41

عالمی سرمایہ کار امریکا کی بجائے چین کو ترجیح دے رہے ہیں، او ای سی ڈی

تنظیم برائے عالمی اقتصادی تعاون کا کہنا ہے کہ آج امریکا کی جگہ چین عالمی سرمایہ کاروں کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

تنظیم برائے عالمی اقتصادی تعاون کا کہنا ہے کہ آج امریکا کی جگہ چین عالمی سرمایہ کاروں کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بیجنگ: عالمی سرمایہ کاروں کی اکثریت اس وقت امریکا کو چھوڑ کر چین میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ انکشاف ’’او ای سی ڈی‘‘ کے تازہ اعداد و شمار میں کیا گیا ہے۔

چند روز قبل اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال عالمی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ 15 سال کی کم ترین سطح پر آگئی تاہم چین ان چند اہم معیشتوں میں سے ایک رہا جنہوں نے ترقی کو برقرار رکھا اور امریکا کی جگہ لے کر دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری منزل بن گیا۔

رائٹرز کے مطابق، او ای سی ڈی کی اس رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ کووڈ 19 کی وبا نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس لئے 2020 میں عالمی سطح پر غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری 38 فیصد کی کمی کے ساتھ 846 ارب ڈالر رہ گئی، جو 2005 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ وبا کی وجہ سے امریکا میں بہت سے معاشی شعبے بند ہوگئے اس لیے چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی سب سے بڑی منزل کے طور پر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں