27

عید کے متعلق رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ درست ہے، مولانا طاہراشرفی

 وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ عید کے اعلان کے تناظر میں رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ درست تھا اور اب قضا روزہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ فوٹو: فائل

وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ عید کے اعلان کے تناظر میں رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ درست تھا اور اب قضا روزہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ فوٹو: فائل

 لاہور: وزیرِ اعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی، مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ عید کے اعلان کے تناظر میں رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قوم کو اس ضمن میں قضا کردہ ایک روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس رمضان کو عوام کی بڑی تعداد 30 روزوں کی امید کررہے تھے جبکہ عید 14 مئی کو متوقع تھی۔ دوسری جانب رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے عید کے چاند کا حتمی اعلان 12 مئی کی رات گیارہ بجے کے بعد کیا گیا جس سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑگئی تھی۔

اس کے بعد رویتِ ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین اور ممتاز عالمِ دین مفتی منیب الرحمان نے قوم سے ایک روزہ قضا رکھنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ رویتِ ہلال کمیٹی کے (مبینہ) متنازعہ فیصلے پر پوری رات روتے رہے تھے۔

مفتی منیب نے مزید کہا تھاہ کہ ہماری میٹنگ میں کسی وزیر کی جرات نہیں تھی کہ وہ بیٹھے ، میں وصیت کرتا ہوں کہ تمام مسلمان ایک روزہ قضا رکھیں ، معتکف بھی روزے کی حالت میں ایک روز کا اعتکاف کریں۔

آج عید کی نماز میں بھی مفتی منیب نے کہا کہ وہ جمعہ 14 مئی کو اس روزے کی قضا رکھیں گے اور انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ اگلے ماہِ رمضان سے قبل گرمیوں یا سردیوں میں جب چاہیں ایک روزے کی قضا پوری کرسکتے ہیں۔

اس کے ردِ عمل میں مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ نہ روزہ قضا ہوا ہے اور نہ ہی ایک روزہ اعتکاف دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے ہلالِ شوال کی تصویر بھی شیئر کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں