55

شہد کی مکھیاں بارودی سرنگیں ڈھونڈنے لگیں

کروشیا میں ماہرین برسوں سے شہد کی مکھیوں کو بارودی سرنگیں کی تلاش کی تربیت دے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کروشیا میں ماہرین برسوں سے شہد کی مکھیوں کو بارودی سرنگیں کی تلاش کی تربیت دے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

آپ کو شاید شہد کی مکھیوں کی اس خوبی کا علم نہ ہو کہ وہ بمبوں کو ڈھونڈنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

شہد کی مکھیاں دھماکہ خیز مواد کو سونگھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کروشیا میں ماہرین برسوں سے شہد کی مکھیوں کو بارودی سرنگیں کی تلاش کی تربیت دے رہے ہیں لیکن ایک مسئلہ ہے۔ شہد کی مکھیوں جب خوشی خوشی بارودی سرنگوں کے علاقوں میں گھس جاتی ہیں تو انسانوں کے لیے ان کا پیچھا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بارودی سرنگوں والے علاقوں میں مکھیوں کے پیچھے بھاگنا بالکل بھی اچھا خیال نہیں ہے لیکن انسان نے اس مسئلے کا بھی حل ڈھونڈ نکالا ہے۔

بلقان کے علاقے جہاں نوے کی دہائی میں جنگ اپنے عروج پر تھی وہاں بوسنیا ، ہرزگوینا اور کروشیا میں ایک ٹیم ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس میں ڈرونز کے ذریعے اور تربیت یافتہ شہد کی مکھیوں کا پیچھا کر کے ان جگہوں کی فوٹیج تیار کی جاتی ہے جن کا بعد میں کمپیوٹر پر تجزیہ کر کے بارودی سرنگ کا پتہ چلا لیا جاتا ہے۔

بارودی سرنگیں دنیا کے مختلف حصوں میں اب بھی انسانوں کے لیے مشکلات کا باعث ہیں اور بلقان کے علاقوں میں ہزاروں بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں جن میں بعض آج بھی وہیں موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بوسنیا ہرزگووینا میں 80 ہزار اور کروشیا میں 30 ہزار بارودی سرنگیں اب بھی موجود ہیں۔ علاقوں کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنا ایک طویل اور محنت طلب کام ہے لیکن ٹیکنالوجی اس میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

بوسنیا ہرزگوینا کی بانجا لوکا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ولادی میر ریسوجوچ کا کہنا ہے: ’ہم انسانوں کو ممکنہ خطرے سے بچانا چاہتے تھے اور ڈرون استعمال کرنے کی کوشش کی۔‘اس سے قبل تحقیق کارروں کی ایک اور ٹیم نے شہد کی مکھیوں کو بارودی سرنگوں کو ڈھونڈنے کی تربیت دی تھی۔ تحقیق کاروں نے شہد کی مکھیوں کو چینی کے استعمال کے ذریعے ٹی این ٹی بارودی مواد کو سونگھنے کی تربیت دی۔

تربیت یافتہ مکھیاں خوراک کی امید پر ایسی جگہوں پر جمع ہو جاتی ہیں جہاں ٹی این ٹی کیمیکل سے لبریز بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ اس طرح کی کوششیں کئی برسوں سے جاری تھیں۔ پروفیسر ریسوجوچ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کو یہ احساس ہوا کہ وہ کمپیوٹر کے ذریعے بارودی سرنگوں کو ڈھونڈنے والی مکھیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور آسانی کے ساتھ ایسی جگہوں تک پہنچ سکتے ہیں جہاں باردوی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں لیکن اس میں بھی مشکلات تھیں۔

پروفیسر ریسوجوچ کا کہنا ہے کہ یہ انسانی آنکھ کے لیے بھی مشکل ہے کہ وہ محو پرواز مکھیوں کو دیکھ سکے اور کمپیوٹر کی آنکھ کے لیے تو یہ اور بھی مشکل تھا ’ کئی ایسے لمحے بھی آئے جب مجھے لگا کہ ہم بیوقوف ہیں جو یہ کر رہے ہیں لیکن نتائج دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔‘

تحقیق کاروں کی ٹیم نے ڈرون کے ذریعے بیرونی ایریا کی حاصل کردہ فوٹیج کے اوپر نقلی مکھیوں کو سپر امپوز کیا۔ جب نقلی مکھیاں دوسری مکھیوں میں گم ہو گئیں اور انھیں شناخت کرنا ممکن نہ رہا تو پھر سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کے پروگرام ایلگوریتھم کو استعمال کر کے ساری فوٹیج کا جائزہ لیا۔ ایلگوریتھم کی مدد سے ڈیجیٹل مکھیوں کو ڈھونڈا گیا اور اس میں ان کی کامیابی کی شرح 80 فیصد تھی۔

اس کے بعد تحقیق کاروں نے یہ جانچنے کے لیے کہ یہ پروگرام اصلی حالات میں کتنا کارگر ہے، کروشیا کی ایک اصلی لیکن اب مکمل طور پر محفوظ بارودی سرنگ کا رخ کیا۔

ابھی تک اس تحقیق کو ایک تعلیمی مقالے کی شکل میں تو شائع نہیں کیا گیا لیکن پروفیسر ریسوجوچ کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگ میں ہونے والے تجربے کے دوران شہد کی مکھیوں کے جھرمٹ بنانے اور بارودی مواد میں ایک تعلق سامنے آیا ہے۔ ابھی تک ڈرونز پہلے سے طے شدہ راستوں پر اڑتے ہیں اور اس دوران وہ شہد کی مکھیوں کے جھرمٹ کی فوٹیج تیار کرتے ہیں۔ پھر اس فوٹیج کا تجزیہ کر کے ایسی جگہوں کا پتہ چلایا جاتا ہے جہاں شہد کی مکھیوں نے جھرمٹ بنائے۔

پروفیسر ریسوجوچ کا کہنا ہے بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے کے لیے اس نئے طریقہ کار کے موثر ہونے میں کچھ برس لگ سکتے ہیں لیکن اس طریقہ کار کی مدد سے پہلے سے موجود بارودی سرنگوں کو ڈھونڈنے کے طریقوں کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

بارودی سرنگوں کو ڈھونڈنے کے لیے جو ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں ان میں ایک ہاتھ میں اٹھانے والا میٹل ڈیٹیکر ہے جس میں زمین کے اندر تک مشاہدہ کرنے والا ریڈار بھی نصب ہوتا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجیز کے استعمال سے بھی ایسی جگہوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ممکن نہیں جہاں باروری سرنگیں بچائی گئی تھیں۔ ایسی جگہوں پر باقی ماندہ بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے کے لیے شہد کی مکھیوں اور ڈرونز کا استعمال کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

نیویارک کی پیس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے میتھو بولٹن کے خیال میں ٹیکنالوجیز میں جدت کے ذریعے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی حدوں کا تعین ممکن ہے لیکن اس مسئلے کا کوئی پائیدار حل ابھی ممکن نہیں ہے۔ میتھو بولٹن کے خیال میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں بڑی رکاوٹیں سیاسی جھگڑے اور وسائل کی کمی ہے جس کی وجہ سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے منصوبے التو کا شکار ہو جاتے ہیں بیشک کیسی ہی ٹیکنالوجیز موجود ہوں۔ میتھو بولٹن پولیٹکل مائن فیلڈ: خودکار ہلاکتوں کے خلاف جدوجہد (Political Minefields: The Struggle against Automated Killing ) کے مصنف ہیں۔

اس کے علاوہ یمن جیسے ملکوں میں آج بھی بارودی سرنگیں بچھائی جا رہی ہیں۔ تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود پروفیسر ریسوجوچ پرامید ہیں کہ ان کی ٹیم نے جو طریقہ کار وضح کیا ہے اس سے کروشیا، بوسنیا اور ہرزگوینا ایک دن بارودی سرنگوں سے پاک ہو جائیں گے۔ اور یہ طریقہ کار دوسری جگہوں پر بھی استعمال ہو سکے گا۔

حالیہ برسوں میں ایسا کمپیوٹر سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے جو حشرات الارض کو قدرتی ماحول میں ٹریک کر سکتا ہے۔ پروفیسر ریسوجوچ اور ان کی ٹیم کا خیال ہے کہ ایسے طریقوں کو بروئے کار لا کر ان چیزوں کا بھی پتا چلایا جا سکے گا جو فصلوں کی صحت اور قدرتی ماحول کے لیے انتہائی اہم ہیں لیکن انسانی کارروائیوں کی وجہ سے حشرات الارض کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ اگر حشرات الارض اور ٹیکنالوجی مل کر کام شروع کریں تو یہ ہماری دنیا کے بھی اچھا ہو گا۔

( بشکریہ بی بی سی )
کرس بارا نیوک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں