32

حکومت کا زیادہ کورونا پھیلاؤ والے شہروں میں لاک ڈاؤن پر غور

اجلاس میں طبعی شعبہ کو سہولیات کے حوالے سے آکسیجن کی مستقل فراہمی پر تفصیلی بریفنگ ۔ فوٹو: فائل

اجلاس میں طبعی شعبہ کو سہولیات کے حوالے سے آکسیجن کی مستقل فراہمی پر تفصیلی بریفنگ ۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: حکومت نے زیادہ کورونا پھیلاؤ والے شہروں میں لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر اور قومی کوآرڈینیٹر این سی او سی لیفٹینٹ جنرل حمود الزمان کی زیرصدارت این سی او سی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں کورونا کے پھیلاؤ کے اضافے کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے فورم نے زیادہ پھیلاؤ والے شہروں میں لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور کیا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ کورونا وبا میں اضافہ کچھ شہروں میں موجود اسپتالوں میں سہولیات کی کمی کا باعث بن رہا ہے، لاک ڈاؤن کے بارے میں حتمی فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین مشاورت کے بعد لیا جائے گا جب کہ لاک ڈاؤن کے دوران تجویز کردہ پابندیوں میں بازاروں اور مالز، (سوائے ضروری خدمات) کی بندش، انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی اور تعلیمی اداروں کی مکمل بندش شامل ہیں۔

این سی او سی نے کیمبرج امتحانات کے انعقاد کے طریقہ کار پر بھی نظر ثانی کی، یہ امتحانات وزارت تعلیم کے فیصلے کے مطابق منعقد کیے جا رہے ہیں۔ این سی او سی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک امتحانی مرکز میں پچاس سے زیادہ امیدوار نہ بٹھائے جائیں۔ این سی او سی نے وزارت تعلیم سے درخواست کی کہ کیمرج امتحانات منعقد کرواتے ہوئے تمام تر حفاظتی تدابیر کے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں 60 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کو ویکسی نیشن کیلیے واک ان سہولت کی فراہمی کا بھی فیصلہ کیا گیا جب کہ 40 سے 50 سال والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل کل سے شروع ہو جائے گا۔

اجلاس میں طبعی شعبہ کو سہولیات کے حوالے سے آکسیجن کی مستقل فراہمی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، آکسیجن کی فراہمی کومسلسل نگرانی کے ذریعے یقینی بنایا جارہاہے، کورونا وبا کے پھیلاؤ کے سبب مستقل دباؤ کا شکار صنعتی شعبے کے امدادی پیکج مرتب کرنے کے لیے کامرس منسٹری کو اپنی تجاویز مرتب کرنے کے لیے کہا گیا، کامرس منسٹری، انڈسٹری اور وزارت صحت کی مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر ملک میں آکسیجن کی مستقل فراہمی یقینی بنائے رکھنے پر غور کیا گیا، عید کی چھٹیوں میں عوام کی نقل و حمل کو محدود تر رکھنے اور سیاحت کا نظام مرتب کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں