51

مشترکہ مفادات کونسل اجلاس؛ مردم شماری کے نتائج پردوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلی، وفاقی وزراء اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ فوٹو:فائل

چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلی، وفاقی وزراء اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ فوٹو:فائل

 اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کی منظوری دے دی گئی۔ جب کہ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر پیر کو دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا ۔ چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سمیت وفاقی وزراء اور اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔ ۔پنجاب اور خیبر پختونخواہ کا مردم شماری کے نتائج جاری کرنے، جب کہ وزیراعلی سندھ نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے کو نئی مردم شماری سے جوڑنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلٰی بلوچستان کی جانب سے مردم شماری کے نتائج سے متعلق وقت مانگنے پرمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیرکو دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں نیپرا کی جانب سے بتایا گیا کہ سندھ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے صوبے کو 3800 میگاواٹ اضافی بجلی دی جائے گی۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بلوچستان میں بجلی کی ایک اور تقسیم کار کمپنی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مشترکہ مفادات کونسل نے درآمد شدہ ایل این جی کی قیمت طے کرنے سے متعلق تجویز کی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے معاملات، صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور پی ایس کیو سی اے کے کو بھی وفاق ہی طے کرے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں