44

فارم نمبر 45 آخر ہے کیا؟

فارم 45 کو انتخابی عمل میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے (فوٹو:فائل)

فارم 45 کو انتخابی عمل میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے (فوٹو:فائل)

 کراچی: عام انتخابات ہوں یا ضمنی انتخاب، فارم 45 کا تذکرہ اور الزامات ہمیشہ ہی لگائے جاتے مگر یہ ہے کیا اور دوبارہ گنتی کیوں کرائی جاتی ہے؟ اس سے متعلق معلوم ہونا ضروری ہے کیوں کہ ابھی کسی بھی انتخاب کی پولنگ کو چند گھنٹے ہی گزرتے ہیں کہ فارم 45 کی بازگشت ہر جگہ سنائی دینے لگتی ہے، ہر جماعت اور ہر امیدوار کی زبان پر فارم 45 رہتا ہے۔

فارم 45 کو انتخابی عمل میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے، اس فارم میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیل درج ہوتی ہے، کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے، مجموعی اور مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد کیا ہے؟ یہی وہ فارم ہے جو پریزائیڈنگ افسران ہر پولنگ ایجنٹ کو دستخط اور انگوٹھے کے نشان کے ساتھ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔

تمام امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن سے فارم 45 جمع کرکے حلقے میں حاصل ووٹ کی گنتی از خود بھی کرسکتے ہیں اس کا مقصد دھاندلی سے بچنا ہے تاکہ درمیان میں نتائج تبدیل نہیں کیے جاسکیں۔

الیکشن قوانین کے تحت فاتح اور شکست کھانے والے امیدوار کے درمیان ووٹ کا فرق اگر 5 فیصد سے کم ہو تو ہارنے والا امیدوار دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کرسکتا ہے اس کے علاوہ ہار اور جیت کا فرق مسترد ووٹ سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کرائی جاسکتی ہے کیونکہ گنتی میں غلطی کی گنجائش ممکن ہوتی ہے اور یہ نتیجہ بھی تبدیل کرسکتی ہے، خاص طور پر مسترد ووٹ کی تعداد بھی ذہن میں رکھنی ہوتی ہے کیونکہ اس کے تعین میں بھی غلطی ہار اور جیت کا واضح فرق پیدا کرسکتی ہے۔

دوبارہ گنتی میں تمام بیلٹ بکس کھولے جاتے ہیں۔ پریزائیڈنگ افسران بیلٹ باکس سے بیلٹ پیپر نکال کر گنتی کے بعد ایک بیگ میں بھر کراور اسے  سیل کرکے الیکشن کمیشن میں جمع کرادیتے ہیں۔ دوبارہ گنتی کی صورت میں امیدواروں کے سامنے سب سے پہلے ایک نمبر کا بیگ کھولا جاتا ہے اور ہر بیلیٹ پیپر کا دوبارہ جائزہ اور گنتی کی جاتی ہے تاکہ شبہ اور غلطی دور کی جاسکے۔ پھر اسی طرح سیریل کے مطابق تمام بیگز کھولے جاتے ہیں۔

فارم 45 کے بعد نمبر آتا ہے فارم 46 کا، یہ فارم بھی پریزائیڈنگ افسر کو بھرنا ہوتا ہے جس میں بیلٹ پیپرز کی تعداد، سیریل نمبر اور اگر بیلٹ پیپر بچ گئے یا خراب ہوگئے ہوں تو اس کی تفصیل  درج ہوتی ہے۔

پریزائیڈنگ افسران فارم 45 اور فارم 46، بیلٹ باکس، بیلٹ پیپر، سیل، مہر، انک پیڈ اور دیگر انتخابی سامان واپس الیکشن کمیشن میں جمع کرادیتے ہیں جہاں ہر امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کی تفصیل کا باقاعدہ اندراج کرکے فارم 47 تیار کیا جاتا ہے جو غیر حتمی نتائج کا مجموعی گوشوارہ ہوتا ہے اس میں ہر امیدوار کو کتنے ووٹ ملے، مجموعی ووٹوں کی تعداد، مرد و خواتین کے ووٹ، مسترد ووٹ اور ٹرن آئوٹ کا ذکر ہوتا ہے۔

بعد ازاں فارم 48 تیار کیا جاتا ہے جس میں پوسٹل بیلٹ کی تعداد درج ہوتی ہے اور تمام پولنگ اسٹیشنز پر کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے اس کی مکمل تفصیل درج ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ بھی حتمی نتیجہ ہے مگر پھر بھی اس کے بعد فارم 49 بھی جاری کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں