43

بیورو کریسی کو کام کرنا اور منتخب نمائندوں کو احترام دینا ہو گا، فواد چوہدری

اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کو نوٹس دے رہی ہیں، فواد چوہدری  فوٹو: فائل

اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کو نوٹس دے رہی ہیں، فواد چوہدری فوٹو: فائل

 لاہور: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بیورو کریسی کو کام کرنا ہوگا اور منتخب نمائندوں کو احترام دینا ہو گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ڈھائی سال جو باقی ہیں یہ ڈلیوری کے سال ہیں۔ بیورو کریسی کو کام کرنا ہوگا اور منتخب نمائندوں کو احترام دینا ہو گا، وزیر اعظم کی جانب سے بیوروکریسی کے لئے پیغام ہے کہ کام کریں، اگر چیف سیکرٹری کام نہیں کر پارہے تو گھر جائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کو نوٹس دے رہی ہیں، پی ڈی ایم کی آدھی جماعتیں پیپلزپارٹی اور آدھی (ن) لیگ سے ملی ہوئی ہیں، پہلے یہ عمران خان کے خلاف تھے اب یہ آپس میں لڑرہے ہیں، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نابالغوں کی جماعتیں بن گئی ہیں، ان کی بچکانہ سیاست ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سکڑ رہی ہیں، تحریک انصاف وفاق کی واحد جماعت ہے، پیپلزپارٹی اب اندرون سندھ کی جماعت بن کررہ گئی، پیپلز پارٹی میں جو بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھے وہ اب تحریک انصاف میں ہیں، جو کام ضیاالحق نہیں کرسکا وہ آصف زرداری نے کردیا، مریم نواز کی سیاست نے (ن) لیگ کو وسطی پنجاب تک محدود کردیا ہے۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ ہم مستقبل کی بنیاد سائنس اور ٹیکنالوجی پر رکھنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی وفاق کی جماعت ہونے کے ناطے متبادل پلیٹ فارم فراہم کررہی ہے۔ حکومت پیش کش کر رہی ہے کہ آئیں مل کر اس پر بات کریں لیکن اپوزیشن اس پر روٹھے بچے کی طرح کر رہی ہے، اپوزیشن کو عمران خان فوبیا سے اب نکل آنا چاہیے، جب ہم اصلاحات کررہے ہیں تو آپ اس میں شامل نہیں ہوتے،نوازشریف اور زرداری کے مقدمات پر تو صرف بات نہیں کرنی، عوام بھی عدالتی نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں، اگلے الیکشن ہم الیکڑانک ووٹنگ سسٹم کے ذریعے کروانا چاہتے ہیں، جونہی پولنگ ختم ہو گی الیکٹرانک مشین کے باعث فوری نتائج مل جائیں گے۔ حکومت پیش کش کر رہی ہے کہ آئیں مل کر بات کریں لیکن اپوزیشن اس پر روٹھے بچے کی طرح کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی لارہے ہیں ، نواز شریف اور مریم چاہتے ہیں کہ سسٹم ختم ہو جائے کیونکہ ان کا کوئی اسٹیک نہیں، پیپلز پارٹی کا اسٹیک ہے وہ کیوں چاہے گی سسٹم ختم ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں