81

درختوں نے مل کر مسکراتا ہوا چہرہ بنادیا

اوریگون کی ہائی وے 18 س دکھائی دینے والا یہ چہرہ درختوں سے بنایا گیا ہے۔ فوٹو: اوڈٹی سینٹرل

اوریگون کی ہائی وے 18 س دکھائی دینے والا یہ چہرہ درختوں سے بنایا گیا ہے۔ فوٹو: اوڈٹی سینٹرل

اوریگون: اوریگون کی شاہراہ پر روٹ 18 کے پاس گھنے جنگلات ہیں۔ یہاں کچھ درخت اس طرح اگائے گئے ہیں کہ جب ان پر خزاں آتی ہے تو درختوں کے پتے رنگ بدلتے ہیں اور دور سے ایک مسکراتے چہرے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہاں سے گزرنے والے افراد کو یوں لگتا ہے کہ جیسے گھنے جنگل سے کوئی انہیں مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ اوریگون روٹ 18 کی کل لمبائی 25 میل ہے۔ ہر سال خزاں میں درختوں کے پتے رنگ بدل کر ایک چہرہ بناتے ہیں جس کا قطر 300 فٹ ہے جو پولک کاؤنٹی کے پاس واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے 30 سے 50 برس تک یہ درخت لوگوں کو مسرور کرتے رہیں گے۔

2011 میں ہیمپٹن لمبر کمپنی نے درختوں سے ڈیزائن بنانے کا ارادہ اس وقت کیا جب وہاں بڑے پیمانے پر شجرکاری ہورہی تھی۔ کمپنی نے منہ اور چہرے کی ڈیزائننگ کے لیے صنوبر کی ایک قسم (ڈگلس فِر) کا انتخاب کیا اور دیودار (لارچ) کی مدد سے اس کا جسم تشکیل دیا۔ خزاں میں لارچ اپنی نوکیں کھوکر رنگ تبدیل کردیتا ہے۔

شجرکاری کے وقت کمپنی کے مینیجر ڈینس کریل نے بہت احتیاط سے درختوں کو ڈیزائن کیا گیا اور انہیں یقین تھا کہ یہ علاقہ بہت دور سے واضح دکھائی دے گا۔ اب یہ حال ہے کہ امریکہ بھر سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ لیکن اس چہرے کو کاڑھنے میں کئی ماہ کی محنت صرف ہوئی ہے۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے کنارے مدھم پڑگئے ہیں لیکن مسکراتا چہرہ اگلے دس برس تک واضح رہے گا اور اگلے 30 سے 50 برس مین اسے کاٹ کر اس کی لکڑی استعمال کی جائے گی۔ تب تک یہ لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹٰیں بکھیرتا رہے گا۔

اس خوبصورت مسکراتے چہرے کو بڑی محنت سے ڈیزائن کیا گیا ہے اور چند عرصے تک اسے دنیا میں درختوں سے کاڑھے گئے سب سے بڑے چہرے کا درجہ حاصل تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں