55

مردانہ ممی حاملہ عورت کی حنوط شدہ لاش نکلی

ممی ایک بیس سے تیس سالہ بلند مرتبہ مصری خاتون کی ہے (فوٹو: بشکریہ وارسو ممی پراجیکٹ)

ممی ایک بیس سے تیس سالہ بلند مرتبہ مصری خاتون کی ہے (فوٹو: بشکریہ وارسو ممی پراجیکٹ)

وارسو: پولینڈ کے سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک وہ جس ممی کو مرد مذہبی راہنما سمجھتے رہے وہ درحقیقت ایک حنوط شدہ حاملہ ممی ہے۔

اس بات کا انکشاف  سائنسی جریدے ’جرنل آف آرکیو لوجیکل سائنس‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں وارسو ممی پراجیکٹ پر کام کرنے والے محققین  کی جانب سے کیا گیا۔ اس پراجیکٹ کو 2015ء میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد وارسو کے قومی عجائب گھر میں رکھے نوادرات میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا جائزہ لینا ہے۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اس ممی کی شناخت پہلے ایک مرد مذہبی راہنما کے طور پر کی گئی تھی لیکن حال ہی میں ہونے والی اسکین سے انکشاف ہوا کہ درحقیقت یہ مرد نہیں خاتون کی ممی ہے جو کہ اپنے حمل کے آخری دنوں میں تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ ممی ایک بلند مرتبہ خاتون کی ہے جس کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان ہے اور اس کی موت ایک صدی قبل مسیح کے درمیان میں ہوئی ہے۔

تحقیق میں شامل ایک ریسرچر ڈاکٹر مارزینا اوزاریک کا کہنا ہے کہ ممی کی ریڈیولوجیکل تصاویر سے اس کے پیٹ میں جنین (رحم مادرمیں پُوری نشو و نُما پایا ہوا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو) کی موجودگی ظاہر ہوئی۔ جنین کے سر کے گھیر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماں کے مرنے سے قبل یہ بچہ 26 سے 30 ہفتوں کا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر بچے کو ماں کے پیٹ سے نکال کر حنوط نہیں کیا گیا تاہم اس ضمن میں مزید تحقیق جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں