16

بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی ماہرہ خان کو بھارت میں کام نہ کرنے دینے کی دھمکی

ماہرہ خان سمیت کسی پاکستانی فنکار کو بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، امیا کھوپکر فوٹوفائل

ماہرہ خان سمیت کسی پاکستانی فنکار کو بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، امیا کھوپکر فوٹوفائل

ممبئی: ہندو انتہا پسند جماعت نونرمن سینا کے سینما ونگ کے صدر امیا کھوپکر نے دھمکی دی ہے کہ ماہرہ خان سمیت کسی پاکستانی فنکار کو بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راج ٹھاکرے کی سیاسی جماعت مہاراشٹرا نونرمان سینا کے سینما ونگ کے صدر امیا کھوپکر  نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہرہ خان سمیت کسی پاکستانی فنکار کو  یہاں مہاراشٹرا یا بھارت کے کسی بھی حصے میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سیاسی جماعت کا یہ ردعمل اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے جب ماہرہ خان نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ انہیں بھارتی پراجیکٹس کی پیشکش ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ماہرہ خان نے پاکستانی فنکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا پاکستانی فنکاروں کی بھارت میں پابندی نے مجھے غمگین کردیا۔ میں خود بھارت میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کرچکی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر کے فنکاروں سے ایک ساتھ کام کرکے اپنا تجربہ شیئر کرنے کا موقع چھین لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرہ نے پاکستانی فنکاروں کی بھارت میں پابندی کو مایوس کن قرار دیدیا

ماہرہ خان نے مزید کہا تھا کہ انہیں بھارتی پراجیکٹس کی پیشکش ہورہی ہے لیکن پاکستانی فنکاروں پر بھارت میں پابندی کی وجہ سے میں نے بہت سی بھارتی ویب سیریز میں کام کرنے کی حامی نہیں بھری کیونکہ مجھے ان پراجیکٹس میں کام کرنے پر خوف محسوس ہورہا تھا۔

یاد رہے ماہرہ خان نے 2017 میں بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’’رئیس‘‘ میں کام کیا تھا۔ تاہم وہ پاکستانی فنکاروں پر پابندی کی وجہ سے اپنی فلم کی تشہیری مہم میں شریک نہیں ہوسکی تھیں۔

2016 میں اڑی حملے کے بعد بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پر پابندی لگادی گئی تھی۔ جو آج تک برقرار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں