69

محافظین آئین نے ہی دستور کے تحفظ کی قسم توڑی، جسٹس قاضی فائز

اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ محافظین آئین نے ہی آئین کے تحفظ کی قسم توڑی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلام میں بنیادی حقوق اور آئین کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قائدِاعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اسلامی قوانین پر مبنی ہوگا، قائد اعظم نے فرمایا کہ اسلام میں سب برابر ہیں اور عدل وانصاف کا بول بالا ہونا چاہیے، آئین ہر شہری عیسائی ہندو دوسرے مذاہب کو بھی تحفظ دیتا ہے، ہم نے آئین نہیں سیکھا ،ہم نے تو آئین کا اردو میں ترجمہ بھی نہیں کیا، ہم آئین کے ساتھ وہی سلوک کیا جو قرآن کریم کے ساتھ کرتے ہیں، محافظین آئین نے جو قسم اٹھائی وہ انہوں نے توڑی، لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور محافظ آئین کرنے والوں نے قسم توڑی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے نہ آئین پاکستان سیکھا اور نہ ہی آئین کا ترجمہ پڑھا، مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی اسکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے، امریکی اسکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمری سے ہی طلباء کو آئین کا معلوم ہو، آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا، ہمارے پاس اس وقت نصف پاکستان ہے کیونکہ آدھا حصہ ہم سے جدا ہو چکا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، آئین سے غداری کی اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی، اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں