54

دوہرا تبدیل شدہ وائرس B.1.617، نئی بھارتی وبا کا ذمے دارقرار

بھارت میں کورونا کی نئی ہلاکت خیز وبا کی وجہ دوہرے تبدیل شدہ وائرس کو قرار دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت میں کورونا کی نئی ہلاکت خیز وبا کی وجہ دوہرے تبدیل شدہ وائرس کو قرار دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

 کراچی: مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں بھارت میں کورونا وائرس کی نئی وبا انتہائی ہلاکت خیز ہوچکی ہیں جو نہ صرف بھارت بلکہ اب دنیا کے لیے بھی ایک بحران بن سکتی ہے۔ خیال ہے کہ یہ بحران ڈبل میوٹنٹ یا دوہرے تبدیل شدہ وائرس سے پیدا ہوا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین اور ذرائع کہتے ہیں کہ اس وائرس کو B.1.617 کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں بالخصوص پنجاب میں کورونا وبا کے تیزرفتار پھیلاؤ کا ذمے دار برطانوی قسم (ویریئنٹ) قرار دیا گیا تھا جسے SARS-CoV-2/B117 کا نام دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بی 1.617 وائرس درحقیقت دو بڑی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ ان میں L452R اور E484Q ایک ساتھ شامل ہیں۔ اگرچہ طب کی گنجلک زبان والی یہ وائرسی تبدیلیاں الگ الگ ریکارڈ ہوچکی ہیں لیکن بھارت میں پہلی مرتبہ یہ ایک ساتھ دیکھ گئ ہیں۔ اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ شاید دونوں تبدیلیوں نے بھارتی وائرس کو مزید مہک اور تیزی سے پھیلنے والا بنادیا ہے۔

اس سے قبل ایل 425 آر کو کیلیفورنیا میں تیزی سے پھیلتے دییکھا گیا تھا۔ یہ وائرس پروٹین کے اسپائکس سے چپکنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی بنا پر اس کا پھیلاؤ پہلے یعنی ووہان وائرس سے بہت زیادہ ہے۔

دوسری جانب ای 484 کیو میوٹیشن ہے جو پہلے برطانیہ اور پھر جنوبی افریقہ میں دیکھی گئی۔ اس کیا پھیلاؤ بھی تیز ہے اور یہ ویکسین کی افادیت کم کرسکتا ہے۔ بھارتی طبی ماہرین کے مطابق بھارت میں رونما ہونے والے 60 فیصد کیسوں میں ڈبل میوٹنٹ وائرس کا کردار سامنے آیا ہے۔ سب سے پہلے یہ مہاراشٹر میں ہی دریافت ہوا جو اب تک اس ہولناک نئی وبا کی وجہ بن چکا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک تبدیل شدہ وائرس اب برطانیہ امریکہ، اسرائیل، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جرمنی وغیرہ میں دریافت ہوچکا ہے۔

دوہرے تبدیل شدہ وائرس کی مزید تفصیل

اگرچہ دونوں طرح کی تبدیلیوں پر تحقیق کی بہت ضرورت ہے لیکن ابتدائئی آزمائش کے تحت ایل 452 آر دیگر کے مقابلے میں 20 فیصد تیزی اور اینٹی باڈیز حاصل کرنے والے مریضوں کی افادیت 50 فیصد کم کرسکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کووڈ 19 سے شکار ہوکر تندرست ہوچکا ہے اور اس کا بدن اینٹی باڈیز بنالیتا ہے تو ان اینٹی باڈیز کا اثر 50 فیصد تک کم اور بے اثر ہوجاتا ہے۔

اب یہ حال ہے کہ بھارت میں روزانہ ہزاروں لاکھوں مریض روزانہ کورونا کے شکار ہورہے ہیں اور ہزاروں افراد روزانہ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اس طرح پوری دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ یہ سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شاید یہ وائرس ایک نئے عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں