46

لالچی و زخمی پلیئرز ساتھ چھوڑ گئے، پروٹیز بچے پاکستانی رحم و کرم پر ہوں گے

شرجیل اورفخرکی جگہ بنانے کیلیے بابراوررضوان کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرنا ہوگی،۔ فوٹو : فائل

شرجیل اورفخرکی جگہ بنانے کیلیے بابراوررضوان کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرنا ہوگی،۔ فوٹو : فائل

 لاہور: لالچی و زخمی پلیئرزساتھ چھوڑگئے جب کہ پروٹیزبچے ہفتے کو پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے دوران پاکستانی رحم و کرم پر ہوں گے۔

ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دینے والی پاکستان ٹیم نے پروٹیز کے دیس میں بھی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ون ڈے سیریز کا نتیجہ 2-1 سے اپنے حق میں کیا، ٹاپ آرڈر کاکھیل شاندار مگر مڈل آرڈر میں مشکلات کا سامنا رہا، بولرز کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی نظر آئی مگر اہم مواقع پر وکٹیں حاصل ہونے سے 2فتوحات مل گئیں۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کیلیے پاکستانی بیٹنگ لائن زیادہ متوازن نظر آرہی ہے، ٹاپ آرڈر میں شرجیل خان جیسا جارح مزاج اوپنر کم بیک کیلیے تیار ہے، شارٹ بال پر عمدگی سے اسٹروک کھیلنے میں مہارت ان کو پلیئنگ الیون میں جگہ دلا سکتی ہے۔

ون ڈے سیریز کے دوران پروٹیز کی ناک میں دم کرنے والے اوپنر فخرزمان بھی دستیاب ہیں،بابر اعظم اور محمد رضوان کامیاب اوپنرز کے طور پر اپنی افادیت ثابت کرچکے، دونوں کا بیٹنگ آرڈر تبدیل ہوگا،ون ڈے سیریز میں سامنے آنے والی کمزور مڈل آرڈر کو استحکام دینے کیلیے حیدر علی کے ساتھ تجربہ کار اور ان فارم بیٹسمین محمد حفیظ موجود ہوں گے،آصف علی کو میدان میں نہ اتارنے کا فیصلہ کیا گیا تو فخرزمان کو مڈل آرڈر میں آزمانے کا آپشن بھی موجود ہے۔

آل راؤنڈر فہیم اشرف اور حسن علی بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی جوہر دکھا سکتے ہیں، پیسرز میں شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ حارث رؤف مضبوط امیدوار ہیں، اسپن میں محمد نواز یا عثمان قادر میں سے کسی ایک کا انتخاب ہوگا۔

دوسری جانب دولت کی لالچ میں ٹیم کو چھوڑ کر آئی پی ایل میں شرکت کیلیے جانے والے کوئنٹن ڈی کک،ڈیوڈ ملان، کاگیسو ربادا، اینرچ نورکیا اور لونگی نگیڈی جیسے اسٹار کرکٹرز سے محروم جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان ٹمبا باووما بھی انجری کے باعث ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہوگئے، قیادت کا بوجھ ہینری کلاسن اٹھائیں گے۔

گزشتہ باہمی سیریز میں پاکستانی بیٹسمینوں کیلیے مشکلات پیدا کرنے والے ڈیوائن پریٹوریس بھی پسلی میں فریکچر کی وجہ سے دستیاب نہیں،ریزا ہینڈرکس بچے کی پیدائش کے باعث رخصت پر ہیں،انجرڈ ریسی ون ڈر ڈوسین کی شرکت کا بھی امکان نہیں، اس صورتحال میں تیسرے ون ڈے میں اچھی اننگز کھیلنے والے جنیمن ملان امیدوں کا مرکز بن گئے،دوسرے اوپنر مارکرم ہوں گے،وین بلجوئن،کائل ویرین کے ساتھ کپتان ہینری کلاسن کو بھی رنز بنانے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

اینڈل فیلکوایو، جیورج لندے اور ویان ملڈر کی آل راؤنڈ صلاحیتوں پر بڑا انحصار ہوگا، پیسرز بیورن ہینڈرکس، لیزاڈ ولیمز اور اسپنرز میں تبریز شمسی یا ڈوپاویلون میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائیگا، پچ روایتی طور پر بڑے اسکور کیلیے سازگار ہے۔

یاد رہے کہ اب تک دونوں ٹیموں کے مابین ٹی ٹوئنٹی میچز میں سے 9جنوبی افریقہ نے جیتے جبکہ8میں پاکستان نے فتح پائی،آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستانی ٹیم فی الحال 260 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے جبکہ میزبان جنوبی افریقہ251 پوائنٹس لے کر چھٹی پوزیشن پر موجود ہے،گرین شرٹس اگر چاروں میچز جیت گئے تو پوائنٹس کی تعداد 264 ہوجائے گی، البتہ اگر نتائج برعکس ہوئے تو پھر جنوبی افریقہ رینکنگ میں چوتھے اور پاکستان چھٹے نمبر پر چلا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں