77

ترک ڈراموں کا اثر، نوجوان تیر اندازی اور تلوار بازی سیکھنے لگے

سندھ آرچری انجمن تعلیمی اداروں میں ورکشاپ کرانے لگی ۔ فوٹو : ایکسپریس

سندھ آرچری انجمن تعلیمی اداروں میں ورکشاپ کرانے لگی ۔ فوٹو : ایکسپریس

 کراچی:  ترک تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرنے والی ارطغرل غازی اور عثمان جیسی ٹی وی سیریز نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو ایک نئے انداز سے منوانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ترک ثقافت اور تاریخ کے ساتھ ایمان کی حرارت بڑھانے والی سیریز نوجوانوں کو پب جی جیسی پرتشدد سرگرمیوں سے دور کرکے صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کررہی ہیں، کراچی میں کھیلوں کی اکیڈمیوں میں تیر اندازی اور تلوار بازی سیکھنے کے خواہش مند افراد بالخصوص نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

فلم، ڈرامہ اور میڈیا سے نشر ہونے والا مواد کسی بھی معاشرے پر مخصوص سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے کچھ ایسے ہی اثرات ترک ڈرامہ سیریز کی وجہ سے پاکستان کے نوجوان پر بھی مرتب ہورہے ہیں نوجوانوں کی بڑی تعداد ارطغرل غازی اور عثمان جیسی لازوال ترک ٹی وی سیریز سے متاثرہوکر تیر اندازی اور تلوار بازی جیسی صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب ہورہے ہیں اور بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ ہر عمر کے افراد ان سرگرمیوں کے ذریعے خود کو اسلام کے عروج کا ذریعہ بننے والی فنون حرب سے جوڑ رہے ہیں، ترک ڈراموں میں دشمنوں اور ظالموں پر قہر بن کر ٹوٹنے والے کردار نوجوانوں کے لیے مثال بن چکے ہیں۔

لڑکے ارطغرل غازی، نور گل، بامزی اور عثمان کی طرح مہارت سے تلوار چلانے اور تیر سے نشانہ لگانے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں تو وہیں لڑکیاں بھی حلیمہ سلطانہ، آئیکز خاتون اور بانو چیک سے متاثر نظر آتی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آرچری (تیر اندازی) سکھانے والے کلبوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اسکولوں کی سطح پر بھی تیر اندازی سکھانے کے لیے خصوصی ورکشاپس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

حفاظتی تدابیرکیساتھ تلوارسے تربیت فراہم کی جاتی ہے،سقراط فاروقی

نارتھ ناظم آباد پرنس مارشل آرٹ اکیڈمی کے تحت تلوار بازی کی تربیت کا سلسلہ ترک ڈراموں سے قبل شروع کیا گیا تاہم اس میں نوجوانوں کی دلچسپی محدود رہی۔

مارشل آرٹ انسٹرکٹر سقراط احمد فاروقی کے مطابق انھوں نے ترک ڈرامے سے قبل ہی سنت کو عام کرنے کی نیت سے مارشل آرٹ میں تلوار بازی کی تربیت دینا شروع کی لیکن اس میں دلچسی محدود تھی، ترک ڈراموں کے اثرات کی وجہ سے نوجوانوں کے علاوہ بڑی عمر کے افراد بھی اب تلوار بازی سیکھنا چاہتے ہیں اور ان سے رابطہ کرتے ہیں، انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ترک ڈراموں کا معاشرے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

ارطغرل اورعثمان کے کرداروں کے ملبوسات، ٹوپیوں اورلکڑی کے ہتھیاروں کی فروخت شروع

ترک ڈراموں کی پاکستان میں مقبولیت سے کاروباری مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں، چھوٹے پیمانے پرکاروبارکرنے والوں نے ارطغرل اورعثمان کے کرداروں کے ملبوسات، ہتھیار اور ٹوپیوں سے مماثلت رکھنے والے لباس اور مصنوعی ہتھیار فروخت کرناشروع کردیے ہیں، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے ای کامرس ویب سائٹس پرلاتعدادریٹیلرزترک ڈرامے میں دکھائے جانے والے تاریخی اورثقافتی ملبوسات فروخت کرکے روزگارکمارہے ہیں، ارطغرل لباس کا سیٹ 2000 سے 3000 تک فروخت ہورہاہے جبکہ لکڑی سے بنی تلواریں،کلہاڑا، تیرکمان بھی مختلف قیمتوں پرفروخت کیے جارہے ہیں۔

تیر اندازی کی مہنگی کمانیں اور تیر بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں

تیر اندازی کے لیے مختلف رینج کی کمانیں بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جو کافی مہنگی ہونے سے عام طبقہ کی قوت خرید سے باہر ہوتی ہیں سندھ آرچری ایسوسی ایشن تربیت کیلیے کمانیں تیر اور نشانہ کے ہدف سمیت تمام سامان مہیا کرتی ہے، اب سیالکوٹ میں تیار ہورہی ہے لاگت 3گنا کم ہوچکی ہے۔

تیراندازی خطرناک کھیل ہےماہر تیراندازسے سیکھنا چاہیے

ماہر تیر انداز فرخ بلال کا کہنا ہے کہ تیر اندازی جیسے کھیلوں سے نوجوانوں کو نہ صرف اپنی توجہ مرکوز کرنے فٹنس بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ یہ کھیل نوجوانوں میں پائے جانے والے جوش کو کارکردگی کے اظہار کا ذریعہ بنانے، غصہ پر قابو پانے کی بھی تربیت فراہم کرتا ہے، فرخ بلال نے کہا کہ تیر اندازی ایک خطرناک کھیل ہے جسے ہرگز کوالیفائڈ ٹرینر کے بغیر نہیں سیکھنا چاہیے گھروں میں اس کی مشق کرنے کے بجائے کلب میں آکر محفوظ ماحول میں ماہر اساتذہ کے زیر نگرانی تربیت لینی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے سندھ آرچری ایسوسی ایشن نے 60ماسٹر ٹرینر تیار کیے ہیں۔

تلوار بازی کی مشق پورے جسم کی ایکسرسائز ہے

سقراط احمد فاروقی نے بتایا کہ فن تلوار بازی کی بنیادی تکنیک ایک ماہ میں سکھادی جاتی ہے لیکن اس کے عملی مظاہرے پر مہارت حاصل کرنے کے لیے دو سے تین ماہ میں ایڈوانس تربیت دی جاتی ہے اور چھ ماہ کی مشق سے سیکھنے والے ضرورت پڑنے پر تلوار سے اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

سقراط احمد فاروقی نے اس رجحان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ موبائل اور ٹی وی اسکرین پر گھنٹوں پرتشدد گیم کھیلنے والے بچوں کی صحت اور بینائی خراب ہورہی ہے اور بچوں کی جسمانی فٹنس کے مسائل ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہورہی ہے لیکن بچے ترک ڈراموں سے متاثر ہوکر مارشل آرٹ، تیر اندازی اور تلوار بازی کی جانب راغب ہورہے ہیں اور اس فن میں اچھی خاصی مہارت حاصل کرچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے زیر تربیت 40 فیصد بچے تلوار بازی ضرورسیکھتے ہیں اور ہرماہ اس تناسب میں اضافہ ہورہا ہے تلوار بازی کی مشق کی افادیت بتاتے ہوئے سقراط احمد فاروقی نے کہا کہ یہ پورے جسم کی ایکسرسائز ہے اور سنت بھی ہے میں جب کسی کو تلوار بازی سکھاتا ہوں تو اسے تلقین کرتا ہوں کہ اسے سنت سمجھ کر سیکھے کیونکہ تلوار نبی کریمؐ کی سنت ہونے کے ساتھ مسلمان بادشاہوں کی شان تھی اور اسلامی روایات کا حصہ ہے یہ ایک ایکسرسائز ہونے کے ساتھ قدیم فن ہے جسے ترک ڈراموں کی وجہ سے زندہ کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

سندھ آرچری انجمن تعلیمی اداروں میں ورکشاپ کرانے لگی

ماہر تیر انداز، انسٹرکٹر اور سندھ آرچری ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری فرخ بلال نے ایکسپریس کو بتایا کہ آرچری کا کھیل عوامی سطح پر مقبول بنانے اور نوجوانوں کو تیر اندازی کی جانب راغب کرنے میں ارطغرل غازی اور عثمان جیسی لازوال ترک ٹی وی سیریز بے حد موثر کردار ادا کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈرامہ کے بعد سے بچوں میں سیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکول کالجز رابطہ کررہے ہیں تاکہ باضابطہ ورکشاپس کی جاسکیں، سندھ آرچری ایسوسی ایشن کے تحت کراچی کے مختلف اسکولوں اور کالجز میں تربیتی ورکشاپ منعقد کی جارہی ہیں جس میں بچوں نوجوانوں کے ساتھ ہر عمر کے افراد بھی دلچسپی لے رہے ہیں جس سے اس کھیل کا مستقبل تابناک نظر آرہا ہے۔

فرخ بلال نے کہا کہ نوجوانوں میں پب جی جیسے گیمز اور دیگر آن لائن شوٹنگ گیمز اور انٹرنیٹ کے اثرات ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو زنگ آلود کررہے تھے تاہم ترک ڈراموں کی وجہ سے اب نئی نسل اپنی تاریخ اور تاریخی ہتھیاروں اور فنون حرب سے روشناس ہورہی ہے جو مذہبی لحاظ سے بھی ہر مسلمان کے لیے اہمیت کا حامل ہے، تیراندازی کے کھیل اور شوق سے نوجوانوں کی ذہنی کارکردگی اور جسمانی فٹنس کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں