53

غلام فرید صابری قوال کو بچھڑے 27 برس بیت گئے

قوام غلام فرید صابری 1994 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ فوٹو:فائل

قوام غلام فرید صابری 1994 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ فوٹو:فائل

 کراچی: ’’تاجدار حرم‘‘، ’’بھر دو جولی میری یا محمد ﷺ‘‘ سے عالمی شہرت پانے والے پاکستانی قوال غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 27 برس بیت گئے۔

فن قوالی کو نئی جدت دینے والے غلام فرید صابری 1930ء میں بھارتی ریاست مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن سے ہی قوالیوں کا شوق تھا۔غلام فرید صابری کا پہلا البم 1958ء میں ریلیز ہوا، البم میں موجود قوالی ’میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘ نے مقبولیت کے کئی ریکارڈز اپنے نام کیے۔

’تاجدارِ حرم‘ اور اس جیسی دیگر کئی مقبول قوالیوں سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دینے والے غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔

غلام فرید صابری اور مقبول صابری نے فلموں کے لیے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں جن میں عشق حبیب، چاند سورج، الزام، بن بادل برسات، سچائی شامل ہیں۔ صابری برادران نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنی آواز کا جادو جگایا وہ جب اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تو سننے والوں پر سحر طاری ہوجاتا تھا۔

واضح رہے کہ اپریل 1994ء کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے، ان کی قوالیاں آج بھی سننے والوں پر سحر طاری کر دیتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں