20

تیزرفتار پی سی آر ٹیسٹ اور وہ بھی ایک چپ پر

تصویر میں دکھائی دینے والی چھوٹی سی چپ روایتی پی سی آر آلات کے مقابلے میں صرف 8 منٹ میں درست نتائج فراہم کرکے کووڈ 19 کے علاج میں مدد دیتی ہے۔ فوٹو: اے سی ایس نینو جرنل

تصویر میں دکھائی دینے والی چھوٹی سی چپ روایتی پی سی آر آلات کے مقابلے میں صرف 8 منٹ میں درست نتائج فراہم کرکے کووڈ 19 کے علاج میں مدد دیتی ہے۔ فوٹو: اے سی ایس نینو جرنل

 نیویارک: کووڈ وبا کے تناظر میں ہم نے پی سی آر ٹیسٹ کے نام سنا جو جینیاتی طور پر نہ صرف کورونا بلکہ بہت سے بیماریوں کا ٹیسٹ اور ڈی این اے شناخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس ضمن اب پورا پی سی آر ایک چپ پر منتقل کردیا گیا ہے۔  

ریورس ٹرانسکرپشن  پولمریز چین ری ایکشن (آرٹی پی سی آر) کی مدد سے کووڈ 19 کی شناخت میں بہت مدد ملی ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت مہنگے اور بھاری بھرکم آلات کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹیسٹ میں کم ازکم ایک گھنٹہ ضرور لگتا ہے۔ اب امریکن کیمیکل سوسائٹی کے جرنل میں اس تیزرفتارپی سی آر چپ کی روداد شائع ہوئی ہے۔ اس میں موجود پلازمومائع کی بدولت صرف 8 منٹ میں نتیجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح موجودہ اور مستقبل کی وباؤں کی شناخت میں یہ چپ انقلابی تبدیلیاں لاسکتی ہے۔

سائنسدانوں نے ڈاک ٹکٹ جتنی ایک چپ بنائی ہے جسے ’پولی ڈائی میتھائل سائلوکسین چپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں پی سی آر ری ایکشن کے چھوٹے چھوٹے چیمبر(خانے) موجود ہیں۔ جیسے ہی چپ پر تجزیاتی نمونے کا ایک قطرہ ڈالا جاتا ہے ایک ویکیوم انہیں اندر کھینچ لیتا ہے۔ اس کے اندر شیشے کے باریک ستون ہیں اور ان میں سونے کے نینوابھار ہیں تاکہ کسی قسم کا کوئی بلبلہ نہ بننے پائے جو نتائج پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

جب چپ کے نیچے سفید ایل ڈی جلائی جاتی ہے تو اس کی روشنی حرارت میں بدل جاتی ہے اور لائٹ بند ہوتے ہی وہ تیزی سے ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ ماہرین نے سارس کوو ٹو وائرس کے کے حامل جین کا ڈی این اے اس آلے پر رکھا تو ایل ای ڈی 40 مرتبہ بند آن اور آف ہوئی۔ اس طرح بہت گرم اور ٹھنڈک کے کئی چکر چلائے گئے تو صرف پانچ منٹ میں کووڈ 19 کو شناخت کرلیا گیا۔ سیمپل کو اندر رکھنے میں تین منٹ لگے۔اس طرح چپ نے صرف 8 منٹ میں نتیجہ ظاہر کردیا جو 91 فیصد تک درست تھا۔ روایتی پی سی آر 98 فیصد تک درست ہوتے ہیں لیکن ان کے نتائک میں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

اس انقلابی چپ سے نہ صرف مختلف امراض کی شناخت میں مدد ملے گی بلکہ اسے غریب اور دورافتادہ علاقوں میں بھی امراض کی تشخیص میں استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں