30

حضرت لقمان حکیم اور انکے بیٹے کا واقعہ

حضرت سیدنا سعید بن مُسَیب فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ حضرت سیدنا لقمان حکیم علیہ رحمۃ اللہ الرحیم نے اپنے بیٹے کو (نصیحت کرتے ہوئے )فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! جب بھی تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو تُواسے اپنے حق میں بہتر جان اور یہ بات دِل میں بٹھالے کہ میرے لئے اسی میں بھلائی ہے اگر چہ بظاہر وہ مصیبت ہی نظر آرہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ تیرے حق میں بہتر ہوگی۔”

یہ سن کر آپ کا بیٹاکہنے لگا : ”جو کچھ آپ نے فرمایامیں نے اس کو سن لیا او راس کا مطلب بھی سمجھ لیا لیکن یہ بات میرے بس میں نہیں کہ میں ہر مصیبت کو اپنے لئے بہتر سمجھوں ، میرا یقین ابھی اتنا پختہ نہیں ہوا ۔”

جب حضرت سیدنا لقمان حکیم علیہ رحمۃ اللہ الرحیم نے اپنے بیٹے کی یہ بات سنی تو فرمایا:” اے میرے بیٹے ! اللہ پاک نے دنیامیں وقتاََ فوقتاََ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مبعوث فرمائے ، ہمارے زمانے میں بھی اللہ پاک نے نبی علیہ السلام مبعوث فرمایا ہے آؤ، ہم اس نبی علیہ السلام کی صحبت بابر کت سے فیضیاب ہونے چلتے ہیں ،ان کی باتیں سن کر تیرے یقین کو تقویت حاصل ہو گی۔” آ پ کا بیٹا اللہ پاک کے نبی علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہو گیا ۔

جنگل کا سفر اور پیش آنے والا حادثہ

چنانچہ ان دونوں نے اپنا سامانِ سفر تیار کیا، اور خچروں پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طر ف روانہ ہوگئے ۔ کئی دن ،رات انہوں نے سفر جاری رکھا، راستے میں ایک ویران جنگل آیا وہ اپنے سامان سمیت جنگل میں داخل ہو گئے ،اللہ تعالیٰ نے ان کو جتنی ہمت دی اتنا انہوں نے جنگل میں سفر کیا ، پھر دو پہر ہو گئی ، گرمی اپنے زور پر تھی، گرم ہوائیں چل رہی تھیں ، دریں اثناء ان کا پانی اور کھانا وغیرہ بھی ختم ہوگیا ، خچر بھی تھک چکے تھے،پیاس کی شدت سے وہ بھی ہانپنے لگے، یہ دیکھ حضرت لقمان اور آپ کا بیٹا خچروں سے نیچے اتر آئے اورپیدل ہی چلنے لگے۔

چلتے چلتے حضرت سیدنا لقمان کو بہت دور ایک سایہ اور دھواں سا نظر آیا، آپ نے گمان کیا کہ وہاں شاید کوئی آبادی ہے ، اور یہ کسی درخت وغیرہ کاسایہ ہے، چنانچہ آپ اسی طرف چلنے لگے ۔راستے میں آپ کے بیٹے کو ٹھوکر لگی اور اس کے پاؤں میں ایک ہڈی اس طرح گھسی کہ وہ پاؤں کے تلوے سے پار ہوکر ظاہر قدم تک نکل آئی آپ کا بیٹا درد کی شدت سے بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑا آپ نے اسے اپنے سینے سے چمٹا لیا،پھر اپنے دانتوں سے ہڈّی نکالنے لگے۔ کافی مشقت کے بعد بالآخر وہ ہڈی نکل گئی۔

شفقت پدری

بیٹے کی یہ حالت دیکھ آپ شفقت پدرانہ کی وجہ سے رونے لگے۔ آپ نے اپنے عمامے سے کچھ کپڑا پھاڑا اور اسے زخم پر باندھ دیا۔ حضرت لقمان علیہ رحمۃ الرحمن کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جب اُن کے بیٹے کے چہرے پر گرے تو اسے ہوش آگیا، جب اس نے دیکھا کہ میرے والد رورہے ہیں توکہنے لگا: ”اے ابا جان !آپ تو مجھ سے فرما رہے تھے کہ ہر مصیبت میں بھلائی ہے۔

لیکن اب میر ی اس مصیبت کو دیکھ کر آپ رونے کیوں لگے ؟” اور یہ مصیبت میرے حق میں بہتر کس طر ح ہوسکتی ہے؟ حالانکہ ہماری کھانے پینے کی تمام اشیاء ختم ہوچکی ہیں ، اور ہم یہاں اس ویران جنگل میں تنہا رہ گئے ہیں، اگر آپ مجھے یہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے تو آپ کو میری اس مصیبت کی وجہ سے بہت رنج وغم لاحق رہے گا ، اور اگر آپ یہیں میرے ساتھ رہیں گے تو ہم دو نوں یہاں اس ویرانے میں بھوکے پیاسے مر جائیں گے ، اب آپ خودہی بتائیں کہ اس مصیبت میں میرے لئے کیا بہتری ہے ؟”

بیٹے کی یہ باتیں سن کر حضرت سیدنالقمان نے فرمایا:” اے میرے بیٹے! میرا رونا اس وجہ سے تھا کہ میں ایک باپ ہوں اور ہرباپ کااپنی اولاد کے دکھ درد کی وجہ سے غمگین ہوجانا ایک فطر ی عمل ہے، باقی رہی یہ بات کہ اس مصیبت میں تمہارے لئے کیا بھلائی ہے؟تو ہو سکتا ہے اس چھوٹی مصیبت میں تجھے مبتلا کر کے تجھ سے کوئی بہت بڑی مصیبت دو ر کردی گئی ہو ، اور یہ مصیبت اس مصیبت کے مقابلے میں چھوٹی ہو جو تجھ سے دور کر دی گئی ہے۔ آپ کا بیٹا خاموش ہوگیا ۔

ایک شہ سوار

پھر حضرت سیدنا لقمان نے سامنے نظر کی تو اب وہا ں نہ تو دھواں تھا اور نہ ہی سایہ وغیرہ ، آپ دل میں کہنے لگے :”میں نے ابھی تو اس طر ف دھواں او رسایہ دیکھا تھا لیکن اب وہ کہاں غائب ہوگیا ، ہوسکتا ہے کہ ہمارے پروردگارپاک نے ہماری مدد کے لئے کسی کو بھیجا ہو، ابھی آپ اسی سوچ بچار میں تھے کہ آپ کو دور ایک شخص نظر آیا جو سفید لباس زیب تن کئے، سفید عمامہ سر پر سجائے، چتکبرے گھوڑے پر سوار آپ کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا چلاآرہا ہے، آپ اس سوار کو اپنی طرف آتا دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آپ کے بالکل قریب ہوگیا ،پھر وہ سوار اچانک نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

پھر ایک آواز سنائی دی:”کیا تم ہی لقمان ہو؟ ”آپ نے فرمایا : ”جی ہاں! میں ہی لقمان ہوں۔” پھر آواز آئی:” کیا تم حکیم ہو ؟”آپ نے فرمایا:” مجھے ہی لقمان حکیم کہا جاتاہے۔” پھر آواز آئی:” تمہارے اس نا سمجھ بیٹے نے تم سے کیا کہا ہے ؟” حضرت سیدنا لقمان نے فرمایا:” اے اللہ پاک کے بندے! تو کون ہے ؟ہمیں صرف تیری آواز سنائی دے رہی ہے اور توخود نظر نہیں آرہا۔”

پھر آواز آئی:”میں جبرائیل (علیہ السلام) ہوں او رمجھے صرف انبیاء کرام علیہم السلام اور مقرب فر شتے ہی دیکھ سکتے ہیں، اس وجہ سے میں تجھے نظر نہیں آرہا، سنو!میرے رب پاک نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فلاں شہر اور اس کے آس پاس کے لوگو ں کو زمین میں دھنسا دو ں۔ مجھے خبر دی گئی کہ تم دونوں بھی اس شہر ہی کی طر ف آرہے ہو تومیں نے اپنے پاک پروردگار پاک سے دعا کی کہ وہ تمہیں اس شہر میں جانے سے روکے۔ لہٰذا اس نے تمہیں اس آزمائش میں ڈال دیا ا ور تیرے بیٹے کے پاؤں میں ہڈی چبھ گئی، اس طرح تم اس چھوٹی مصیبت کی و جہ سے ایک بہت بڑی مصیبت (یعنی زمین میں دھنسنے ) سے بچ گئے ہو ۔”

دنوں کا سفر لمحوں میں

پھر حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اس زخمی لڑکے کے پاؤں پر پھیراتو اس کا زخم فوراً ٹھیک ہوگیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اس بر تن پر پھیرا جس میں پانی بالکل ختم ہوچکا تھا تو ہاتھ پھیر تے ہی وہ بر تن پانی سے بھر گیا اور جب کھانے والے بر تن پر ہاتھ پھیرا تو وہ بھی کھانے سے بھر گیا۔

اور پھر حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے حضرت سیدنا لقمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، آپ کے بیٹے اور آپ کی سواریوں کو سامان سمیت اٹھایا اور کچھ ہی دیر میں آپ اپنے بیٹے اور سارے سامان سمیت اپنے گھر میں موجود تھے حالانکہ آپ کا گھر اس جنگل سے کافی دن کی مسافت پر تھا ۔

(اے ہمارے پاک پروردگارعزوجل!ہم سے ہماری تمام مصیبتیں دورفرمادے، ہم پر آنے والی بلاؤں کو شہیدِ کر بلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدقے ردّ فرما دے۔ ہمیں اپنے فضل و کرم سے مصائب پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرما اور بے صبری سے بچا)

؎ یاالٰہی ہرجگہ تیری عطا کا ساتھ ہو جب پڑے مشکل ،شہ مشکل کشا کا ساتھ ہو
اور………..اے اللہ عزوجل!
مشکلیں حل کر شہ مشکل کشا کے واسطے کر بلائیں رد شہید کربلا کے واسطے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں