25

دمکتی اسکرین بچوں کی بصارت نگل رہی ہے

نیلے آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ میں چمکتا چاند، قوس قزح کے رنگوں میں نہاتا سورج یہ سب حسین نظارے آنکھ ہی سے دکھائی دیتے ہیں۔

آنکھیں انسانی جسم کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کا ذکر طب سے زیادہ شعر و ادب کی کتابوں میں ملتا ہے۔ یہی آنکھیں بن کہے بہت کچھ کہہ جاتی ہیں، یہی آنکھیں ہمیں سب سے زیادہ دھوکا دیتی ہیں۔ ایک طرف صحرا میں چمکتے پانی کی جھلک دکھاتی ہیں، تو دوسری جانب نخلستان کو صحرا کے روپ میں پیش کرتی ہیں۔

آنکھیں نعمت خداوندی ہیں لیکن ہم میں بہت سے والدین دانستہ و نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہم اس بات کا مشاہدہ کسی بھی تقریب میں کرسکتے ہیں، جہاں بچہ تھوڑا سا رویا، تھوڑی ضد کی، والدین فوراً جیب سے موبائل نکال کر بچوں کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔

بچے کیا دیکھ رہے ہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کا اسکرین ایکسپوژر کتنا اور کتنے نزدیک سے ہے، عموماً دیکھا گیا ہے کہ بچے موبائل کی برائٹنیس کو فُل کرکے محض دو انچ کے فاصلے پر گھنٹوں یوٹیوب پر ویڈیو یا کوئی گیم کھیل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن والدین اس اہم مسئلے کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے معمولات میں مشغول رہتے ہیں۔

بینائی خدا کی دی ہوئی لامحدود نعمتوں میں سے ایک ہے، لیکن ان آنکھوں میں جب تک روشنی ہے ، اس وقت تک آپ کے بچوں کی زندگی میں رنگ ہیں۔ اپنے بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے آج ہی پہلا قدم اٹھائیں، اس کا اسکرین ٹائم کم سے کم کریں، اسے موبائل گیمز کے بجائے ایسے کھیلوں کی ترغیب دیں جس میں جسمانی سرگرمی زیادہ ہو۔

آنکھوں سے جُڑی خوب صورتی سے صرف وہی محظوظ ہوسکتا ہے جس نے کبھی اپنی روشن چمک دار آنکھوں سے نیلگوں آسمان کو دیکھا ہو، جس نے پرندوں کی چہچہاہٹ سے زیادہ ان کے شوخ رنگ پروں کو دیکھا ہو، جس نے ماں کے سینے سے لپٹ کو اس پیکرِ محبت کو دیکھا ہو۔ لیکن کیا قیامت ہوتی ہے اگر قدرت کی صناعی دیکھنے والی آنکھوں میں اندھیرے اُتر جائیں، جب ایک معصوم بچہ ماں کے سینے سے لپٹ کر اسے محسوس تو کرسکے لیکن سر تا پا محبت میں گندھی اس عورت کو دیکھ نہ سکے؟

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تیزرفتار ترقی نے جہاں گھنٹوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ دیا ہے، روایتی خط و کتابت کو ماؤس کی ایک کلک تک محدود کردیا ہے، تو دوسری جانب اس ٹیکنالوجی میں شہ رگ کا کردار ادا کرنے والے اسمارٹ فون نے مستقبل کے معماروں کو ایک نئے مسئلے سے دوچار کردیا ہے۔

اسمارٹ فون پر کھیلنے، اسمارٹ فون پر پڑھنے اور اسمارٹ فون پر ہی سارا دن گزارنے والے ان بچوں کو ایک طرف بینائی کے مسائل کا سامنا ہے تو جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے ان میں موٹاپے، ارتکاز توجہ میں کمی، نسیان اور اس نوعیت کی دیگر بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔

اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کو سب سے زیادہ آنکھوں کی جس بیماری میں مبتلا کیا ہے وہ ہے نزدیک نظری، جسے طبی زبان میں مائی اوپیا بھی کہا جاتا ہے۔ عالم گیر وبا کورونا نے جہاں دنیا میں پوری دنیا کا نظام زندگی مفلوج کردیا، وہیں بچوں کا تعلیمی سال بچانے اور وبا کے دوران تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لیے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

المیہ تو یہ ہے کہ جو بچے ’پلے گروپ ‘ میں تھے انہیں بھی آن لائن تعلیم کے نام پر گھنٹوں اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ کی ہائی ریزولیشن اسکرین کے سامنے بٹھا یا جارہا ہے۔ گھنٹوں اسکرین کے سامنے رہنے کی وجہ سے بچے آنکھوں کی ڈیجیٹل بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں جن میں آنکھوں کا خشک ہونا، سرخ ہونا اور آنکھوں کی تھکاوٹ شامل ہے۔

اس حوالے سے ماہرامراض چشم ڈاکٹر فیصل اقبال کا کہنا ہے کہ ’انسان کی آنکھ دور دیکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب ہماری آنکھ کے اندرونی پٹھے جو ہمارے لینز کو فوکس کرنے کے لیے مختص ہیں وہ بالکل آرام کر رہے ہوتے ہیں یا ریلیکس ہوتے ہیں، تو ہماری آنکھ کا فوکس 6 میٹر اور اس سے دور کی اشیاء کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہمیں نزدیک دیکھنا ہوتا ہے تو یہی پٹھے کام کررہے ہوتے ہیں اور فوکس کو 60 سینٹی میٹرپر لے آتے ہیں۔

اگر آپ مستقل موبائل کو دیکھ رہے ہیں تو آنکھوں کا یہی فوکسنگ سسٹم مسلسل کام کر رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر عموماً ہمارے ہاتھ ایک چائے کی پیالی کو پانچ منٹ اٹھانے سے تھکتے نہیں۔ لیکن اگر یہی ہاتھ پانچ گھنٹے اسی چھوٹے کپ کو اٹھائیں تو ہمارے بازو شل ہو جائیں گے، بالکل اسی طرح ہماری آنکھیں کچھ دیر نزدیک دیکھنے پر نہیں تھکتی، لیکن اگر انہیں کئی گھنٹوں ایک ہی جگہ مرکوز رکھا جائے تو اس سے آنکھوں کے اندرونی پٹھے تھک جاتے ہیں۔

اسی طرح جب ہم نزدیک کا کام کر رہے ہوتے ہیں تو ہماری پلکیں جھپکنے کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے۔ ایک منٹ میں 20 دفعہ پلکیں جھپکنا نارمل ہے لیکن یہی آنکھ جب نزدیک فوکس کر رہی ہوتی ہے تو یہ کم ہوتے ہوتے 5 دفعہ تک جھپکتی ہے۔ پلکوں کے کم جھپکنے کی وجہ سے آنکھوں میں نمی کا تناسب کم ہوجاتا ہے اور آنکھیں خشک ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

آنکھوں کو تھکان اور خشک ہونے سے بچانے کے دو طریقے ہیں اول، 20-20-20 کا اصول، اس اصول کے مطابق ہمیں ہر 20 منٹ کے بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور دیکھنا ہے تا کہ آنکھوں پر مستقل پڑنے والا زور اور تھکن کم ہوجائے۔

دوم، یہ کہ ہمیں ہر تھوڑی دیر بعد اپنی پلکوں کو جھپکنا چاہیے تاکہ بار بار آنسو ہماری آنکھوں کو صاف کرتے جائیں اور خشکی کا امکان کم سے کم ہو جائے۔‘

اسمارٹ فون سے متعلقہ بیماریوں کے علاوہ بچوں میں آنکھوں کی بیماریوں میں سرفہرست موتیا اور کالا موتیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں آنکھ والے افراد کے لیے ترقی کے مواقع کم ہے تو دوسری جانب مکمل اور جزوی نابینا پن میں مبتلا افراد بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم سوا دو ارب افراد آنکھوں کے مسائل میں مبتلا ہیں۔ آنکھوں کی بیماریوں میں گلوکوما (کالا موتیا)، دور و قریب کا کم دکھائی دینا اور موتیا سر فہرست ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق آنکھوں کی بیماریوں کی وجہ سے دنیا کی معیشت پر سالانہ اربوں ڈالر کا بوجھ پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر صرف آنکھوں کی بیماریوں کی وجہ سے پیداواری لاگت میں سالانہ 244 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ صرف پریس بائی اوپیا (دونظری جس میں دور کی اشیاء صاف اور واضح نظر آتی ہیں جبکہ قریبی اشیاء دھندلی دکھائی دیتی ہیں) اور مائی اوپیا (نزدیک نظری) کی وجہ سے عالمی معیشت پر سالانہ  25ارب ڈالر کا معاشی بوجھ پڑتا ہے۔

آنکھوں کی بیماریوں میں سب سے خطرناک بیماری کالا موتیا ہے، دنیا بھر میں اندھے پن کی بڑی وجہ بھی کالا موتیا ہی ہے۔ ماہرین کے مطابق موتیا اور ذیابیطس سے ہونے والے اندھے پن کے 80 فی صد کیسز کو جلد تشخیص اور علاج سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں کالاموتیا لاکھوں افراد کی بینائی ضائع کرنے کا سبب بن چکا ہے۔

اسمارٹ فون کے علاوہ بچوں میں نابینا پن کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی اکثریت اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے کے لیے کم عمری سے ہی اینٹوں کے بھٹے، ویلڈنگ، راج مستری، درزی، میکینک، بڑھئی اور اس جیسے دوسرے کام کرتے ہیں، بنا کسی احتیاطی تدابیر کے کام کرنے کی وجہ سے ان بچوں میں بھی آنکھوں کی بیماریاں خصوصاً موتیا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں آنکھوں کے امراض کے لیے کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اندھے پن اور جزوی نابینا افراد کی فہرست میں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے، جن میں تیس لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں آنکھوں کے لیے اچھے ڈاکٹروں اور آنکھوں کی بیماریوں کے لیے مخصوص سرکاری اسپتالوں کی قلت مستقبل کے معماروں کو اندھیروں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ پاکستان میں کچھ غیرسرکاری تنظیموں کی طرف سے موتیا، کالا موتیا، ڈائبیٹک ریٹینو تھیراپی اور دیگر امراض کے علاج کے لیے اسپتال اور مفت او پی ڈی قائم کی گئی ہیں، تاہم آنکھوں کی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں ان غیرسرکاری اسپتالوں کے فری کلینک اور تعداد کم ہے۔

غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے بنائے گئے امراض چشم کے اسپتالوں میں، ہاشمانیز، پاکستان آئی بینک سوسائٹی اور لیٹن رحمت اللہ بینیولینٹ ٹرسٹ ( LRBT) اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) شامل ہیں جو انسانی خدمت کے جذبے کے ساتھ بلا امتیاز، بلا رنگ و نسل عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہاشمانی ٹرسٹ کے زیراہتمام چلنے والے آنکھوں کے اسپتالوں دائرہ کار کراچی تک محدود ہے۔ کراچی میں ان کے 7 اسپتال کام کر رہے ہیں جن میں سے تین اسپتال نان پرافٹ بنیاد پر چل رہے ہیں۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کا قیام 2007ء میں عمل میں آیا۔ پیما کے زیرانتظام ’’شعبہ انسداد نابیناپن‘‘ یا پی او بی کے نام سے قائم ہونے والے ادارے میں نہ صرف آنکھوں کے نادار مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے بلکہ مفت علاج اور آپریشن بھی کیے جاتے ہیں۔ پی او بی اس وقت کراچی اور لاہور میں جدید ترین آلات اور سہولیات سے لیس اسپتال قائم کرچکا ہے جب کہ اگلے مرحلے میں پشاور میں بھی اسپتال کے قیام کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بھر کے تقریباً 38 شہروں اور قصبوں میں 800سے زائد فری آئی کیمپس کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ مریضوں کی آنکھوں کا علاج اور ان کی بینائی واپس لائی جا چکی ہے۔

روشن آنکھیں بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، لہٰذا بچوں کی آنکھوں کی صحت  کا خیال رکھنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح ان کی جسمانی صحت کے لیے فکرمند رہنا، چناں چہ والدین کو بچوں کی آنکھوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اور احتیاطیں اپنانا ہوں گی۔

لیٹن رحمت اللہ بینیولینٹ ٹرسٹ ( LRBT)
پاکستان میں آنکھوں کے امراض کے لیے کام کرنے والے فلاحی اداروں میں سب سے بڑا نیٹ ورک لیٹن رحمت اللہ بینیولینٹ ٹرسٹ کا ہے۔ ایل آر بی ٹی کا دائرہ کار پورے پاکستان کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا اور امریکا تک پھیلا ہوا ہے۔

اس بابت ایل آر بی ٹی کے اعزازی چیئر مین نجم الثاقب حمید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نابینا پن کا سب سے بڑا سبب موتیا ہے ، ہمارے پاس روزانہ ایک ہزار آپریشن ہوتے ہیں جن میں سے 80 فی صد آپریشن موتیا اور کالے موتیا کے کیے جاتے ہیں۔ ہم مریضوں کی جراحی جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے کرتے ہیں اور مستحق مریضوں کو ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
نجم الثاقب حمید نے بتایا کہ ایل آر بی ٹی 1984میں اپنے قیام سے اب تک آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا 46 ملین سے زائد مریضوں کا علاج کرچکا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے ہمارے اسپتالوں اور کلینکس میں روزانہ دس ہزار سے زائد مریض آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں ہمارا 1350افراد پر مشتمل عملہ عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ جب کہ 200 سے زائد ماہر امراض چشم بھی ہمارے ادارے سے وابستہ ہیں جن میں سے 75فی صد سرجن ہیں۔

نجم الثاقب حمید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نابینا پن، جزوی نابینا پن خصوصاً بچوں میں مائی اوپیا (دور کی نظرکم زور ہونا) میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس کے لیے والدین میں شعور اجاگر کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے بھی آنکھوں کی بینائی کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور بچوں میں کمپیوٹر، لیب ٹاپ اور موبائل کا غیرضروری استعمال ختم کردیا جائے، آن کلاسز کے وقت موبائل اور کمپیوٹر کے استعمال کے دوران کچھ دیر کے لیے آنکھوں کو سکون دیں۔

زندگی اور روشنی کی طرف واپسی

اندورن سندھ سے تعلق رکھنے والا دس سالہ عبد القیوم بھی ایسے ہی بچوں میں شامل ہے۔ جو ہوش سنبھالتے ہی گھر والوں کی کفالت میں جت جاتے ہیں۔ غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم کے والد عبدالجبار پیشے کے لحاظ سے ویلڈر ہیں اور اپنے دوسرے بیٹوں کی طرح انہوں عبدالقیوم کو بھی ہوش سنبھالتے ہی دکان پر لے جانا شروع کردیا تھا۔ عبدالقیوم بھی دوسرے بھائیوں کی طرح گھر والوں کی کفالت میں اپنا فرض ادا کرنے لگا۔

لیکن ایک دن ویلڈنگ کرتے ہوئے ایک چنگاری اس کی سیدھی آنکھ میں چلی گئی۔ ویلڈنگ کرنے والوں کے لیے یہ ایک معمول کی بات ہے ، لیکن شام ہوتے ہوتے عبدالقیوم کی آنکھ سرخ ہوگئی تھی اور وہ درد کی شدت سے چلا رہا تھا۔

عبدالقیوم کے والد اسے مقامی ڈاکٹر کے پاس لے گئے جس نے کچھ درد کش ادویات اور آنکھوں کے قطرے تجویز کردیے جس سے اس معصوم بچے کو وقتی آرام تو مل گیا تاہم کچھ ہی ہفتے میں اس کی آنکھ سفید ہوگئی۔ اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم کے باپ کے پاس دو ہی راستے تھے، یا تو وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک بیٹے کی بینائی واپس لانے پر لگا دے یا گھر کے دس افراد کا پیٹ بھرنے کے لیے بیٹے کی بصری معذوری سے چشم پوشی کرلے۔

دن اسی طرح گزرتے رہے اور عبدالقیوم ایک آنکھ میں درد کی شدت برداشت کرتے ہوئے اپنے والد کے ساتھ کام میں جتا رہا، لیکن ایک دن اس کی دعا بر آئی اور عبدالجبار کی دکان پر آنے والے ایک آدمی نے اس کے بیٹے کی آنکھ کو دیکھ کر گمبٹ میں واقع ایل آر بی ٹی اسپتال جانے کا مشورہ دیا جہاں ڈاکٹروں نے

انہیں کراچی لے جانے کا مشورہ دیا اور آپریشن کے بعد عبدالقیوم اپنی معمول کی زندگی پر لوٹ آیا ہے۔

بچے مستقبل کا معمار ہیں انہیں اندھیروں سے بچائیں
اپنے بچوں کی معمولی سی ذ ہنی اور جسمانی تبدیلیوں کو بھی نظرانداز مت کریں
آپ اپنے بچے کی آنکھوں کو دیکھ کر ہی بہت سی بیماریوں کا انداز لگا سکتے ہیں؟

آنکھوں میں سرخی
اگر آپ کے بچے کی آنکھیں بہت زیادہ سرخ ہور ہی ہیں تو فوراً کسی ماہرچشم سے رابطہ کریں۔ آنکھوں میں سُرخی موتیا، آنکھ کے پردے کے ورم، پپوٹوں کی سوزش و جلن جیسے سنگین نوعیت کے امراض کی جانب نشان دہی کرتی ہے۔ بچوں کے آنکھوں کی سُرخی کا اہم سبب موبائل اور کمپیوٹر پر زیادہ اسکرین ایکسپوژر کے نتیجے میں دور کی نظر کم زور ہونے کا اشارہ بھی ہے۔

آنکھوں کا خشک ہونا
آنکھوں کا خشک ہونا کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کے ساتھ در آنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس بیماری میں آنکھوں میںآنسو بنانے والے غدود اپنا افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے، اور مقررہ وقت میں آنسو نہ بننے کی وجہ سے آنکھیں خشک ہوجاتی ہے۔ کمپیوٹر پر زیادہ تر تک کام کرنے والے زیادہ تر افراد اس بیماری میں مبتلا پائے جاتے ہیں، لیکن اسمارٹ فون کی بدولت بالغوں کی بیماری بچوں میں بھی پائی جا رہی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا فرد کو آنکھ میں چبھن کا احساس ہوتا ہے بلکل اس طرح جیسے آنکھ میں مٹی یا کنکر جانے کے بعد الجھن کھٹک محسوس ہوتی ہے۔

آنکھیں انسانی جسم کا انتہائی حساس عضو ہے، اپنے بچوں کی آنکھوں کا ڈاکٹر سے باقاعدگی معائنہ کروائیں۔ اگر بچہ آنکھوں میں چبھن، جلن، کم یا دھندلا دکھائی دینے، آنکھوں سے پانی بہنے یا کسی شے کو دیکھنے کے دوران مختلف دھبے یا دائرے نظر آنے کی شکایت کرے تو اسے فوراً ماہرامراض چشم کے پاس لے جائیں۔
اسی طرح بچوں کی غذا میں حیاتین الف اور اس نوعیت کی دیگر غذائوں کو شامل کریں جن سے بینائی تیز ہوتی ہو۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں