاہتا تو اب اپنے ایک یا دونوں ہاتھوں پر کم خرچ اور برق رفتار اضافی انگوٹھا پہن سکتے ہیں جس کے لیے کسی سرجری کی ضرورت بھی نہیں۔

اضافی روبوٹک انگوٹھے کو کنٹرول کرنے کے لیے پیر کے انگوٹھے اور کلائی پر خاص قسم کے سینسر لگائے گئے تھے جو وائرلیس رابطے کی بدولت انگوٹھے کو عین حقیقی عضو کی طرح ہی حرکت میں لاتے ہیں۔ اگرچہ یہ برائے فروخت نہیں کیونکہ اس کا مقصد اضافی انگوٹھے کے انسانی دماغ پر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ڈینیئل کلوڈ اور ان کے ساتھیوں نے 36 رضا کاروں کو مصنوعی انگوٹھا لگایا جو کلائی پر پٹے کی صورت میں باندھا گیا تھا اور مشینی انگوٹھا چھوٹی انگلی کے ساتھ حقیقی انگوٹھے کی مخالف سمت نصب کیا گیا تھا۔

جن افراد کو انگوٹھا پہنایا گیا تھا وہ سیدھے ہاتھ والے تھے اور انہوں نے اسی ہاتھ پر پہنا جسے وہ زیادہ استعمال کرتے تھے۔ پانچ روز تک شرکا کو تجربہ گاہ اور حقیقی صورتحال میں مشینی انگوٹھے کا استعمال کرایا گیا ۔

پاؤں کے انگوٹھے کے سگنل وائرلیس رابطے کے ذریعے کلائی پر بندھے ریسیور تک پہنچے اور وہاں سے انہوں نے تیسرے انگوٹھے کو کنٹرول کیا۔ اس طرح معذور افراد بھی اپنے پیر کا انگوٹھا ہلا کر انگوٹھے کو ہر سمت میں گھمانے کے ساتھ ساتھ اس سے چھوٹی اشیا کو بھی گرفت کرسکتے ہیں۔

ڈینیئل کلوڈ کہتے ہیں کہ ان تجربات کا مقصد یہ تھا کہ ہم جان سکیں کہ آخر انسانی جسم کے ممکنات کیا کچھ ہوسکتے ہیں اور کس طرح سے وہ اشیا کو مختلف انداز سے گرفت کرسکتے ہیں۔ اس کا دلچسپ احوال ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک انگوٹھے کے اضافے سے اب ایک ہی ہاتھ سے کیل چھیلا جاسکتا ہے، چائے میں چینی ملانے کا چمچہ ہلایا جاسکتا ہے اورایک ہی ہاتھ سے کتابوں کے اوراق پلٹے جاسکتے ہیں۔

تجرباتی طور پر تمام شرکا نے روزانہ تین گھنٹے تک انگوٹھے کا استعمال کیا ۔ اس دوران کئی افراد کے دماغ کا جائزہ ایم آر آئی کے ذریعے کیا گیا۔ اسی طرح تجربات سے پہلے اور بعد میں بھی دماغی سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھا گیا۔

ہمارا دماغ ہر انگلی کو یکساں سمجھتے ہوئے اسے کنٹرول کرتا ہے۔ پھر ایک انگلی مڑنے سے دوسری انگلی کا سگنل بھی جاتا ہے۔ جب ایک ہفتے بعد شرکا کو بلایا گیا تو 12 خواتین و حضرات کے دماغ میں یہ اثر کمزور دیکھا گیا۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اضافی انگوٹھا پہننے سے دماغی سرکٹ میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مشینی انگوٹھے کا استعمال بڑھا ویسے ویسے عوام اس کے عادی ہوتے چلے گئے اور بڑی مہارت سے اشیا تھامنے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں