23

مافیااین آراولینےمیں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، وزیراعظم

سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھ سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں،وزیراعظم۔ فوٹو:سوشل میڈیا

سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھ سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں،وزیراعظم۔ فوٹو:سوشل میڈیا

پشاور: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھے سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں، مافیا این آراو لینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

صنعتی ورکرز کے لئے رہائشی منصوبےکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ نعمتیں بخشی تھیں، ریاست مدینہ دنیاکی تاریخ کاسب سے بڑاانقلاب تھا، جب بھی قوم نبیﷺ کےراستے پرچلتی ہےتوبہت ترقی کرجاتی ہے، پاکستان کےخواب کےبارے کسی نے سمجھایاہی نہیں، ماضی میں کسی نے بھی مزدور طبقے کیلئے نہیں سوچا، بڑوں کیلئے این آر او اور غریب جیلوں میں جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے کوشاں ہے، 2013کے بعدخیبر پختون خوا غربت میں کمی آئی، خیبر پختونخوا میں انسانوں پر سرمایہ کاری کی گئی، ہمارے 5سال پورے ہونے پر صحت کا انقلاب آئے گا، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کے پاس ہیلتھ کارڈ موجود ہے، کورونا کی موجودہ لہر فلیٹ ہو چکی، احتیاط جاری رکھی تو سیاحت سمیت سب شعبے کھل جائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اگلے الیکشن کا نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے لیے سوچا ہے، اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے لی ہے، پانچ سال بعد دیکھناچاہتا ہوں کہ کمزورطبقے کوہم نے کیسے اوپر اٹھایا ہے، عام آدمی کو گھر بنانے کیلئے اب بینک قرضے دیں گے، ایک آدمی جتنا گھر کا کرایہ دیتا ہے اتنی اس کی بینک کی قسط ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی پہلااصول ہے، امیراورغریب کےلیےالگ الگ قانون سےپاکستان تباہ ہوا، پاکستان میں غریب کیلئےجیل اورطاقتورکیلئےاین آراوہے، سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھے سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں، مافیا این آراو لینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، میں کبھی اس مافیا کو این آر او نہیں دوں گا، ملک سے بھاگنے والے زیادہ دیر نہیں بچیں گے ان کو واپس لے کر آئیں گے،  لندن بیٹھے مافیاز کو بھی جلد پاکستان لائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کمیشن بنانے کے لیے ڈیم کی بجائے بجلی کے مہنگے منصوبے لگائے گئے، مہنگے منصوبوں سے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں، ادائیگی کرنا پڑتی ہے، ماضی کی حکومتوں نے جلد بازی میں معاہدے کرکے آئی پی پیز سے پیسے کھائے، جس قیمت پر بجلی بن رہی ہے اس سے کم قیمت سے فروخت ہورہی ہے،   2023 تک گردشی قرضہ 1455 ارب روپے پر پہنچ جائے گا،

ہم پاکستان میں پانی سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی بنا سکتے ہیں، 2028 تک 10 بڑے پانی کے پراجیکٹ مکمل ہو جائیں گے، مہنمد ڈیم 2025 میں مکمل ہوجائے گا، ہمیں اناج پیدا کرنے کے لیے زمینوں کو سیراب کرنا ہے، اس ڈیم سے17 ہزار ایکڑ سیراب ہو جائےگی، اور پشاور کو اس ڈیم سے 300 ملین گیلن پانی ملے گا، یہ ڈیم ہمیں آج سے 50سال پہلے بنانے چاہیے تھے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں