24

شاہین آفریدی پر ’’کام کے بوجھ‘‘ کا تاثر مسترد

پیسرسے زیادہ اوورزعمران اوروسیم نیٹس میں کیا کرتے تھے،شعیب اختر۔ فوٹو: فائل

پیسرسے زیادہ اوورزعمران اوروسیم نیٹس میں کیا کرتے تھے،شعیب اختر۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  شاہین شاہ آفریدی پر ’’کام کے بوجھ‘‘کا تاثر مسترد کر دیاگیا۔

نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی اس وقت بولنگ مشین بنے ہوئے ہیں،ٹیم مینجمنٹ انھیں تمام فارمیٹس میں مسلسل استعمال کررہی ہے، جس کی وجہ سے مختلف حلقوں کی جانب سے نوجوان فاسٹ بولرز پر کام کے بوجھ کے خدشات ظاہر کیے جانے لگے، دوسری جانب ان خدشات کو ہوا میں اڑانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ شاہین شاہ آفریدی نے اب تک اپنے پورے ٹی 20 کیریئر میں 90 کے قریب اوورز کیے ہیں، اپنے آخری 8 ٹیسٹ میچز کے دوران انھوں نے 150اوورز کیے، کیا یہ بہت زیادہ کام کا بوجھ ہے؟

انھوں نے کہاکہ شاہین آفریدی پر کام کے دباؤ کی بار بار باتیں کرنا چھوڑ دیں، جتنے اوورز انھوں نے اب تک کیے اتنے تو  عمران خان اور وسیم اکرم صرف نیٹس میں کرنے کے عادی تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستانی بولنگ کوچ وقار یونس نے بھی لیفٹ آرم پیسر سے متعلق خدشات کو غلط قرار دیا تھا، ان کے مطابق بولرز پر کام کے بوجھ پر نظر رکھتی جاتی ہے، پی ایس ایل کے ملتوی ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کو آرام کا کافی وقت میسر آگیا، تھکن کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

گزشتہ ماہ ’’ایکسپریس‘‘ میں شائع شدہ ایک رپورٹکے مطابق خود شاہین آفریدی بھی آرام نہیں کرنا چاہتے،اس بارے میں لیفٹ آرم پیسر جنید خان نے کہا تھا کہ نوجوان بولر کو درحقیقت آرام کی ضرورت ہے، مینجمنٹ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ نیٹ میں زیادہ بولنگ نہ کریں، اصل بات یہ ہے کہ شاہین کو ٹیم میں اپنی جگہ چھننے کا خوف ہے اس لیے وہ خود بھی آرام نہیں کرنا چاہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں