48

مسکراہٹیں بکھیرنے والے معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 10 برس بیت گئے

معین اختر کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں ۔ فوٹو : فائل

معین اختر کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں ۔ فوٹو : فائل

 کراچی: کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار معین اختر کی آج 10ویں برسی منائی جارہی ہے۔

معین اختر 24 دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپئیر کے ناول سے ماخوذ اسٹیج ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں محض 13 برس کی عمر میں دی جب کہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966ء میں کی۔

لیجنڈ اداکار معین اختر کو فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھاکیونکہ فلم ہو یا ٹی وی یا پھراسٹیج ڈرامہ انھوں نے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا، معین اختر کے طنز ومزاح سے بھرپور جملوں نے تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا۔

ساتھی اداکاروں کے مطابق معین اخترمحض اداکار ہی نہیں بلکہ ایک دور کا نام تھا جنھوں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا،معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نو سر اورعید ٹرین شامل ہیں، ڈرامہ روزی میں ان کاکردارشاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔

معین اختر کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں، ایک نجی چینل کے لیے ان کے طنز ومزاح سے بھرپور ٹی وی شوز کی، چارسو اقساط کا نشر ہونا بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

معین اختر 22 اپریل سن2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے، ساتھی فنکاروں کے مطابق پاکستان کی ثقافت کو ڈراموں اور شوز کے ذریعے جس طرح سے معین اختر نے متعارف کروایا، کوئی دوسرا شائد ہی یہ کام اس خوبی سے کرسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں