68

حکومت چاہتی ہے جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ تک میرا کیس لٹکایا جائے، جسٹس فائز عیسی

اگر میں ان سوالات کا جواب دیتا ہوں تو اس سے میرے خلاف ایک اور ریفرنس بن سکتا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اگر میں ان سوالات کا جواب دیتا ہوں تو اس سے میرے خلاف ایک اور ریفرنس بن سکتا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسی نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ تک کیس لٹکایا جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت کی۔

وفاقی حکومت کے وکیل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک جج پر حرف آنا پوری عدلیہ پر حرف آنے کے برابر ہے، ایف بی آر کو ڈیڈ لائینز دینے کی وجہ بھی کیس کا جلد فیصلہ کرنا تھا، سرینا عیسی کے لیے متعلقہ فورم ایف بی آر ہی تھا، عدالت نے تو سرینا عیسی کے خلاف کوئی حکم جاری ہی نہیں کیا تھا، سماعت کی ضرورت کسی کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے ہوتی ہے، کیس ایف بی آر کو بھجوانے سے پہلے بھی سرینا عیسی کو سنا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کے تین سوالات کا جواب جمع کرادیا

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ ایف بی آر کا معاملہ میری اہلیہ اور ادارے کے درمیان ہے، حکومت صرف کیس لٹکانے کی کوشش کررہی ہے، حکومت چاہتی ہے جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ تک کیس لٹکایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں