23

مصر میں ماہِ رمضان اور کورونا وائرس

مختلف علاقوں میں افطاری کے فوراً بعد بچے فانوس اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔فوٹو : فائل

مختلف علاقوں میں افطاری کے فوراً بعد بچے فانوس اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔فوٹو : فائل

(اردو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، عین شمس یونیورسٹی، قاہرہ، مصر)

ہر سال دنیا بھر مسلمان بے صبری سے رمضان کے مقدس مہینہ کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔ اور کیوں نہ کریں یہ برکتوں کا مہینہ ہے۔ یوں تو دنیا بھر میں رمضان لوگ اپنے اپنے طور پر مناتے ہیں تاہم مصر میں رمضان کافی الگ طرح سے گزارا جاتا ہے۔

اس ماہ مقدس میں مسلمانوں کی خاص عبادات جیسے تراویح پڑھنا اور اعتکاف میں بیٹھنے کے علاوہ مختلف ممالک میں کچھ الگ روایات بھی پائی جاتی ہیں۔ مصر میں بھی لوگ کچھ منفرد طریقے سے رمضان مناتے ہیں۔ ایک ساتھ مل کر افطار کرنا رمضان کا ایک اہم حصہ ہے۔ افطار پارٹی کا تقریباً ہر جگہ انتظام ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے دوستوں اور خاندانوں کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں اور افطار کی اجتماعی تقریب منعقد کرتے ہیں۔

اس ماہ کی روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر مغرب کی اذان کے وقت کھجوریں اور جوس باٹتے ہیں۔ نیز اس مہینے کی ابتدا سے آخر تک مساجد کے اندر یا ان سے ملحقہ احاطوں میں رحمت کے دستر خوان کے نام سے خیمہ لگاتے ہیں اور اس میں لوگوں کو مفت افطاری میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے، جن میں خاص طور پر غریب اور مسکین لوگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی فلاحی تنظیمیں اور روزہ افطار کرانے والے مخیّر حضرات غریبوں کے لیے کھانا اور افطار فراہم کرتے ہیں۔

افطاری سے پہلے ہمسایوں سے کھانا شیئر کرنا بھی ایک روایت ہے۔ ہمسایوں کے باورچی خانوں کے مابین کھانے کی مختلف قسموں اور گھر میں بنی ہوئی مٹھائی کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ مصری لوگ اس روایت کو (رمضان کا کرم) کہتے ہیں۔

مختلف علاقوں میں افطاری کے فوراً بعد بچے فانوس اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور ایک لوک گیت گاتے ہیں: (حالو یا حالو رمضان کریم یا حالو) اس گانے کا مطلب ہے: ارے یار خوش رہے، رمضان کریم۔ بچے یہ گانا خوب شوق سے گاتے ہیں تاکہ گلیوں اور راستوں سے گزرتے وقت لوگ ان کو اس ماہ کی خاص مٹھائی دیں، جسے کنافہ، قطایف وغیرہ کہتے ہیں۔ جب بچے سڑک پر فانوس سے کھیلتے ہوتے ہیں تو گھر کے دیگر افراد اپنے خاندان والوں کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزارتے ہیں، تاہم وہیں بہت سی عورتیں ٹی وی چینلز پر رمضان کے ڈرامے دیکھتی ہیں۔ بہت سے مرد اپنے ساتھیوں سے ملنے کی غرض سے کافی شاپ جا کر گفتگو کرتے ہیں اور اپنا وقت گزارتے ہیں۔ مصر میں رمضان کے مہینے میں رات بھر لوگ کافی ہاؤس اور ریستوراں جاتے ہیں جہاں سحری بھی پیش کی جاتی ہے۔

مصر میں رمضان کی سب سے اہم نمائش اور ظاہری صورت یہ ہے کہ لائٹس کا عکس اور چمکتے ہوئے فانوس بالکنی اور سڑک پر لٹکائے جاتے ہیں اور رنگ برنگے آرائشی کاغذ گھروں کے درمیان بندھے ہوتے ہیں جس سے رمضان کی رونق کا اندازہ ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ خلیفۂ دوئم حضرت عمر بن الخطابؓ نے سب سے پہلے ماہ رمضان کی آمد کو منانے کا خیال شروع کیا تھا، جب انہوں نے رمضان کے پہلے دن سے ہی مساجد کو سجایا اور روشن کیا تھا تاکہ مسلمان تراویح کی نماز ادا کر سکیں اور اپنی مذہبی رسومات کو زندہ کر سکیں۔ بعض مورخین نے یہ بھی بتایا ہے کہ رمضان کی سجاوٹ چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں روزے کے مہینے کو منانے کی ایک شکل کے طور پر نمودار ہوئی، جب تقریبات کا سلسلہ شروع ہوا، جیسے سڑکوں کو سجانا اور چوکوں کو روشن کرنا۔

مصر میں بازار اس ماہ کے استقبال کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مصری لوگ اس ماہ کو منانے کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کی مختلف اقسام خریدتے ہیں۔ خاص طور پر خشک میوہ جات جسے ’’یامیش رمضان‘‘ کہا جاتا ہے۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے سڑکوں پر ہاکر میزیں بچھا کر خشک میوہ جات بیچتے ہوتے ہیں، جو روزہ دار افطاری میں کھاتے ہیں۔ ان میوہ جات میں خشک کھجوراور خشک خوبانی کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان بازاروں میں فانوس کی مختلف اقسام بھی دکھائی دیتی ہیں جس سے بازار کی رونق کافی بڑھ جاتی ہے۔

ایک سال پہلے ماہ رمضان غیرمعمولی حالات میں آیا ہے اور ایک جان لیوا وبا کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس وبا نے تیزی سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور تباہی مچا رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے رمضان کا مہینہ ہر سال کی طرح جیسا نہیں ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ماہ رمضان المبارک میں پہلی بار بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ رمضان سے وابستہ مذہبی، سماجی اور اقتصادی رسومات پر اثرات بہت زیادہ ہوئے۔ سبھی لوگ محتاط تھے اور رمضان تنہا گزارنے پر مجبور تھے۔ مصر میں بھی رمضان ہر سال کی طرح محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ رمضان اس مقدس مہینے کی راتوں میں بڑی پرسکون تھا۔ خاموشی کا عالم تھا اور سناٹے کی وجہ سے عجیب سا ماحول بنا ہوا تھا۔ تاہم مسجدوں سے آنے والی اذان نے دل کو پر رونق رکھا ہوا تھا۔

گذشتہ سال کے دوران، جب مصر کورونا وائرس کی پہلی لہر میں مبتلا تھا، بندش کے اقدامات نے مصریوں کو مقدس مہینے میں خوشی کے اظہار سے روکے رکھا۔ دیگر ممالک کی طرح مصر میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا تھا، جس سے اس مہلک وبا کی وجہ سے رمضان سے جڑی تمام رسومات متاثر ہوئے تھے۔

رمضان کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔ حکومت نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا تھا۔ مساجد میں با جماعت نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صرف لاؤد اسپیکر کے ذریعے پنج وقت نمازوں کی اذان دینے کی اجازت تھی۔ اور لوگ بحالت مجبوری اپنے گھروں میں ہی تمام عبادت کر رہے تھے۔ کورونا وائرس کی پابندی سے اس مہینے میں عمرہ ادا کرنا بھی متاثر ہوا تھا۔

پچھلے رمضان کے دوران احتیاطی تدابیر عمل کرتے ہوئے رشتہ داروں کی زیارت تقریباً موقوف تھی۔ کورونا کی وبا نے لوگوں کو سماجی فاصلے اور دوری اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ لوگ اپنے پیاروں سے نہیں مل پا رہے تھے۔ سحری اور افطاری میں اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ کھانا کا انعقاد ملتوی کردیا گیا تھا۔ صرف کنبے کے افراد کے درمیان گھروں پر سمٹ کر رہ گیا تھا۔ بے چارے بچے بھی لاک ڈاؤن کی مشکل میں گرفتار تھے۔

سڑکیں ویران تھیں، جو کبھی لوگوں کی بھیڑ کی شکایت کرتی تھیں لوگوں سے خالی تھیں، جس کی وجہ سے بالکل رونق نہیں تھی۔ اس طرح رحمت کے دستر خوان پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور کہہ دیا گیا تھا کہ فلاحی تنظیمیں بھی دستر خوان نہ لگائیں تاکہ لوگ ایک ساتھ زیادہ جمع نہ ہوں، جس کے باعث بہت سارے غریب لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت بھی کورونا وائرس سے بچنے کے لیے لوگ بازار آنے سے گریز کر رہے تھے۔ بازاروں میں ہجوم نہیں جیسے کہ ہر سال ہوتا تھا۔

اس سال بھی وبائی عہد کا دوسرا رمضان ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران اس خوف ناک وائرس نے ہمیں ماہ رمضان کی عبادتوں سے محروم کر دیا تھا۔ تاہم اس سال مصر کی سڑکوں پر کسی حد تک خوشی کے رنگ اور اس کے آثار دکھ رہے ہیں۔ مصر کی گلیوں میں آرائش کی بھرمار ہے اور مصری لوگ اس بابرکت مہینے کی رسومات پر عمل کرنے میں مصروف ہیں۔ کورونا نے پچھلے سال کے دوران مسلمانوں کو باجماعت نماز پڑھنے سے محروم کر دیا تھا۔ لہذا اس سال الحمد للّٰہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز مصر کی مساجد اور مکہ المکرمہ کی مسجد الحرام میں بھی واپس آ گئی۔

مصری حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے اور رمضان کے مہینے میں ابھرتے ہوئے وائرس کے بحران کے ساتھ رہنے کے لیے متعدد خصوصی احتیاطی فیصلے کیے ہیں، جن پر ماہ رمضان کے دوران عمل کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ لوگوں کو ان بعض رسومات سے گریز کرنا چاہیے جو مصری مقدس مہینے کے دوران ادا کرتے ہیں، تاکہ ان سے کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔

مساجد اور نماز کے حوالے سے، ماہ رمضان کے مہینہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے مصری حکومت نے کچھ فیصلے کیے ہیں۔ ان میں مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینا، بشرطیکہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیا جائے، نماز تراویح کا دورانیہ آدھا گھنٹے تک محدود کرنا، اعتکاف اور تہجد کی باجماعت نماز ادا کرنے پر پابندی، شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پابندی عاید کی گئی ہے کہ مسجد آنے والا ہر شخص جائے نماز اپنے ساتھ مسجد لے آئے، ماسک پہنے رہے اور اپنے جوتے ایک پلاسٹک بیگ میں رکھے۔

نماز پڑھتے وقت مسجد کے اندر قدرتی ہوا کی موجودگی کے لیے کھڑکیاں کھولنا، نماز پڑھنے والوں کے مابین جسمانی فاصلے پر قائم رہنا، ساتھ ہی ساتھ ہر ایک نماز کے درمیان مساجد کو جراثیم کشوں سے پاک کرنا، اور مساجد میں واٹر کولر بند کر دینا لازمی ہے۔ حکومت نے بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گھر میں نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جہاں تک سماجی اجتماعات اور افطاری کا تعلق ہے تو حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ حکومت کے فیصلوں میں رمضان کی میزوں کے انعقاد اور کھلی اور بند جگہوں پر رمضان سیشن کے انعقاد کی اجازت نہ ہونے کے علاوہ بند مقامات پر کسی بڑے اجتماع کا انعقاد یا گھروں میں تقریبات کے انعقاد کی ممانعت بھی شامل ہے۔

حکومت مسلسل نگرانی کے ساتھ شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ان احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کرا رہی کر رہی ہے، خاص طور پر اجتماع کی جگہوں پر، اجتماعی ٹرانزٹ ذرائع پر، اس معاملے میں خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ ان تمام دشواریوں کے باوجود ہم اللہ کی عبادت اور نعمت سے محروم نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں