17

مجازی مشاعرہ اور جدید غالبؔ

زباں فہمی نمبر96

غالب ؔبنام میر مہدی مجروحؔ، الطاف حسین حالیؔ، میرزاہرگوپال تفتہؔ و میاں دادخان سیاحؔ

جان غالب….جانان غالب…کہو اچھے ہو؟

تم لوگوں کے یہاں انٹرنیٹ کی رفتار حسب منشاء ہے یا کچھوے کی مثل؟

خدامعلوم تم لوگو ں تک میرا سندیسہ (بطور اِمتثالِ اَمر) پہنچا کہ نہیں جو میں نے پچھلے دنوں، فیس بک گروپ’’اردو سرائے‘‘ میں عزیزم سہیل احمد صدیقی سے Postکرایا تھا، عبارت نقل کیے دیتا ہوں:’’میاں ! موبائل فون کال اگر نصف ملاقات ہے تو وِڈیو کال گویا ’عین ملاقات‘۔ سوموار کو میرمہدی مجروح سے وِڈیو کال پر بات ہوئی، گویا عین ملاقات ہوئی ….رہے حالی ؔوتفتہؔ تو اُن کے یہاں Signalsکا مسئلہ چندے پریشان کرتا رہتا ہے…بارے مَیں تو 2G سے کام چلاتا ہوں، وَلیکن شُنِید ہے کہ اہلِ پنجاب وسندھ و دکن و گجرات، 4G سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور خوب حَظ اُٹھاتے ہیں‘‘۔

اپنا حال کیا لکھواؤں….رمضان ہے، اور کچھ کھانے کو نہیں، سو، روزہ کھاتا ہوں اور تمھیں صبح شام یاد کرتا ہوں۔ ؎ جانتا ہوں ثواب ِ طاعت و زُہد+پر طبیعت اِدھر نہیں آتی۔ معلوم نہیں کہ تم لوگ فیس بُک پر پائے جاتے ہو کہ نہیں، ویسے جعلی کھاتے یعنی Accounts تو بہت دستیاب ہیں، مگر بندہ اُن پر چندا ں اعتبار نہیں کرتا، بارے دھوکا نہ ہو۔ ویسے یہ Postکرنے کی بھی خوب رہی، میاں سیدھا سیدھا، رقم کرایا یا نقل کرایا لکھنا تھا…خیر! اب اتنی ’فرنگیت‘ تو رَوا ہے۔

یہ ’فرنگیت‘ ابھی ابھی وضع کی ہے، کہو کیسی لگی یہ ترکیب؟ نہ ہوئے میرزا قتیلؔ آس پاس، ورنہ یہاں بھی اپنی فارسی دانی کا رعب گانٹھتے اور ہماری سبک ہندی و ایرانی کی بحث بارِدِگر ِچِھڑجاتی تو نمعلوم کتنے ہی ٹیلی وژن چینلز کی شہ سُرخیاں بنتیں….کچھ یوں بھی ہوتا کہ ’ایک میرزا نے دوسرے میرزا کی علمی قابلیت کو چیلنج کردیا‘…..’میرزا اسداللہ خان غالبؔ آج شام سات بجے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے نیوز کانفرنس کریں گے‘….. ’میرزا نوشہ نہ مانے تو اُنھیں عدالت عظمیٰ المعروف Supreme Court میں گھسیٹوں گا….میرزا قتیل کا بیان‘….وغیرہ……مستزاد: یہ ممکن ہے کہ میں ایسی صور ت ِ حالات دیکھ کر، ٹیلی وژن چینلز کی یلغار سے بچنے کے لیے اپنا یہ شعر پیش کرکے جان چھڑالوں:  ؎ یارب نہ وہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے مِری بات+دے اور دل اُن کو ، جونہ دے مجھ کو زباں اَور….ویسے بھی ان چینلز میں ایسا ایسا نمونہ بیٹھا ہے کہ انسان شاعری بھول کر گالی گفتار پر اُتر آتا ہے….ہاں وہ کچھ پری چہرہ ایسے ضرور ہیں کہ جنھیں دیکھ کر بے اختیار ’مجسم کاغذی پیرہن‘ کہنے کو جی چاہتا ہے….اب اس بات پہ کہیں تمھارے یہاں کا وہ خدائی فوجدار، وہ کیا کہتے ہیں ، PEMRAخبر نہ لے ہماری۔

لو مَیں بھی کیا باتیں کرنے بیٹھ گیا، گویا حکیم احسن اللہ خان کی صحبت کا بُرا اَثر پڑگیا ہے….وہ بھی کوئی آدمی ہے، جو آم نہیں کھاتا، بلکہ (بقول عزیزی سہیل احمدصدیقی) ’’آم شریف‘‘ نہیں کھاتا….آہا کیا یاد دلایا، …میں شاید اُس کم بخت کا یہ جُرم معاف کردیتا کہ مجھ جیسے ’آدھے مسلمان‘ کو سرکارِانگلشیہ کے ہاتھوں، جھوٹی مخبری کرکے، گرفتار کروادیا، مگر یہ کیا کہ آم کی توہین کردی….اور سنو حالیؔ ! تم لاکھ غزل کی زلفیں سنوارو، میں تمھیں ایک انوکھی دعوت دے رہا ہوں، اور خاص کرتمھیں…کہ تمھیں بہت شوق ہے اصلاح کا….تو خبر یہ ہے کہ اِن دنوں ’’مجازی‘‘ مشاعروں کی دھوم ہے۔ہاں تم بھی سنو، مجروحؔ اور تفتہؔ….سیاح ؔسے تو کچھ اور بات کروں گا آگے….اب تم سوچ میں گویا مبتلا ہوگئے ہوگے کہ یہ کیا بلا ہے؟ میاں! ایک چیز ہے….Virtual…..نام لیتے ہوئے جان جاتی ہے۔

کیا ثقیل لفظ ایجاد کیا ہے فرنگیو ں نے…ہاں بس وہ لال پر ی کی ایجاد تک …یقینا اہلِ ہند سے کہیں آگے ہیں۔ تو مَیں کہہ رہا تھا کہ Virtual.. یا Online ایک چیز ہے جس کا خوب چرچا ہے، اِن دنوں ….تو مجھے سمجھانے کو عزیزی سہیل نے یہ ترجمہ کرڈالا ’مجازی‘ ….اب ہمیں دعوت ملی ہے کہ کل شب نو بجے، مجازی مشاعرے میں صدارت فرمائیں اور اپنے کلام سے نوازیں۔ تم لوگوں کو اگر اس میں کچھ دل چسپی ہوتو تمھارے نام بھی لکھوادوں؟

سوچتا ہوں کہ اس مجازی مشاعرے میں اپنا کچھ نیا کلام پیش کروں، کچھ کرونا اور اُس کے متعلقات پر مبنی…مگر تعارف میں تو یہی کہوں گا کہ ؎ ہم وہاں ہیں، جہاں سے ہم کو بھی+کچھ ہماری خبر نہیں آتی۔

میر مہدی مجروحؔ تمھیں یہ سن کر یقیناً صدمہ ہوگا کہ اب تمھارا نام لیوا کوئی نہیں۔ اِدھر عوام النّاس میں مجروحؔ سلطان پوری کا نام بہت مقبول ہوچکا ہے اور کوئی ایک عجیب سا طبقہ ہے جو اَپنے کو ’ترقی پسند‘ کہتا ہے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ تمھارے یہ ہم نام بھی وہی تھے یعنی اُسی طبقے کے…..لو میاں! یہ ترقی پسندی کی بھی ایک رہی۔ بھئی اگر شاعر یا ادیب ترقی پسند نہیں کرتا تو کیا رجعت پسند ہوتا ہے۔

ہمیں بھول گئے کیا ….ہم نے تو سید احمد کو ’آئینِ اکبری‘ کے کام پر کیا کچھ نہ سنائی تھیں؟….لو یہ شعر سنو ہمارا اور بتلاؤ کہ آج کے کسی ترقی پسند کے کلام سے کہیں کم تر ہے کیا: ؎ تو وہ بَدخو کہ تحیّر کو تماشا جانے +غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے….میاں سہیل! خیال کیجو! کہیں یہ شعر بھی تمھارے فیس بُکی نقال، اپنے فیضؔ صاحب سے منسوب نہ کردیویں۔

اور توخیر کیا کہوں ….میرے اشعار کے ساتھ اِن دنوں فیس بک اور دیگر مقامات پر وہ معاملہ ہورہا ہے کہ غنیم کے ساتھ بھی نہ ہو۔ ہر بار جب سال نیا شروع ہونے لگتا ہے تو کم بخت میرا یہ شعر خوب خوب نقل کرتے پھرتے ہیں : ؎ دیکھیے، پاتے ہیں عُشّاق بُتوں سے کیا فیض+اِک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ یوں بھی اب میرزا نوشہ کے مقلدین تھوڑے ہیں، سمجھ کے پڑھنے والے خال خال ہیں۔ ؎ جب توقع ہی اُٹھ گئی غالبؔ+کیوں کسی کا گِلہ کرے کوئی۔

یہ ہمارا نمایندہ سہیل احمدصدیقی، اپنی تدریس، تحریروتقریرمیںجابجا کہتا پھرتا ہے کہ ’غالبؔ ہردورمیں غالب ہیں اور ہر دور پر غالب!‘ ……آہا آہا یعنی وہ جو ہم نے کہا تھا کہ ؎ ہیں اور بھی دنیا میں سخنوربہت اچھے+کہتے ہیں کہ غالب ؔ کا ہے انداز ِبیاں اور…تو گویا اس پر صادق آیا۔

اور میاں ہم نے جو کہا تھا کہ ع میں بلبلِ گلشن ِناآفریدہ ہوں….تو اُس وقت سامعین کو تشویش ہوئی تھی کہ یہ کیونکر…بھئی ہمارے حین ِحیات تو ناقدین یوں درجہ بندی کیا کرتے تھے: ذوقؔ، مومنؔ اور پھر غالبؔ….اب سنتے ہیں کہ ترتیب بالعکس یا برعکس ہوگئی ہے: غالبؔ، ذوقؔ اور مومنؔ…. استادِشہ کی تو خیر، مگر بے چارا مومنؔ…ہائے ہائے…وہ اس بحث میں مارا گیا۔ کیا خوب شعر کہتا تھا۔ ؎ تم مِرے پاس ہوتے ہو گویا+جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا….واللہ! یہ فرد ہی اکیلا اس لائق ہے کہ میں اپنا پورا دیوان اس کے عوض اُسے بخشنے کو تیار ہوں۔ صاحبو! مقطع میں اپنے تخلص کا ایسا عمدہ استعمال تو ہم نے کبھی سنا نہ دیکھا، جو مومنؔ کا خاصّہ تھا۔ خیر ہوتا ہے، یہی دستور ِزمانہ ہے کہ گندم کے ساتھ گھُن بھی پِستا ہے۔

تفتہؔ! بھئی معاف کرنا ویسے تو تمھارا نام بھی چنداں مشہور نہیں رہا، مگر میں نے یہ سوچ کر تمھیں اس پیغام میں شامل کیا کہ تمھارے توسط سے تمھارے کچھ نادان ہم مذہب دوستوں کو مخاطب کرسکوں۔ تمھیں پتا چلا ….وہ بابری مسجد نہ رہی….اور تو اور….اَب ظالم قطب مینار اور مسجد ِ قوت الاسلام کے درپے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ پہلے مندِر تھا۔ میاں تفتہؔ! تم نے ہماری محبت میں ’میرزا‘ بننا تو پسند کیا، اب کیا اس بابت ان نادانوں کو سمجھانا پسند نہ کرو گے؟

ہاں بھئی میاں داد خان سیاحؔ ! اب تم سے کلام ہوجائے۔ ہمارے اس دارِفانی سے کوچ کرنے کے مدتوں بعد، تمھارا وہ قیس والا شعر تو مشہور رہ گیا، مگر لوگ اب بھی یہ بات کم کم جانتے ہیں کہ تم ’’قلب ساز‘‘ تھے۔ {قیس جنگل میں اکیلا ہے، مجھے جانے دو+خوب گزرے گی جو مِل بیٹھیں گے دیوانے دو}۔ آپس کی بات ہے۔ اِن دنوں یہاں جو گرانی ہے، بازار میں ہر طرف…تو بندہ یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور ہے کہ میاں سیاحؔ ! ایک بار پھر یہی کام شروع کرو، بہت وسعت سے کرو تاآںکہ مخلوق کو فیض پہنچے۔ اور ہاںتم یہاں کے حالات کا جائزہ لے کر، انصاف وقانون کے کرتا دھرتا اپنے تئیں دوست کرکے، بہت کامیابی سے کرلو گے…. یہ انگریز بہادر کی حکومت نہیں کہ جلد گرفتاری کا خدشہ ہو۔{ ’’قلب ساز‘‘ یعنی جعلی کرنسی کا کام کرنے والا}۔

عزیزو! ان دنوں ہر طرف بندش عامہ کا دوردورہ ہے۔ تم لوگ تالہ بندی (ترکیب)کو سہل جانو تو یہی اختیارکرو….خیر شاگردان ِعزیز! تم سب کو یک جا مخاطب کرنے کا سبب یہ ہوا کہ WhatsAppپر کام، وہ بھی ازخود کرنا اور اِس عمر میں، چنداں آسان نہیں۔ ایک مدت کے غوروخوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کام اپنے مداحین (ازقسمے سہیل احمد صدیقی) سے کرانا ہی بہتر ہے، کم از کم اردو سے فرنگی زبان میں، بہ سُرعتِ تمام، جست لگا کر داخل ہونا، پھر گویا زقند بھر کے، دوبارہ اردوئے معلی کو رجوع کرنا میرے لیے اس کہنہ سالی میں کارِعبث ہے۔ ہاں رخصت ہوتے ہوئے یہ بھی کہتا چلوں کہ ناامیدی ہرگز شعارِمرداں نہیں، بلکہ شعارِ مومناں نہیں! ؎ آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج+اڑتی سی اِک خبر ہے زبانی طیور کی۔ {غالب ؔبتوسط زباں فہم سہیل احمد صدیقی}۔

غالبؔ کا سحر کچھ کم ہوا ہو تو عرض کروں کہ ابھی یہ کالم زیر تحریر ہے تو اِدھر واٹس ایپ بزم زباں فہمی میں یہ بحث چِھڑگئی کہ Virtualکا متبادل یا مترادف اردو میں کیا ہو۔ کچھ نے خاکسار کی طرح مجازی بتایا تو کچھ نے فاصلاتی اور تصوراتی کا نام لے دیا۔ فاصلاتی، انگریزی کی اصطلاح Distant کا مترادف ہے جیسے Distant education: فاصلاتی تعلیم اور تصوراتی کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو چیز سامنے ہو، وہ تصوراتی نہیں کہلاتی، ہاں سراب کی بات اور ہے۔

پشاور سے ہمارے نہایت فاضل دوست ڈاکٹر تاج الدین تاجور ؔ صاحب اکثر لسانیات کا کوئی نہ کوئی موضوع ایسا چھیڑتے ہیں کہ طبیعت خوش ہوجاتی ہے …. بقول کسے ع  ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ اُن کی چھبیس اپریل کی یہ تحریر مجھ سمیت تمام اہل ذوق کو دعوت طبع آزمائی دے رہی ہے:

**شہروں/قصبوں کے ناموں میں بعض لاحقوں ” برگ۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ سر” کی مختصر وضاحت**از قلم ڈاکٹر تاج الدین تاجور

* برگ۔۔۔۔۔ برگ ہند یورپی زبانوں کے خاندان کے یورپی زمرے کی زبانوں کا لفظ ہے جس کے معنی ” پہاڑ ” کے ہیں، چنانچہ یورپ کے کئی ایک شہروں میں اسے بطور لاحقہ استعمال کیا گیا ہے جیسے ہیمبرگ، سالزبرگ، سینٹ پیٹرز برگ وغیرہ

* پور۔۔۔۔۔ ایرانی زمرے کی زبانوں کا لفظ بمعنی اولاد، بیٹا/خیل۔۔۔۔۔ فارسی اور پشتو میں زیادہ استعمال ہوتا۔۔ کسی خیل/قبیلہ کے نام پر آباد شہر اور گاؤں میں بطور لاحقہ استعمال ہوتا ہے۔ وسطی ایشیا، ایران، افغانستان، پاکستان اور بھارت بنگلہ دیش میں عام طور استعمال ہوتا ہے، مثلاً نیشاپور، لائل پور، ناگ پور، سنگھا پور۔۔۔۔ یار لوگوں نے اس لفط کی تصغیر پورہ بھی بنالیا ہے اور چلتا ہے۔۔ پشتو اور فارسی بور تلفظ بھی رائج ہے۔

* آباد۔۔۔۔۔ پہلوی اور فارسی، پشتو زبانوں کا لفظ جس کے معنی پر رونق اور ایسی جگہ جہاں پانی اور سبزہ ہو، کے ہیں، تاہم اس معنی میں آباد کرنا، بنانا بھی شامل ہے۔۔۔ عموماً کسی شخص یا قبیلے نام پر کسی شہر کے ساتھ آباد آتا ہے۔ وسطِ ایشیا، ایران، افغانستان اور برصغیر میں رائج ہے، مثلاً اشک آباد، سنا آباد، جلال آباد، اسلام آباد، مراد آباد وغیرہ۔۔۔۔۔ عربی زبان میں بھی لفظ آباد موجود ہے جس کے معنی ہمیشہ کے ہیں جیسے ابد الآباد۔

* نگر۔۔۔۔۔ ہند ایرانی زمرے کی زبانوں کا لفظ ہے، ابادی، قصبے، شہر کے لیے استعمال ہوتا ہے، مثلاً احمد نگر، بہاول نگر وغیرہ

* گڑھ۔۔۔۔ ہند نژاد لفظ ہے، قلعے کو کہتے ہیں ضمناً شہر کے معنی بھی مستعمل ہے، مثلاًشیر گڑھ، پرتاب گڑھ، چندی گڑھ۔۔۔۔ اس لفظ کی تصغیر گڑھی بنائی گئی ہے۔

* کوٹ۔۔۔۔ کوٹ ہند ایرانی خاندان کا لفظ ہے جس کے معنی قلعہ اور حصار کے ہیں۔۔۔ بطور لاحقہ شہر اور قصبوں کے ناموں شامل ہوتا ہے جیسے شور کوٹ، سیالکوٹ وغیرہ۔۔۔۔۔ کویٹہ بھی اصلاٌ شال کوٹ تھا تاہم تسہیل زبان کی وجہ سے کوئیٹہ رہ گیا۔

* سر۔۔۔۔ ہندی نژاد لفظ ہے جس کے معنی تالاب اور جھیل کے ہیں۔۔۔۔ بعض مشہور تالابوں اور جھیلوں کے نزدیک آباد ہونے والے قصبوں اور شہروں کے نام ٹھہر گئے۔۔۔۔مثلا مانسر، امرتسر، لولو سر وغیرہ۔۔۔۔

اس طرح برصغیر پاک وہند میں کئی ایک اور لاحقے بھی آبادیوں، قصبوں اور شہروں کے جڑے نظر آتے ہیں۔

### پس نوشت:گوٹھ سندھی میں، پنڈ پنجابی میں اور کلی/کلے پشتو میں گاؤں کو کہتے ہیں اس مناسبت سے کئی گاؤں آباد تھے جن میں کئی ایک اب شہر بن جکے ہیں۔    ****** ڈاکٹر تاجور ******

سوچا تو یہی تھا کہ اس موضوع پر خامہ فرسائی کروں گا، مگر پھر غالبؔ اس ذہنِ نارسا میں دَرآئے تو کالم اُنھی سے معنون ہوگیا۔ زندگی رہی تو لسانیات کے موضوعات پر خامہ فرسائی کا شوق بھی جاری رہے گا۔ اس رمضان شریف میں اہل ادب کی اچھی خاصی تعداد، دنیا سے اٹھ گئی۔

کس کس کا ذکر کریں، کسے فراموش کریں۔ میرے حلقہ احباب میں بزرگ معاصر محترم عشرت رومانی صاحب اتوار پچیس اپریل سن دوہزار اکیس مطابق بارہ رمضان المبارک چودہ سو بیالیس ہجری کو رحلت فرماگئے، ماقبل سترہ اپریل کو بھاگل پور (ہندوستان) میں مقیم میرے کرم فرما پروفیسر ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی صاحب دارِ بقاء کو کوچ کرگئے۔افتخارامام صدیقی اور فرقان سنبھلی سمیت متعدد مشاہیر کی رخصت نے ہمارے دل دہلادیے ہیں۔ خدائے غفور ورحیم سے دعاہے تمام جانے والوں کے حق میںاور اُن کے لواحقین کے لیے۔ ع اللہ بس! باقی ہوس!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں