59

دنیا کی قدیم ترین ’’باقاعدہ‘‘ انسانی قبر دریافت

اس بچے کو غالباً نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر، سیدھی کروٹ سے قبر میں لٹا کر دفن کیا گیا تھا۔ (تصاویر: نیچر)

اس بچے کو غالباً نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر، سیدھی کروٹ سے قبر میں لٹا کر دفن کیا گیا تھا۔ (تصاویر: نیچر)

لندن: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں ایک ایسی باقاعدہ انسانی قبر دریافت کی ہے جو آج سے 78 ہزار سال پہلے بنائی گئی تھی اور جس میں 3 سالہ بچہ دفن کیا گیا تھا۔

یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’’پنجہ یا سعیدی‘‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے۔

ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

قبر کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قبر بنائی گئی، اس کے بعد قبر کے فرش پر پودوں کی پتیاں اور نرم شاخیں بچھائی گئیں، پھر بچے کو ان پر لٹایا گیا اور اس پر غالباً کسی درخت کی نرم چھال رکھ کر قبر کو بند کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جنس ’’ہومو‘‘ (Homo) سے تعلق رکھنے والی مختلف انواع کی آٹھ لاکھ سال تک پرانی باقاعدہ قبریں دنیا بھر میں دریافت ہوچکی ہیں۔ البتہ جدید انسان یعنی ’’ہومو سیپیئنز‘‘ (Homo sapiens) کی قدیم ترین اور باقاعدہ قبر یہی ہے جو 78 ہزار سال پرانی ہے۔

قبر سے ملنے والی لاش کو ماہرین نے ’’مٹوٹو‘‘ (Mtoto) کا نام دیا ہے جو سواحلی زبان کا لفظ ہے اور جس کا مطلب ’’بچہ‘‘ ہے۔

یہ قبر 2013ء میں ’’پنجہ یا سعیدی‘‘ غار کے تقریباً دہانے پر دریافت ہوئی تھی جو 3 فٹ گہری ہے اور اس میں سے کسی بچے کی نہایت بوسیدہ ہڈیاں بھی برآمد ہوئیں۔

تاہم یہ ہڈیاں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالا نہ جاسکا۔ یہ کام پوری احتیاط سے 2017ء میں انجام دیا گیا۔

یہ ہڈیاں مزید تجزیئے کےلیے اسپین میں واقع انسانی ارتقاء کے تحقیقی مرکز بھجوا دی گئیں جہاں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مزید تین سال تک تحقیق کرنے کے بعد نہ صرف ان ہڈیوں، بلکہ آس پاس سے ملنے والے دیگر آثارِ قدیمہ کے بارے میں بھی اپنی معلومات کو حتمی شکل دی۔

کیمیائی اور خردبینی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ اس بچے ’’مٹوٹو‘‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام دفنا دیا گیا تھا۔

’’مٹوٹو‘‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا۔

اگر یہ محض اتفاق نہیں تو یہ بات یقیناً توجہ طلب ہے کیونکہ میت کو سیدھی کروٹ دے کر دفنانا بہت سے مذاہب میں قدرِ مشترک ہے۔ ان مذاہب میں اسلام بھی شامل ہے۔

غار میں ’’مٹوٹو‘‘ کی قبر کے ارد گرد سے ملنے والی باقیات سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید اس بچے کی آخری رسومات بھی اسی غار میں، قبر کے آس پاس ادا کی گئی تھیں۔

نوٹ: اس دریافت کی تفصیل معروف تحقیقی مجلے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں