27

’ فارغ‘ آسٹریلوی کرکٹرز فرسٹریشن کا شکار ہونے لگے

پرانے دوست دست و گریباں ہونے کی رپورٹس پر صفائیاں پپش کرنے لگے

پرانے دوست دست و گریباں ہونے کی رپورٹس پر صفائیاں پپش کرنے لگے

مالے / مالدیپ:  ’ فارغ‘ آسٹریلوی کرکٹرز فرسٹریشن کا شکار ہونے لگے، مالدیپ میں موجود ڈیوڈ وارنر اور سابق کھلاڑی مائیکل سلیٹر مبینہ طور پر بار میں الجھ پڑے، پرانے دوستوں نے فوری طور پر دست و گریباں ہونے کی رپورٹس پر صفائیاں دینا شروع کردیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی پی ایل کے ملتوی ہونے اور آسٹریلیا کی جانب سے بھارت کے ساتھ اپنی سرحد بند کرنے کی وجہ سے 40 کے قریب آسٹریلوی کرکٹرز، کوچز اور کمنٹیٹرز اس وقت مالدیپ میں وقت گزار رہے ہیں، انھیں 15 مئی کو اپنی حکومت کی جانب سے فضائی سروس بحال کیے جانے کا انتظار ہے تاکہ یہ اپنے ملک واپس لوٹ سکیں تاہم اب فراغت کے باعث کھلاڑی فرسٹریشن کا شکار ہونے لگے ہیں۔

گذشتہ روز ڈیلی ٹیلی گراف نے سب سے پہلے رپورٹ دی کہ سن رائزرز حیدرآباد کے معزول کپتان اور آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر کا مالدیپ کے بار میں اپنے بہترین دوست سابق کرکٹر مائیکل سلیٹر کے ساتھ جھگڑا ہوگیا ہے، سلیٹر کمنٹیٹر کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کیلیے بھارت میں موجود تھے مگر وہاں پر کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے سب سے پہلے مالدیپ پہنچ گئے تھے، دونوں کے درمیان جھگڑے کی وجہ سامنے نہیں آئی تاہم یہ خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، جس پر سلیٹر اور وارنر دونوں ہی صفائیاں دینے لگے۔

سلیٹر کا کہنا تھا کہ یہ صرف افواہ اور اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے، میں اور وارنر دونوں ہی بہت اچھے دوست اور آپ میں لڑائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب وارنر کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی ڈرامہ نہیں ہوا ہے۔

مجھے نہیں کہ آپ کو یہ باتیں کس نے بتائی ہیں، جب تک آپ خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں آپ کو ایسا نہیں لکھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ سلیٹر نے بھارت سے مالدیپ روانہ ہوتے ہوئے اپنے ملک کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کو بارڈر بند کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ لوگوں کا خون آپ کے ہاتھ پر ہے، جس پر موریسن کو جواب میں کہنا پڑا تھا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ملک کو کورونا وائرس کی تیسری لہر سے بچانے کیلیے کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں