29

’لٹل اسٹارز‘ بھی زمبابوے میں جگمگانے کو بے قرار

پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں زمبابوے کو صرف 3 روز کے اندر ایک اننگز اور 116 رنز سے مات دی

پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں زمبابوے کو صرف 3 روز کے اندر ایک اننگز اور 116 رنز سے مات دی

 کراچی: ’لٹل اسٹارز‘ بھی زمبابوے میں جگمگانے کو بے قرار ہیں، دوسرے ٹیسٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ آسان حریف کے خلاف نئے پلیئرز کو میدان میں اتارنا چاہیے، امید ہے کہ دوسرے میچ میں شاہنواز دھانی ایکشن میں دکھائی دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں زمبابوے کو صرف 3 روز کے اندر ایک اننگز اور 116 رنز سے مات دی، حریف سائیڈ کی جانب سے دونوں اننگز میں کسی بھی قسم کی مزاحمت دکھائی نہیں دی۔ اب پاکستان کی نگاہیں دوسرے ٹیسٹ میں فتح کی صورت میں کلین سوئپ  پر مرکوز ہیں جبکہ بنچ پر بیٹھے نوجوان کھلاڑی بھی زمبابوے میں جگمگانے کو بے قرار ہیں، سابق کرکٹرز بھی ان کو میدان میں اتارنے کے حق میں ہیں، ان کی جانب سے نئے کھلاڑیوں کو آسان حریف کے خلاف موقع دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ  اگلے میچ میں لازمی طور پر نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے، مجھے امید ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں شاہنواز دھانی ایکشن میں دکھائی دیں گے، بیٹنگ اور بولنگ ڈپارٹمنٹ میں ایک دو مزید تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں، یہ یکطرفہ سیریز ثابت ہونے والی ہلے اور پاکستان کو اگلا میچ بھی 3 سے 4 دن کے اندر ہی ختم کرنا چاہیے۔

رمیز راجہ نے پاکستان کیلیے ٹیسٹ فتوحات کی اہمیت پر بھی زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کو ایک درمیانے درجے کی ٹیم سمجھا جاتا ہے، اس لیے اگر زمبابوے پر بھی فتح ملتی ہے تو اس سے بھی ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوتا اور پاکستان کا نام ٹیسٹ کرکٹ میں نمایاں ہوتا ہے۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھی اگلے میچ میں کم سے کم 2 تبدیلیوں کے حق میں ہیں، وہ بھی شاہنواز دھانی اور لیگ اسپنر زاہد محمود کو کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں مگر ساتھ میں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دھانی کی شمولیت کا انحصار شاہین شاہ آفریدی کے آرام پر منحصر ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ شاہنواز دھانی کو بھی موقع مل سکتا ہے مگر شاہین شاہ آفریدی سے پوچھنا ہوگا کہ وہ آرام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر انھوں نے آرام کرنے سے انکار کردیا تو پھر، کیونکہ پہلے ہی بہت کم ٹیسٹ میچز کھیلے جاتے ہیں، اگر کوئی مجھ سے پوچھتا تو میں کھیلنے کو ترجیح دیتا، زمبابوے کے خلاف نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دھانی اور زاہد محمود کو اگلے ٹیسٹ میچ موقع ملنا چاہیے۔ یاد رہے کہ زاہد محمود گذشتہ قائد اعظم ٹرافی سیزن میں تیسرے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے۔

انھوں نے 10 میچز میں 52 وکٹیں لیں جبکہ دھانی نے 7 میچز میں 26  وکٹیں اپنے نام کیں۔ ادھر وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل دوسرے ٹیسٹ کی الیون میں فاسٹ بولر تابش خان کی شمولیت کے حق میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تابش خان نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 600 کے قریب شکار کیے ہیں، اگر ساجد خان صرف ایک فرسٹ کلاس سیزن میں ٹاپ وکٹ ٹیکر ہونے پر ڈیبیو کرسکتے ہیں تو پھر تابش خان دوسرے ٹیسٹ کی الیون میں شمولیت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ وہ گذشتہ 12، 13 سیزنز میں پرفارم کررہے ہیں۔

اپنے یوٹیوب چینل پر کامران اکمل کا مزید کہنا تھا کہ عبداللہ شفیق اور سعود شکیل کو بھی موقع ملنا چاہیے، زمبابوے ایک بہت ہی کمزور ٹیم ہے، اگر پاکستان ایک تیسرے درجے کی ٹیم بھی کھلائے تب بھی جیت جائے گا، اس لیے اسے فہیم اشرف، شاہین اور حسن علی جیسے ٹاپ پیسرز کو آرام دیتے ہوئے نئے بولرز کو موقع دینا چاہیے، زاہد محمود بھی ڈیبیو کے حقدار ہیں، بیٹنگ میں سعود شکیل اور عبداللہ شفیق کو بھی موقع ملنا چاہیے، اظہر علی اور ایک اوپنر کو آرام دیتے ہوئے ان پلیئرز کیلیے جگہ نکالنا چاہیے، یہ کھلاڑیوں کو اعتماد اور تجربہ دینے کا سب سے بہترین موقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں