14

بڑے بڑے مافیاز کو قانون کے کٹہرے میں لانا میرا مشن ہے، وزیراعظم

اگلے مرحلے میں پنجاب کے تمام شہریوں کو صحت کارڈ دیے جائیں گے۔(فوٹو:فائل)

اگلے مرحلے میں پنجاب کے تمام شہریوں کو صحت کارڈ دیے جائیں گے۔(فوٹو:فائل)

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف قانون کی حکم رانی کی جنگ لڑرہی ہے، مافیازبلیک میل کرناچاہتی ہیں، انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں حکومت کام یاب نہ ہوجائے، لیکن مافیاز ہمیں ناکام نہیں کر سکتی۔

وزیر اعظم عمران خان نےنوکنڈی تاماشکیل شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی ورچوئل تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف قانون کی حکم رانی کی جنگ لڑرہی ہے، مافیا بلیک میل کرناچاہتاہے، وہ کہتے ہیں کہ اگراین آراونہ دیا توحکومت گرادیں گے، مخالفین کواپنی سیاسی موت نظرآرہی ہے، مافیاکوخوف ہےکہ حکومت کام یاب نہ ہوجائے، لیکن یہ ہمیں ناکام نہیں کر سکتے، 5 سال بعد دیکھنا چاہتا ہوں کہ مافیاز کو قانون کے نیچے لے کر آؤں۔

ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کی خواہش ہے کہ حکومت ناکام ہو جائے، وفاق میں حکومت میں آئے تو پہلے ہی دن کہا گیا کہ ناکام ہو گئے، مخالفین کہتے تھے کہاں ہے نیا پختونخوا؟، ہم کے پی میں دوتہائی اکثریت لے کر دوبارہ واپس آگئے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں قانون کی نہیں طاقت کی حکم رانی تھی، وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا جہاں قانون کی بالادستی نہ ہو، جب قانون کےسامنےسب برابرنہیں ہوتو وہاں جنگل کاقانون ہوتاہے، مدینہ کی ریاست میں قانون کی بالادستی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت کوبہت خراب معاشی حالات ملے، اتنے معاشی مسئلے کسی حکومت کو نہیں ملے جو ہماری حکومت کو ملے، اقتدار میں آنے کے بعد پہلا سال معیشت کوسنبھالنے میں لگا اوردوسرے سال کوروناآگیا، ہم نےمعیشت اورعوام دونوں کو کورونا سےبچایا، دنیابھر میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ کورونا میں جس ملک نے اپنی معیشت کو بچایا وہ پاکستان ہے، ایس او پیز پر عملدرآمد کریں تو اس مشکل وقت سے بھی نکل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  اگر قرضوں کی قسطیں ادانہ کرتے توڈیفالٹ کرجاتے، 50 سال بعد پاکستان کی انڈسٹری ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے بلوچستا ن کو چھوڑ دیا گیا، جس کی وجہ سے بلوچستان دیگر صوبوں سے پیچھے رہ گیا ہے، ماضی میں بلوچستان کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی، بلوچستان کے لوگوں کو یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ان کی کوئی فکر نہیں کرتا، پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو مرکزی دھارے میں لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نوکنڈی وہ علاقہ ہے جسے ملک بھول چکا تھا، سڑک کی تعمیر پر این ایچ اے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس شاہراہ کے بہت دوررس نتائج ملیں گے، ملک کے مستقبل کےلیے علاقوں کو جوڑنا بہت ضروری ہے، نوکنڈی سے ماشکیل ملک کا پسماندہ ترین علاقہ ہے، بلوچستان کا ایک مسئلہ علاقوں میں بہت زیادہ فاصلہ ہے، کوشش ہے کہ ہر علاقے میں ٹرک چلیں تا کہ کوئی بھوکا نہ سوئے، ہماری کوشش ہے کہ مزدور کو مفت کھانا اور رہائش دیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں سب سے زیادہ امیر اور غریب میں فرق ہے، چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، چین نےکرپشن پر425 وزیروں کوجیل میں ڈالا۔

ہماری اولین ترجیح غربت کا خاتمہ ہے، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کو ہیلتھ کار ڈ مل گیا ہے، اگلے مرحلے میں پنجاب کے تمام شہریوں کو صحت کارڈ دیے جائیں گے۔ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے ملک میں پہلی بار ایک نصاب لے کر آ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں