16

ساگر ماتا سے ساگروں تک منڈلاتے جنگ کے سائے

ہند ومت کی اہم ترین اور قدیم کتاب مہا بھارت ہے جس میں ہمالہ پہاڑ کو ساگر ماتا یعنی سمندروں کی ماں کہا گیا ہے مگر کوہ ہمالیہ کے بلند دامنوں میں آج تک بھی دنیا کے بہت کم لوگ آباد ہیں کیونکہ یہ علاقہ سطح سمندر سے 1500 میٹر سے 8849 میٹر یعنی ماونٹ ایورسٹ تک بلند ہے۔

پاکستان، چین، نیپال، بنگلہ دیش، بھارت اور افغانستان جیسے ملک اس سے نکلنے والے دنیا کے بڑے دریاوں سے منسلک اردگرد واقع ہیں ۔ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی ہمالیہ کے گرد واقع اِن ہی ملکوں میں آباد ہے اور باقی آدھی آبادی دنیا کے دیگر خطوں میں آباد رہی ہے ۔

اب جہاں تک بات ساگر ماتا کے بچوں یعنی سمندروں کی ہے تو کرہء ارض کے تین حصوں پر سمندر ہیں اور ایک حصہ خشکی یعنی زمین ہے ۔ تاریخی اعتبار سے میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ آج کی جدید دنیا اور اس کی جدید تاریخ کا آغاز 1492 ء سے ہوتا ہے جب ملکہ ازابیلا اور اُس کے شوہر فرنانڈس نے اسپین میں مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کرتے ہوئے یہاں اُن کا نام ونشان مٹا دیا۔اسپین میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد اسی سال ملکہ ازایبلا نے کرسٹوفر کولمبس کی مالی مدد کی جس نے امریکہ دریافت کیا۔

اسی دور سے تاریخ میں نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہوا یعنی یورپی اقوام نے دنیا کے ملکوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی برتری کے سبب فتح کیا اور پھر اِن ملکوں میں اپنی صنعت و تجارت کو فروغ دینے کے لیے نو آبایادتی نظام قائم کیا ۔ انگریزوں ، ولندیزوں، پرتگالیوں، اسپینیوں اور فرانسیسیوں نے افریقہ سے انسانوں کو غلام بنا کر امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ملکوں کو تعمیر کیا، ہندوستان اور چین سمیت دنیا کے ملکوں سے مال و دولت کو سمیٹا اور پھر اسی لوٹ گھسوٹ میں اِن میں آپس میں بھی جنگیں ہوئیں۔

آج بھی جب سیاسی نو آبادیاتی دور اقتصادی نوآبادیاتی نظام میں تبدیل ہوکر 75 سال پورے کر چکا ہے تو ایک بار پھر سمندر اور سمندر ی راستے بڑی قوتوں کے درمیان تناعازت کا سبب بنے ہوئے ہیں اور2021 ء میں تو یہ صورتحال اتنی خطرناک ہو چکی ہے کہ بعض مبصرین اور ماہرین اس صورتحال کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے قبل جیسے واقعات اور حالات قرار دے رہے ہیں، گذشتہ دو برسوں سے امریکہ، روس اور پھر خصوصاً امریکہ اور چین کے اعتبار سے اِن ملکوں کے تعلقات بہت زیادہ کشیدہ ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں خلیج فارس، آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور بحیرہ احمر میں پہلے ہی تناؤ رہا ہے۔

مارچ 2021 ء کے پہلے ہفتے ہی سے روس کا تنازعہ یوکرائن سے ترکی آبنائے بالفور ،رومانیہ ،کریمیا کے قر یب Black Sea بحیرہ اسود پر امریکی بحری بیڑا اور جدید جنگی جہاز پہنچ رہے ہیں تو سب سے زیادہ خطرناک صورتحال South China Sea جنوبی بحیرہ چین میں QUAD یعنی امریکہ،جاپان، بھارت اور آسٹریلیا اپنی پوری قوت کا مظاہرہ جنوبی بحیرہ چین میں کر رہے ہیں، پھر اب بحرہند میں بھی کواڈ پلس QUAD+ یعنی بشمول فرانس بحری مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں ۔

دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ اگرچہ 7 مئی1945 ء کو ہو چکا تھا جب جرمنی میں نازی افواج نے ہتھیار ڈال دئیے تھے اور یہاں مشرقی جرمنی سمیت مشرقی یورپ کے ممالک پر کیمونزم کی حامی عوام کی بنیاد پر سابق سوویت یونین نے اپنا اثرو رسوخ قائم کر لیا تھا جو ایک خاص انداز میں امریکہ اور یورپ کے نئے اقتصادی نوآبادیاتی نظام سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ یہی صورتحال مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی تھی جن پر جنگِ عظیم دوئم کے بعد امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اتحادیوں نے یہاں مضبوط پوزیشن اختیار کر لی تھی، مگر دوسری جانب امریکہ نے 7 مئی 1945 ء کے بعد بھی جاپان کے خلاف جنگ جاری رکھی تھی کیونکہ جاپان نے7 دسمبر1941 کو امریکہ کے پرل ہاربر پر حملہ کیا تھا ا س کے بعد امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے اتحادیوں میں شامل ہوا تھا۔

یہاں فار ایسٹ میں ہندوستان سے آگے یعنی انڈونیشیا، ملائشیا،لاؤس، کمبوڈیا، ویتنام اور تائیوان مین لینڈ چین میںجہاں نو آبادیاتی دور میں پہلے برطانیہ ، فرانس ، ہالینڈ ، پر تگال وغیرہ کی مختلف ادوار میںنو آبادیات رہی تھیں وہاں جاپان ایک قوت کے طور پر اُس وقت ابھرا تھا جب جاپان نے1905 میں روس جیسی بڑی سلطنت کو شکست فاش دی تھی۔

یہ بیسویں صدی عیسوی میں ایک حیر ت انگیز موڑ تھا کہ کسی ایشیائی ملک نے ایک بڑی یورپی مملکت کو شکست فاش دی اور یہاں سمندر میں اپنی برتری قائم کر لی تھی، مگر اُس وقت جاپان نے خطے میں یورپی نوآیادت کو چیلنج نہیں کیا تھا بلکہ روس جاپان جنگ سے قبل اور 1904 تا 1905 جنگ کے دوران بھی جاپان مصلحت پسندی کے تحت کو شش کرتا رہا کہ روس سے صلح نامہ طے پا جائے مگر روس کے آخری بادشاہ نیکولس زار کو گھمنڈ تھا کہ روس جو جاپان سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے آخر جاپان کو شکست دیدے گا مگر ایسا نہیں ہوا اور جاپان نے روس کو شکست دے دی ۔

دوسری جنگِ عظیم سے ذرا قبل جاپان نے مین لینڈ چین میں اور 1940-41 سے دیگر ملکوں انڈونیشیا ، ملائیشیا ، ویتنام، لاؤس ،کمبوڈیا میں یورپی اقوام کی نو آبادیات پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور بحیرہ اوقیانوس پر بالا دستی کے ساتھ مشرقِ بعید میں 7400000 مربع کلومیٹر رقبہ یورپی نوآبادیاتی قوتوں کو شکست دے کر حاصل کر لیا ، جب جاپان مین لینڈ چین یعنی آج کے چینی علاقے اور برما ’’میانمار‘‘ پہنچا تو یہاں سے جاپانی طیاروں نے کلکتہ پر بھی بمباری کی۔ یہی وہ دور ہے جب مشہور آزادی ہندوپسند لیڈر سباس چندر بوس یہاں سے فرار ہو کر ہندوستان کی آزادی کی مسلح جنگ لڑنے کے لیے جاپانیوں سے جا ملا تھا۔

جاپانی یہاں ویتنام ،لاؤ س ، کمبوڈیا میں بھی غالب آئے فلپائن میں بھی جنگ کی ، مگریہ حقیقت ہے کہ امریکہ ،برطانیہ ،فرانس ، سوویت یونین اوراِن کے اتحادی حقیقت میں7 مئی 1945 کو جنگ ِ عظیم دوئم جیت چکے تھے، جب جرمنی نے برلن میں اِن کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے تھے لیکن جاپان کے خلاف یہاں بحرہند، بحراوقیانوس اور اس علاقے کے ملکوں میں جنگ جاری تھی اور یہاں سپریم کمانڈر امریکہ کے مشہور فور اسٹار جنرل فیلڈ مارشل میکارتھر اور باقی اہم جنرل بھی امریکی تھے یا پھر برطانوی جنرل تھے۔

یہاں ہندوستان کی بھی بہت اہمیت تھی کہ پوری جنگ ِ عظیم دوئم میں ہندوستان برطانیہ کی سب سے اہم نوآبادی تھی جہاں سے برطانیہ ہندوستانیوں کو فوج میں بھرتی کر کے جرمنی اور جا پان کے خلاف جنگ بھی لڑ رہا تھا اور یہاں انگریز کی اسلحہ ساز فیکٹریاں پوری دنیا کے محاذوں پر برطانوی کمانڈ میں لڑنے والی فوجوں کو اسلحہ وگولہ بارود فراہم کر رہی تھیں۔

انڈیا، بحرہند اور بحرِ اوقیانوس فارایسٹ سے نزدیک ہے ۔ مقبوضہ ہندوستان نے انگریزوں کی دوسری جنگِ عظیم کی کا میابی میں اہم ترین کردار ادا کیا، اس علاقے میں جاپان کے خلاف جنگ جب حتمی مراحل میں داخل ہوئی تو امریکہ نے 6 اور 9 اگست 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر لٹل بوائے اور فیٹ مین نامی دو ایٹم بم گرائے، اس کے بعد امریکہ کی جانب سے جاپان کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کے لیے پیشکش کی جس پر جاپان کچھ دن بعد آماد ہ ہو گیا ، اور ہتھیار ڈالنے کی تقریب کا اہتمام 2 ستمبر 1945 کو خلیج ِ ٹوکیو کے ساحل پر لنگر انداز ہونے والے 530000 ٹن وزنی جنگی بحری جہاز USS Missouri پر منعقد کی گئی۔ اس جہاز پر جنگِ عظیم دوئم میں حصہ لینے والے ہزاروں فوجیوں کے علاوہ دنیا کے اہم ذرائع ابلاغ کے اداروں کے نمائندے اور اتحادی افواج کے اہم جنرل بھی مو جود تھے۔

دوسری جانب ایک چھوٹی بوٹ میں جاپانی حکومت کی طرف سے اُن کے وزیر خارجہ جو جنگ میں اپنی ایک ٹانگ گنوا بیٹھے تھے اور مصنوعی ٹانگ کے ساتھ چلتے ہوئے یہاں آئے تھے اور جاپانی جنرل کمانڈر انچیف نے غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کی دستاویزات پر دستخط کئے، اِن کے بعد اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل جنرل میکارتھر نے دستخط کئے اِن کے بعد اتحادیوں میں علامتی طور پر دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے ملکوں برطانیہ، آسٹریلیا کینیڈا، سوویت یونین اور چین کے جنرلوںنے دستخط کئے ۔

چین کی جانب سے برطانیہ، امریکہ کی حمایت یافتہ کھٹ پتلی حکومت کے جنرل نے دستخط کئے تھے کیونکہ یہاں مین لینڈ چین میں ماوزئے تنگ چین کی آزادی کی مسلح تحریک چلا رہے تھے جب کہ ویتنام میں بھی آزادی کے لیے تحریک جاری تھی ۔ امریکہ جنگی بحری جہاز پر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کرنے کے فوراً بعد تقریباً دوہزار لڑاکا طیاروں نے اس بحری جہاز کے اوُ پر سے پرواز کی ۔ جنرل میکارتھر نے دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کاا علان کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا اور جاپان کے ساتھ نئے تاریخی دور کے آغاز کی بھی بات کی۔

2 ستمبر 1945 ء کو جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی یہ تقریب 7 مئی 1945 ء کو برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے قطعی مختلف تھی۔ جرمنی کے ہتھیار ڈالنے سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سوویت یونین کی تقریباً 27 لاکھ فوج نے برلن کا محاصرہ کر لیا تھا اور پھر اپریل کے آخر تک یہ فوجیں برلن میں داخل ہو گئیں تھیں اور 2 مئی 1945ء کو ایڈو لف ہٹلر کی خودکشی کے بعد عملی طور پر جرمنی کی فوجوں نے سوویت یونین کی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے مگر پھر برطانیہ امریکہ اور فرانس کے کہنے پر سوویت افواج نے اِن اتحادی فوجوں کا انتظار کیا ، پھر 7 مئی 1945ء کو ہتھیار ڈالنے کی مشترکہ تقریب ہوئی جس میں اِن چار بڑی اتحادی قوتوں یعنی برطانیہ، امریکہ، سوویت یونین اور فرانس کے برابری کے مرتبے کی بنیاد پر جرمنی کی افواج سے ہتھیار ڈلوائے گئے تھے، اور ہتھیار ڈالنے سے ایک ماہ قبل تک کی برلن کی خونریز جنگ میں 7 لاکھ سے زیادہ جرمن فوجی اور اس کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی لاکھ سوویت فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

جرمنی کے بیشتر اور اہم داخلی راستوں کے اعتبار سے سوویت یونین کا قبضہ جرمنی پر مستحکم تھا مگر امریکہ ، برطانیہ اور سوویت یونین کے سربراہوں کی یالٹا اور تہران کانفرنسوںکے مطابق یہاں معاملات طے کئے گئے تھے، یہاں نہ صرف جرمنی کی نازی حکومت اور فوج ختم کردی گئی بلکہ جرمنی کا ایک حصہ سوویت یونین کے قبضے میں مشرقی جرمنی کے طور پر دے دیا تھا تو دوسری طرف مغربی جرمنی پر امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے حقوق کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔

یوں بعد کے دنوں میں نہ صرف یہاں مشرقی اور مغربی جرمنی کی بنیاد پر سوویت یونین اور اتحادی قوتوں امریکہ ، بر طانیہ اور فرانس کے درمیان تنازعات بھی پیدا ہوتے رہے اور ساٹھ کی دہائی کے ابتدا پر سوویت یونین نے یہاں دیوارِ برلن تعمیر کی اور پھر یہی دیوار سوویت یونین کے خاتمے سے چند روز قبل گرادی گئی اور مغربی اور مشرقی جرمنی دو بارہ ایک ہو گئے ۔ جاپان کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ امریکہ نے کیا اور اس سے قبل امریکہ نے ایٹم بم استعمال کئے تھے جس سے جاپان کے شہر وں ہیروشما اور نا گا ساکی میں خوفناک تباہی مچی تھی۔

اگر چہ آج بھی 6 اور 9 اگست کو جب پوری دنیا کے امن پسند اورانسان دوست اس موقع پر ایٹم بموں کے استعمال کو انسانیت کے خلاف قرارد یتے ہیں تو امریکہ کا موقف یہ ہوتا ہے کہ امریکی ایٹم بم ہی ہے جس کی وجہ سے دوسری جنگ ِعظیم کا جلد خاتمہ ممکن ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر بھی جاپان ایک دو ماہ بعد ہتھیار ڈال دیتا مگر امریکہ میکسیکو میں جولائی 1945 ء میں کا میاب ایٹمی دھماکے کر چکا تھا۔

امریکہ اس ہتھیار سے اسٹریٹجک انداز میں بہت بڑے فائدے اٹھانے میں کامیاب ہوا، ایک یہ کہ یہا ں اس محاذ پر اگر امریکہ ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرتا تو وہ شکست خودرہ جاپان سے ہتھیارڈلوانے کے بعد اپنی مرضی اور امریکی مفادات کے مطابق اور پوری طرح معاہدے نہیں کروا سکتا تھا اور اس پورے علاقے میں جاپان کے جو مفتوحہ علاقے تھے اُن پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ اپنی اجارہ د اری قائم نہیں کر سکتا تھا جن میں مین لینڈ چین ، تائیوان ، ہانگ کانگ ، فلپائن ، لاؤس ،کمبوڈیا، برونائی ، انڈو نیشیا، ملائیشیا، ویتنام وغیرہ شامل تھے۔

اسی طرح سوویت یونین کے تحفظات کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا۔ اِس موقع پر جاپان سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈلوانے تھے مگر امریکہ نے اپنے مفادات کے اعتبار سے اس سے ہتھیار ڈلوانے سے پہلے مذاکرات میں بہت کچھ طے کر وا لیا تھا جس کا اعلانیہ ذکر 2 ستمبر 1945 کو جاپان سے ہتھیار ڈالوانے کی دستاویز میں نہیں تھا جس پر سوویت یونین کے جنرل نے بھی دستخط کئے۔ یوں سوویت یونین نے امریکہ کے اس پلان کو جو فیلڈ مارشل جنرل میکارتھر کی معرفت امریکہ کے صدر ہنری ٹرومین نے یہاں اس خطے میں دیا تھا تسلیم کر لیا ۔

یہاں اُس وقت مین لینڈ چین میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت یافتہ کٹھ پتلی حکومت تھی اس کی جانب سے بھی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر چینی جنرل نے دستخط کئے تھے۔ واضح رہے کہ اس کے فوراً بعد 25 اکتوبر 1945 ء میں قائم ہو نے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسی چین کو رکنیت دینے کے ساتھ ساتھ چین کو اُس وقت ہی امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور سوویت یونین کے ساتھ ہی سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت اور ویٹو پاور بھی دیا گیا تھا۔

اب صورتحال یہ تھی کہ سوویت یونین سمیت سبھی امریکہ کی واحد ایٹمی قوت ہونے سے خائف تھے اور واقعی امریکہ تاریخ میں اُس وقت ایک ایسی سپر پاور بن چکا تھا جو اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دنیا کو بھسم کر سکتا تھا۔ یوں اس خطے کے اُن ملکوں میں جہاں اکثریت غربت کی وجہ سے اشتراکیت کی حامی تھی وہاں بھی سوویت یونین قدرے سست رفتار اور بہت محتاط انداز سے آگے بڑھنے کی کو شش کر رہا تھا ۔

مشرقی یورپ میں تو امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر مغربی اتحادی ممالک سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو تسلیم کر چکے تھے مگر یہاں کوریا ، فلپائن، چین، ویتنام ، لاؤس ، تھائی لینڈ ، انڈونیشیا ، ملائیشیا، تائیوان، ہانگ کانگ وغیرہ میں امریکہ اور اس کے اتحادی سوویت یونین کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

اکتوبر 1945 کے فوراً بعد جب پرانے سیاسی نو آبادیاتی نظام کی جگہ نئے اقتصادی نوآبادیاتی نظام کو متعارف کرایا جا رہا تھا تو امریکہ ، بر طانیہ ، فرانس اور دیگر اتحادی ملکوںکے سامنے ایک بڑا چیلنج سوویت یونین اور اس کی سرپرستی میں دنیا میں اُس وقت مقبول ہوتا کیمونزم نظام تھا، پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1930-32ء کی طرح جیسی عالمی کساد بازاری کی روک تھام کے لیے آئی ایم ایف کا ادارہ جنگ کے اختتام سے پہلے قائم ہوگیا تھا پھر یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ جنگ سے کھنڈرات میں بدلے ہوئے مغربی یورپ اور جاپان میں اگر تعمیر نو کا عمل نہایت تیز رفتاری سے شروع نہیں کیا گیا تو یہاں بھی اشتراکیت کو فروغ ملے گا۔ اس مقصد کے لیے ا مریکہ نے اپنے اتحادیوں کی مدد کی اور اربوں ڈالر کے منجمد سرمائے کوگردش میں لاتے ہوئے مغربی یورپ میں تعمیر نو کا تیز رفتار عمل شروع کر دیا ۔

جاپان جہاں بادشاہ ہیرہیٹو کو اقتدار اعلیٰ میں رہنے کے ساتھ جاپانی حکو مت کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو جاری رکھنے کی جنرل میکارتھر کی سفا رش کو امریکی صدر ہنری ٹرومین نے اپنایا تو یہاں جرمنی کی طرح لاکھوں فوجیوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ ویت نام، چین، لاؤس اور دیگر علاقوں میں جہاں جا پانی فوجی موجود تھے اُن ہی کے تعاون سے یہاں فرانس، برطانیہ ، اور دیگر نو آبادیا تی قوتوں کی سابق نو آبادیا ت جن پر جاپان نے دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران قبضہ کر لیا تھا بحال کیا گیا۔

اس کی بہترین مثال اور ثبوت ویتنام جنگ سے قبل فرانس کی نو آبادی تھی۔ فرانس جہاں دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر صرف تین دن میں جرمنی نے قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں صدر جنرل ڈیگال سمیت دیگر فرانسسی رہنماؤں نے بر طانیہ میں جلا وطن حکومت قائم کی تھی۔ یہاں ویتنام میں جنگ کے دوران ہندوستانی برطانوی افواج نے جنگ بھی کی اور جنگ کے اختتام پر انڈونیشیا اور ویت نام میں لارڈ ماوئنٹ بیٹن اور جنرل ڈیگلس گریسی نے ہی صورتحال کو فرانس کے حق میں کنٹرول کیا تھا اور جاپانی فوج نے ہتھیار ڈالنے کے بعد یہاں اتحادی فوجوں سے تعاون کیا تھا۔ یوں ہند چینی اور مشرق ِبعید کے اِن علاقوں میں امریکہ ، بر طانیہ اور فرانس ، جا پان سے امریکی معاہدوں کے تحت اپنی بالا دستی قائم کر چکے تھے ۔

دوسری جانب چین اور ویت نام جیسے ملکوں میں کیمونسٹ آزادی اور مکمل خود مختاری کے لیے بھر پور عوامی حمایت سے مسلح تحریکیں چلا رہے تھے۔ 1949 ء میں سوویت یو نین نے بھی ایٹمی دھماکہ کر کے امریکہ کے مقابلے میں دنیا کی دوسری ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کر دیا تو یہاں پر بھی کشیدگی بڑھ گئی، اسی سال مین لینڈ چین ماوزے تنگ کی قیادت میں کیمونسٹ انقلاب کے ساتھ چین آزاد ہو گیا، مگر امریکہ ، فرانس اور برطانیہ سمیت اقوام متحدہ کی اکثریت نے مین لینڈ چین کو تسلیم نہیں کیا اور تائیوان کو بطور چین اقوام متحدہ میں رکنیت اور ویٹو پاور دے دیا۔

اس دوران جنرل میکار تھر کے ماسٹر پلان کے تحت جاپان میں کثیر سرمایے کے ساتھ بہت تیز رفتار ترقی ہوئی۔ جنرل میکار تھر نے یہاں بادشاہ ہیرو ہیٹو سے مشاورت کے ساتھ فوری اصلاحات نافذ کرتے ہوئے جاگیرداروں سے لاکھوں ہیکٹر زمینیں خریدیں اور جدید انداز سے زرعی اور صنعتی تیز رفتار ترقی شرع کی۔

یوں جاپان جلد خوشحال ہو گیا اور یہاں عوام نے امریکی دوستی اور حمایت کو قبول کر لیا اور معاہدوں کے تحت جاپان کے مقبوضہ علاقوںمیں امریکہ اور بر طانیہ کی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے آج بھی جا پا ن کا تعاون اسی طرح امریکہ کو حاصل ہے جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد حاصل تھا۔

چین اور سوویت یونین کی دوستی 1953 ء تک جب تک اسٹالن کا انتقال نہیں ہوا تھا مضبوط رہی ، ا سٹالن کی وفات کے بعد عالمی کیمونسٹ لیڈر شپ میں سیاسی اعتبار سے ماوزے تنگ کا سیاسی قد بہت بڑا تھا اس لیے اور سوویت یونین کی جانب سے چین پر بالادستی قائم کرنے کے تناظر میں سوویت یونین اور چین کے تعلقات کمزور ہوتے چلے گئے مگر ساٹھ کی دہائی تک چین نے سوویت یونین کے ساتھ مل کر اپنے لاکھوں فوجیوں کے ساتھ کوریا میں امریکی اتحاد کے خلاف براہ راست جنگ لڑی اور ویتنام میں بھی امریکہ کی شکست میں اہم ترین کردار دا کیا۔ دوسری جانب 1949 ء سے 1962 ء تک چین کے بھارت سے بھی بہت گہرے دوستانہ مراسم تھے مگر جب وزیراعظم نہر و نے تبت کی چین سے علیحدگی کے لیے مذہبی رہنما دلائی لامہ کو بھارت میں سیاسی پناہ دی اور سرحدی تناعازت کو حل نہیں کیا تو 1962 ء میں چین بھارت جنگ ہوئی جس میں بھارت کو شکست ہوئی۔ دوسری جانب سویت یونین سے بھی چین کے تعلقات کشیدہ ہوگئے اس کے نتیجے میں پا کستان اور چین ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔

1949 ء سے لے کر1973 ء تک مشرق وسطیٰ، فارایسٹ ، لا طینی امریکہ ، افریقہ تقریباً ہر جگہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سوویت یونین نے پسپا ہونے پر مجبور کیا۔1971 ء تک چین دنیا میں خارجی محاذ پر تنہائی اور اکیلے پن کا شکار رہا، اسی سال پا کستان نے چین کے لیے بہترین سفارت کاری کی اور پاکستان سے امریکی سیکرٹری ہنری کسنجر نے پی آئی اے کی فلائٹ سے خفیہ دورہ کرتے ہوئے امریکی صدر نیکسن کے دورے اور ماوزے تنگ سے ملاقات اور چین ، امریکہ تعلقات کے لیے راستہ ہموار کیا، پھر چند ماہ بعد تائیوان کی بجائے چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت کے ساتھ سکیور ٹی کونسل میں مستقل رکنیت اور ویٹو پاور مل گیا۔

ستر کی دہائی سے عالمی حالات تبدیل ہونے لگے اور پاکستان میں جنرل ضیالحق مارشل لا نافذ کر کے اقتدار میں آگئے، ایران میں امام خمینی انقلاب لے آئے اور بادشاہت کا خاتمہ کر دیا، افغانستان جہاں ستر کی دہائی کے آغاز پر بادشاہت کا خاتمہ کر کے صدر داؤد برسراقتدار آئے تھے یہاں روس نواز صدر نور محمد تراکئی نے اشتراکی حکومت قائم کر دی اور 1988 ء تک یہاں سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف سخت مزاحمت کے بعد انخلا ہوا۔ 1990 میں سوویت یونین بکھر گئی۔

اس دوران چین مستقل مزاجی اور خاموشی سے اپنی طے کردہ اقتصادی، صنعتی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کرتا رہا اور اس کے ساتھ ہی ون چائلڈ پالیسی کو سختی سے نافذالعمل کرتے ہو ئے تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا ۔

یہ وہ دور ہے جب امریکہ دوبارہ فاتح عالم بن کر نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے ساتھ دنیا کو گلوبل ولیج بنانے کے نقشے سامنے لانے لگا تھا لیکن امریکی مصروفیت خصوصاً نائن الیون کے بعد فوجی اعتبار سے بہت بڑھ گئی اور چین کو ایک بار پھر اقتصادی صنعتی ترقی کے لیے کھلا میدان مل گیا مگر اب چین قومی اور علاقائی سطحوں پر اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے بعد عالمی سطح پر دیکھتے دیکھتے دوسرے نمبر پر پہنچ گیا تو اسے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی ایک کوشش تو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہوئی جب اُنہوں نے امریکہ فرسٹ کا نعرہ لگایا، اور پوری دنیا میں تمام اخلاقی سیاسی اقدار کو بلائے طاق رکھ کر اقدامات کئے، اُس وقت بھی چین کے خلاف کاروائیاںکر نے کی پالیسی ترتیب دی، چین کی مصنوعات پر زیادہ محصولات لگائے، حالیہ QUAD بھی تشکیل پایا اور ساوتھ چائنہ سی میں بھی چین کو روکنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

20 جنوری 2021 ء کو جوبائیڈن نے امریکہ کے نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو اُنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بیشتر پالیسیوں سے انحراف کیا، مگر جہاں تک تعلق چین کا ہے تو صرف صدر جوبائیڈ ن نے ایک ماہ بعد ہی چین کے خلاف QUAD کو زیادہ متحرک کیا اور اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے ہاں 2300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے بڑے بڑے منصوبے بنائے گا اور امریکیوں سمیت بیرونی دنیا کے لوگوں کے لیے روزگار کے کئی ملین مواقع پیدا کئے جائیں گے پھر انہوں نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو تجویز دی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کو بھی چین کی طرز کا ون بیلٹ ون روڈ جیسا منصوبہ جمہوری ممالک کے ساتھ مل کر شروع کرنا چاہیے لیکن اس وقت جنوبی بحیرہ چین میں QUAD چار یعنی امریکہ ، آسٹریلیا، جاپان اور بھارت مشترکہ طور پر چین کے سامنے ہیں جب کہ یہاں وہ کافی حد تک فلپائن، تائیوان، لاؤس ، ویتنام وغیرہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بحیرہ جنوبی چین ، بحرِاقیانوس کا ایک اہم اور قدرے بڑا آبی حصہ ہے اور سنگاپور سے لیکر آبنائے تائیوان تک 35 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

یہ پانچ ابحار یعنی اوقیانوس ، بحرالکاہل، ہند منجمد جنوبی، منجمد شمالی کے بعد سب سے بڑا آبی علاقہ ہے ۔ بحیرہ جنوبی چین سے ملحقہ ممالک میں چین، مکاؤ، ہانگ کانگ ،تائیوان، فلپائن، ملائیشیا، برونائی ، انڈو نیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ ، کمبوڈیا اور ویت نام شامل ہیں، ساوتھ چائنا سی میں 250 جزائر ہیں جن میں کچھ آباد اور کچھ غیر آباد ہیں اور بعض متنارعہ بھی ہیں، پھر چین نے کچھ مصنوعی جزائر بھی تعمیر کئے ہیں ان میں کئی جزائر دفاعی نقطہ نظر سے بہت اہم ہیں۔ اسی طرح بحیرہ جنوبی چین میں کچھ آبنائے بھی بہت اہم ہیں جن میں سنگاپور آبنائے جو 105 کلومیٹر لمبی اور 16 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔

یہ آبنائے مغرب میں مالاکا سے اور مشرق میں آبنائے کاریماٹا سے ملتی ہے Strait of Malacca آبنائے مالاکا جو 930 کلومیٹر لمبی ہے ایک تنگ سمندری راستہ ہے، جزیرہ نما مالئے اور انڈونیشیا کے جزائر سماٹرا کے درمیان ہے، اِن کے علاوہ بھی یہاں دیگر آبنائے ہیں جو دفاعی اسٹرٹیجی لحاظ سے بھی بہت اہم ہیں۔ جنوبی بحیرہ چین زبردست عسکری دفاعی، تجارتی اور اقتصادی اہمیت رکھتا ہے۔

پوری دنیا کی بحری تجارت کا تیسرا حصہ اس سمندر سے ہوتا ہے جس کی سالانہ مالیت 3 ٹریلین یعنی تین کھرب امریکی ڈالر ہے پھر یہاں یعنی اس 35 لاکھ مربع کلو میٹر سمندری رقبے کے نیچے دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر ہیںجن کا تخمینہ گیارہ 11 ارب بیرل تیل ،190 کھرب کیوبک گیس ہے اور چین کا اس سمندر پر تاریخی ، جغرافیائی اعتبار سے دعویٰ ہے اور یہ دعویٰ 1949 ء میں جب چین ماوزے تنگ کی قیادت میں اشتراکی انقلاب کی بنیاد پر آزاد ہوا تھا اُس وقت ہی سے ہے ، مگر اُس وقت چین کمزور بھی تھا اور اس کے بارے میں ماہرین کی آرا یہ تھی کہ یہ ملک اپنی بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکے گا اور جلد مسائل کا شکار ہو جائے گا۔

مگر اب چین مغربی ماہرین کی تمام تر پیش گوئیوں کے برعکس دنیا کی دوسری اقتصادی اور تیسری فوجی قوت بن چکا ہے بلکہ بعض عالمی درجہ بندیوں کے تحت اسے اب فوجی اعتبار سے بھی دنیا کی دوسری قوت قرار دیا جا رہا ہے۔

ساوتھ چائنہ سی میں اگر چہ کچھ مقامات پر چین کے فلپائن اور ویتنام سے تنازعات تھے مگر2018 ء تک یہاں صورتحال علاقائی تنازعات اور کشیدگی کے اعتبار سے پُر سکون رہی مگر 2018 ء کے مارچ اور اپریل کے مہینوں سے چین نے جنوبی بحیرہ چین میں نہ صرف فوجی ، جنگی مشقیں شروع کردیں بلکہ یہاں موجود اپنے قدرتی جزائر اور مصنوعی جزائر پر عسکری ،فوجی نوعیت کی اہم تعمیرات شروع کر دی ہیں۔

جواباً امریکی نیوی نے بھی(FONOPs)freedom of navegation operation کے نام سے 2018 ء ہی میں یہاں انٹر نیشنل واٹر اور فلپائن کے ساحل کے قریب جنگی مشقیں شروع کیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر2017 میں کہا تھا امریکی جنگی مشقوں کا مقصد ساوتھ چائنہ کو محفوظ رکھا جائے، چین کا تائیوان سمیت اس علاقے پر دعویٰ ہے اور اب چین اس پر زیادہ زور دے رہا ہے اور 2018 ء سے چین نے اپنی دو بڑی نیوی اور فوج کی فارمیشنیںیہاں لگا دی ہیں جس میں بڑی تعداد میں جدید طیارے ، کروز میزائل ، ریڈار اور ڈیفنس سسٹم شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدرات کے آخری سال2020 ء میں ملابار میں جنگی مشقوں کے دوران امریکی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر اور امریکی سیکرٹری ٰآف اسٹیٹ مائک پومپیو Mike Pmpeo نے QUAD کے ممبران سے دفاعی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کیواڈ کو ا یشین نیٹو قرار دیا، اسی طرح 2021 ء کیواڈ لیٹرل ڈائیلاگ یعنی چاررکنی مذاکرات پر بھارت کے کچھ حلقوں کی جانب سے اندیشوں اور خوف کا اظہار کیا گیا اور امریکہ سے بھاری تعداد اور مقدار میں جدید اسلحہ کی خریداری اور امریکی فوجی سسٹم لینے پر ماہرین نے یہ تنقید اور مخالفت کی کہ امریکہ کی عراق میں ایران کے خلاف موجودگی کی طرح چین کے خلاف بھارت کے اس چار قوتی اتحاد سے اب امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس جنگی بحری جہاز بھارت کے ساحلوں اور بندرگاہوں پر ہوں گے جس سے ایشیا ئی امن کو نقصان ہو گا۔

اب امریکہ مستقل طور پر گیوا اور کوچی کے علاقے میں آجائے گا۔ ایک بھارتی سفارتکار ایم کے راسگوترا کا کہنا تھا کہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ ایشیا میں یہاں دفاعی معاہد ے کرے جس کے نتیجے میں Asian Century ا یشیائی صدی کا خواب پورا نہیں ہوگا اور یہ صدی بھی امریکہ ہی کی صدی ہو گی۔ چین کا اس پر احتجاج بھی ہے اور تحفطات بھی ہیں۔ جب کہ علاقے کے دیگر ممالک بھی خصوصاً کیواڈ میں آسٹریلیا ، جاپان اور امریکہ کے ساتھ بھارت کی شرکت پر بھی تشویش کا شکار ہیں اور اس اعتبار سے بنگلہ دیش، سری لنکا جو یہاں سمندری قربت رکھتے ہیں اِن کو پریشانی لاحق ہے۔

اکتوبر 2020 ء میں بحرِ ہند میں QUAD کی تعیناتی پر سری لنکا نے تشویش کا اظہار کیا، جب بحرِہند میں جاپان، امریکہ، کینیڈا نےKeen Saoroi کے نام سے یہاں جنگی مشقیں کیں، اسی سال کواڈ کی ایک فوجی مشق آبنائے تائیوان میں ہوئی اور پھر کواڈ کا اہم اجلاس ٹوکیو میں ہوا جس میں آسٹریلیا کے وزیراعظم نے شرکت کی اور جاپان اور آسٹریلیا نے معاہدے کے اصولوں پر اتفاق کرتے ہوئے فوجوں کی تعداد بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی۔

18 فروری2021 ء کے اجلاس میں امریکہ کے Kurt Camplall نے ایشین نیٹو پر بات کی۔ آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ نے اتفاق کیا کہ وہ انڈو پیسفیک ریجن میں چین کے دعوٰں کو چیلنج کر یں گے، 20 جنوری 2021 ء کو جب نئے امریکی صدر جوبائیڈن وائٹ ہاوس میں آئے تو اُن کا لہجہ اور انداز چین کے لیے متوازن تھا اور یوں لگتا تھا کہ وہ چین سے بات چیت کے ذریعے معاملات کو نارمل کر لیں گے مگر دو تین مہینوں بعد ہی اُن کا لہجہ اور انداز چین اور روس دونوں کے بارے میں تبدیل ہوا ، امریکی تھنک ٹینک کی جانب سے بھی اعلی سطح پر امریکہ ، چین مذاکرات تجویز کئے گئے۔

18 مارچ 2021 ء کو امریکی ریا ست الاسکا کے شہرا نکاراج سٹی میں چین اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے جس میں میزبان کے طور پر امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلینکن اور نیشنل سیکو رٹی ایڈوائزر جیک سولی وان تھے اور چین کی جانب سے وزیرخارجہ Wang Yi واننگ ای اور چینی اسسٹنٹ کونسلر ، ڈائریکٹر جنرل فارن اینڈ کمیشن Yang Jiechi یانگ جی چی تھے اجلاس کے آغاز پر امریکی سیکرٹری انٹونی بیلیکن اور سیکورٹی ایڈوائزر نے میزبانی کے آداب کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی چینی وفد پر چڑہائی شروع کر دی ۔

پھر امریکہ نے یہ اقدام بھی کیا کہ یہ دو اعلیٰ چینی عہدیدار روانہ ہوئے تو اس کے تھوڑی دیر بعد امریکہ نے چین پر کچھ پابندیاں عائد کر دی تھیں، چینی وفد نے بہت تحمل سے امریکی اعلیٰ عہدیداوں کے تلخ لہجے کے ساتھ چین پر لگائے الزامات اور دھمکیاں سنیں کہ امریکہ ہانگ کانگ ، تائیوان پر اِن کے ساتھ ہے۔ انہوں نے چین کی جانب سے امریکہ پر سائبر اٹیک کے اور اقتصادی شعبے میں بھی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا اور پھر اپنی باری پر چینی وزیر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل نے بہت مہذب انداز گفتگو اختیار کرتے ہوئے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ۔

اُنہوں نے کہا کہ چین کبھی بھی امریکہ کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو تسلیم نہیں کرے گا، اب امریکہ کو اپنی پذیرائی اوراجارہ داری کی روش کو ترک کرنا ہوگی، جس کے تحت امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ الاسکا کی انکراج سٹی چین اور امریکہ کے فضائی راستے کے بالکل درمیان ہے اس کو درمیانی نکتہ سمجھتے ہوئے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں، امریکہ نے ہماری روانگی پر17 مارچ 2012 ء کو ہانگ کانگ کے مسئلے کو بڑھا کر چین پر پابندیاں عائد کیں جسے چین اپنے معاملات میں دراندازی سمجھتا ہے، یہ میزبانی کا طریقہ نہیں کہ مہمان جب روانہ ہو ئے تو آپ نے پابندیاں عائد کر دیں، اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی نام نہاد برتری چین پر اس عمل سے جتلا سکتا ہے تو امریکہ کے یہ اندازے بالکل ہی غلط ہیں اس طرح امریکہ نے اپنی اندرونی کمزوریاں ظاہر کر دی ہیں، یہ عمل یہ روش چین کی جائز اور درست پوزیشن کو ہرگز متاثر نہیں کر سکے گی، اور نہ ہی چینی عوام کی مضبوط قوت ارادی جس کے تحت وہ اپنی خود داری ، خود مختاری اور وقار کی حفاظت کرتے ہیں۔

اس قوتِ ارادی کو ہلا سکے گی، اگر امریکہ کچھ ممالک جن کو وہ اپنا اتحادی سمجھتا ہے اِ ن کو چین کے مقابلے میں غلط الفاظ اور عمل کے سات کھڑا کر رہا ہے تو یہ بین الاقوامی تعلقات کی آسانی اور بہتری کی بجائے مشکل ہو گا، چینی صدر شی جنگ پنگ اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان ٹیلی فون پر ہو نے والی گفتگو بہت اہم ہے۔

اس میں دونوں ممالک نے چین امریکہ تعلقات کو دوبارہ ’’ پٹری پر لا نے‘‘ یعنی معمول پر لانے کو ایک درست قدم قرار دیا تھا،آخر میں چینی اعلیٰ حکام نے کہا کہ انکراج سٹی میں ہونے والے مذاکرات پر پو ری دنیا کی توجہ ہے کہ چین اور امریکہ کیا درست معنوں میں مخلصا نہ اور بہتر انداز کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟ اور کیا دونوں ملک ساری دنیا کو مثبت اشارات دے سکتے ہیں ؟ اگر امریکہ رضامند ہے تو امریکہ اور چین باہمی احترام کی بنیاد پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

چین اپنی ذمہ داریاں نبھا سکتا ہے اور وہ اہداف جو اس کے سامنے رکھیں جائیں وہ پورے کر سکتا ہے ۔ بد قسمتی سے اس کے بعد ساوتھ چائنا سی کے علاقے میں مزید کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق کواڈ کے تحت امریکی بحری بیڑے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس جنگی جہاز بھی بحیرہ جنوبی چین میں گشت کر رہے ہیں اور دوسری جانب چین بھی اس قدر مستعد ہے کہ اُس نے فوجیوں کے لیے تعطیلات بھی منسوخ کر دی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں