16

مصنوعی ذہانت اور افسانہ نویسی

انسان کو حیوانات سے ممیز وممتاز کرنے والی یا یوں کہیے کہ اشرف المخلوقات کا درجہ دلانے والے دو اہم اوصاف نطق وذکاوت کی خوبیاں ہیں، جوکہ ایک دوسرے کے لیے اتنی اہم ہیں کہ ذکاوت کے بغیر انسان کا نطق کسی کام کا نہیں اور نطق کے بغیر ذکاوت کااظہار ناممکن نہ سہی قدرے مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔

انسان کے تمام تر اعمال اس کی ذکاوت کے تابع ومظہر ہیں اور اظہار کے لیے نطق یا زبان کے۔ اگرچہ ہم بعضے اپنے اعمال کو دل سے منسوب کرتے ہیں لیکن حقیقتاً تمام اعمال وافعال کے ذمے دار انسانی ذہن ودماغ ہی ہیں۔ البتہ جب ہم کسی عمل کو دل سے منسوب کرتے ہیں تو اس وقت ہم شاید ان انسانی کیفیات وجذبات کے مطابق عمل کر رہے ہوتے ہیں جنہیں ہم نیکی اور خیرخواہی سے تعبیر کرتے ہیں۔

انسان نے اپنی ذکاوت اور نطق کی طاقت ہی کی بنا پر حیوانات پر قابو پا رکھا ہے اور ان سے کئی قسم کے فوائد حاصل کیے جارہا ہے، جب کہ اسی ذکاوت کی بنا پر انسان نے اپنی تمام تر سرگرمیوں کے لیے کتنے ہی اوزار، آلات اور مشینیں بھی بنا ڈالی ہیں جو کہ دستی بھی اور خودکار بھی، لیکن موجودہ دور میں انسان خودکار مشینوں سے بھی کہیں بڑھ کر ایسی مشینیں بنا رہا ہے جو کہ خودکار ہی نہیں ہیں بلکہ خوداندیش بھی ہیں۔ ایسی خوداندیش مشینوں کے لیے انسان نے مصنوعی ذہانت سے کام لینا شروع کردیا ہے جو کہ ابھی گھٹنوں گھٹنوں چل رہی ہے لیکن اس کی سرعت رفتار وپرواز افکار دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ اب کہیں رکنے ٹکنے والی ہے، جب کہ بعض حضرات تو اس کی تیزرفتار ترقی سے قدرے گھبرا سے گئے ہیں کہ یہ نہ جانے کیا غضب ڈھانے والی ہے۔

بالکل شیلے کے 1818 میں تخلیق کیے جانے والے کردار وکٹر فرینکینسٹائن کی طرح جو ابتداً ایک معصوم سا کردار ہے جو استفسار کرنے والا ذہن اور سائنسی ترقی میں دل چسپی رکھتا ہے، لیکن بعد میں پیدا شدہ متکبرانہ اور منفی سوچ کے باعث وہ اپنے خالق کے لیے ہی خطرہ بن جاتا ہے۔

مصنوعی ذکاوت، جسے مشینی ذکاوت بھی کہا جاتا ہے، سے مراد انسانوں میں قدرتی ذہانت کے برخلاف مشینوں کے ذریعہ مختلف حالتوں میں پیش کی جانے والی ذہانت ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مصنوعی ذکاوت سے مراد وہ مصنوعی نظام ہیں جو ذہین انسانی طرز عمل؛ جیسے پیچیدہ انسانی صورت حال کا ادراک و احساس، انسانی سوچ کے اعمال اور استدلال کے طریقوں کی تقلید اور ان کا کام یابی سے مناسب تر رد عمل دکھانا ، سیکھنا، سکھانا اور علم کو حاصل کرنے کی صلاحیت اور مسائل کے حل پیش کر سکنے کی خوبیاں رکھتے ہیں۔ زیادہ تر تصنیفات اور مصنوعی ذکاوت سے متعلق مضامین نے اس کو (ذہین عاملین کے علم اور ڈیزائن) سے تعبیر کیا ہے۔

مصنوعی ذکاوت میں بہت سے پرانے اور نئے علوم، سائنس اور ٹکنالوجیوں کے اتصال اور وسیع تر وسائل کے ساتھ غور کرنا شامل ہے۔ اس کی بنیاد اور اہم نظریات میں فلسفہ، لسانیات، ریاضی، نفسیات، اعصابی سائنس، فزیالوجی، کنٹرول تھیوری، احتمالات اور اصلاحات، کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، حیاتیات اور طب اور بہت سارے علوم شامل ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی پروگرامنگ کی زبانوں میں لسپ، پرولوگ، جاوا، پائتھون شامل ہیں۔

ایک ’’ذہین عامل‘‘ ایک ایسا نظام ہے جو اپنے آس پاس کے ماحول کو جان کر تجزیہ کے بعد اپنی کام یابی کے امکانات بڑھاتا ہے۔

جان مک کارتھی ، جس نے 1956 میں مصنوعی ذہانت کی اصطلاح پیش کی تھی، اس کی تعریف ’’ذہین مشینیں بنانے کی سائنس اور انجینئرنگ‘‘ کے طور پر کی ہے۔

آج طبی سائنس میں؛ علاوہ ازیں علم کے پھیلاؤ اور فیصلہ سازی کے پیچیدہ عمل کی وجہ سے، انفارمیشن سسٹم میں اور خاص طور پر فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال، زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

طب کے میدان میں علم کے پھیلاؤ اور تشخیص اور علاج سے متعلق فیصلوں کی پیچیدگی کے باعث دوسرے لفظوں میں انسانی زندگی کی حفاظت کے لیے ماہرین کی توجہ طبی امور میں فیصلہ سازی کے لیے بھی اس نظام کے استعمال کی طرف راغب کرتی ہے۔ اسی وجہ سے، طب میں مختلف قسم کے ذہین نظاموں کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے اور اسی وجہ سے آج طب میں طرح طرح کے ذہین نظاموں کے اثرات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

لیکن جہاں دنیا کے کئی معاملات اور مسائل کے حل کے لیے کمپیوٹر اور مصنوعی ذکاوت کا استعمال کیا جارہا ہے وہیں کچھ لوگ مصنوعی ذکاوت کی مدد سے افسانہ نگاری جیسی خالص انسانی ذہنی سرگرمی بھی روبوٹ کو ملوث کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہم نے آنے والی سطور میں انہی سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

روزمرہ زندگی میں کمپیوٹر اور روبوٹس کی افادیت کو دیکھ کر، ٹیکنالوجی کے ماہرین مصنوعی ذہانت سے ادب جیسی تخلیقی سرگرمیوں کے تجربات میں بھی مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں آسٹریلیائی مصنف ڈینیئل کیل مین نے روبوٹ کی مدد سے ایک کہانی لکھنے کی کوشش کی اور جب اس آسٹریلیائی مصنف ڈینیل کیلمن نے جب مصنوعی ذکاوت کے ذریعے کہانی لکھنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ عجیب وغریب چیزیں پیش آئیں، جس کے دوران انہیں روشن امکانات اور تاریک خدشات کا مشترکہ تجربہ ہوا۔ گذشتہ سال، آسٹریا کے ناول نگار اور ڈرامانگار ڈینیئل کیل مین نے اپنی ایک کہانی پر کام شروع کیا تھا۔

افتتاحی لائنیں کچھ اس طرح تھیں: ’’میں ایک اپارٹمنٹ کی تلاش میں تھا، لیکن بات نہیں بن رہی تھی۔‘‘ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بے تحاشہ گہرائیوں سے لکھنے والے ان کے شریک مصنف سی ٹی آر ایل رائٹنگ الگورتھم نے اس کہانی کو مزید آگے بڑھایا، ’’بھائی تم مضبوط آدمی ہو، تمہیں کس بات کا ڈر ہے۔‘‘ ظاہر ہے، کمپیوٹر کا دماغ اپنے طور پر اسٹوری لائن پڑھ رہا تھا۔

کہانی کو ٹریک پر رکھنے کے لیے، کیل مین نے لکھا، ’’یہ سچ ہے، لیکن بات اپارٹمنٹ کے بارے میں چل رہی ہے۔۔۔۔‘‘ صرف اتنا لکھنا تھا کہ کمپیوٹر مہاشے بھڑک اٹھے اور مصنفین کے اتحاد کا بھٹا بیٹھ گیا۔

کیل مین نے ’’اسٹٹگارٹ لیکچر آن دی فیوچر‘‘ میں اپنے پہلے خطاب میں، میکانکی نثر سے وابستہ اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ اس نئی لیکچر سیریز کے تحت سائنس، ثقافت اور سیاست سے وابستہ شخصیات مستقبل کے بارے میں اپنے نظریات پیش کرتی ہیں۔

ان کی ’’میرا الگورتھم اور میں‘‘ تقریر اب کتاب کی صورت میں شائع ہوچکی ہے۔ اس میں، کیلمین نے فروری میں سلیکون ویلی کے اپنے ایک دورے میں، اے آئی کے ذریعے گرافیکل تجربات کا ذکر کیا ہے۔ وہیں روبو مصنف، سی ٹی آر ایل اور اس کے پروڈیوسر برائن میک کین سے بھی ملاقات کی یادیں بھی تازہ کی ہیں۔

کیل مین افسانہ نویسی کے اس تجربے کو ناکام نہیں سمجھتے کیوںکہ اس کے ذریعے بہت سارے خوب صورت بے ترتیب ادب پارے سامنے آئے ہیں۔ لیکن اے آئی کہانی کا پلاٹ یا کردار تخلیق کرنے میں ناکام ہے۔ کیل مین اس کو انسانی تحریری متن کا مبہم ’’ثانوی صارف‘‘ سمجھتے ہیں۔ معنیٰ خیز اور پراثر انداز میں کیلمین اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ مسئلے کو سلجھانے کے لیے والی یہ چیز احساس اور جذبے سے اتنی عاری ہے کہ سب کچھ بالکل خالی خالی سا لگتا ہے۔

پراگ کے سواندا تھیٹر میں فروری میں اے آئی ڈرامے کا ورچوئل پریمیئر براہ راست دکھایا گیا تھا۔ ایک روبوٹ کا تحریر کردہ ڈراما، جسے کمپیوٹر اور تھیٹر کے ماہرین کے ساتھ کام کرنے والے ماہر لسانیات کے ایک گروپ نے بنایا ہے۔ مصنوعی ذکاوت نے ڈرامے کا 90 فی صد لکھا تھا۔

اس معاملے میں بھی، ڈرامے کے پلاٹ میں کچھ بہت ہی اوٹ پٹانگ موڑ موجود ہیں لیکن الگورتھم میں لاشعور جیسی کوئی چیز نہیں ہے، ورنہ، کیلیمین کے مطابق، وہ اپنے شعور کی گہرائیوں سے ایک خفیہ بیان نکال کر پش کرتا: “میرے ذریعے آپ اداکاری کے راز سے واقف ہوں گے۔ لیکن مجھے نہیں علم کہ مجھے آپ کو یہ راز بتانے کی خواہش ہے یا نہیں۔‘‘ متن کا اندراج کرنے والے اے آئی کے ساتھ کیے گئے تجربات میں سے یہ محض دو کا ہی بیان ہے۔

سی ٹی آر ایل جب بنا تھا تو مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈڈٹ کے ٹیکسٹ کے ساتھ اس کی کچھ تربیت ہوئی تھی۔ ریڈڈٹ کے پلیٹ فارم پر کم و بیش ہر موضوع پر بحث کے فورم موجود ہیں جن میں سے کچھ انتہاپسند قسم کے بھی ہیں، جو سی ٹی آر ایل جیسے الگورتھم کو متنفرانہ مواد تخلیق کرنے کی صلاحیت مہیا کرسکتے ہیں۔ آخر انسان کے لیے کیا مناسب ہے اور کیا نامناسب، یہ فرق کرنے کی اے آئی میں صلاحیت نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اے آئی کے پاس لسانی باریکیوں کا کوئی شعور یا تصور بھی نہیں ہے۔ اسے مہیا کیے جانے والے تمام تر معطیات (ڈاٹا) کے باوجود اے آئی کو نہ مزاح کا شعور ہے نہ ہی استعارے کا ادراک۔ یوں اسے متعلقہ معاملات اور احساسات وقت کے ساتھ سمجھ میں آنے والے جانے والے تجربات کی ضرورت ہے۔

تو یہ کمپیوٹر ساختہ پروگرام یا ایلگورتھم کیا کر سکتے ہیں؟ یہ حساب کتاب بہت اچھا کرسکتے ہیں۔ اور اعداد شمار کے لحاظ سے عام متون تیار کرسکتے ہیں۔ کیلمین کی مطابق مثال کے طور پر ٹیکسٹ میں درج آئی (میں) لفظ کے آگے بہت سے امکانات ہیں کہ بیلیو (یقین کرنا) لفظ آئے گا جیسے لوگ اپنے فون پر اپ کمنگ ٹیکسٹ والے فنکشن میں دیکھتے ہیں، لیکن ایک الگورتھم پوائزن یا لیمپ جیسے الفاظ کو مرتب نہیں کر پاتا۔

کیلمین کہتے ہیں کہ اے آئی میں نیریٹو کنس ٹینسی یعنی بیانیہ مستقل مزاج کی کمی ہے۔ پراگ میں ناٹک لکھنے والی ٹیم کا حصہ رہنے ماہرلسانیات روڈلف روزا اسے احساس امتناع کہتی ہیں۔ یعنی جملوں، ساخت اور جذبات سے وابستگی کی کمی۔

اپنے موجودہ وجود میں اے آئی قصہ گوئی کی ایک اہم ترین خاصیت کو سمجھنے میں بھی ناکام رہتا ہے، یعنی کہانی کے پلاٹ کے پیچ وخم۔ کہانی کو تشکیل دینے والی یہ تیکنیک محض ممکنات کی بنیاد یا الفاظ اور جملوں کی عکاس ہی نہیں ہوتی۔ پھر ضرورت پیش آتی ہے متن کے ’’وجودی‘‘ اہمیت کی یا مصنف کے کسی تجریدی تصور کی۔

کیلمین کہتے ہیں،’’بیانیہ تخلیق کرنے کا مطلب ہے آئندہ کی منصوبہ بندی۔ اس کا مطلب ہے داخلی ہم آہنگی کی تخلیق جو کہ تمام جملوں، پیروں سے وابستہ ہے۔ وصف کے طور پر دیکھیں تو ٹھیک یہی چیز ہے جو کہ سی ٹی آر ایل نہیں کرسکتا۔ وہ کہانی کے پیخ و خم کو دیکھتا ہے لیکن اسی کو جو کہ سب سے آسان ہو یعنی پلاٹ کے نہیں بلکہ زبان کے۔

ڈیجیٹل نغمہ نگار اور ادبی نقاد ہانیس بایور کے مطابق انسان کی موروثی صلاحیتوں کے پیمانے پر اے آئی کی کارکردگی ناپنے کے بجائے ہمیں اس نئے احساس جمال کو کھنگالنے کی ضرورت ہے جو کہ وہ پیش کرتا ہے۔ وہ کیلمین کے تجربات کے نقاد ہیں۔ بایور کا کہنا ہے کہ،’’مجھے لگتا ہے کہ کیلمین اے آئی کے ساتھ حقیقی طور وابستہ نہیں ہوئے۔ کم از کم جمالیات کے لحاظ سے تو بالکل بھی نہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھا کہ مشین کے ساتھ آپ کو الگ انداز سے ادب تخلیق کرنا ہوتا ہے، بلکہ ایک الگ ہی ادب لکھنا ہوتا ہے۔‘‘

بایور کا کہنا ہے کہ سی ٹی آر ایل کا استعمال کیلمین کے روبوٹ کی طرح کیا گیا ہے۔ مصنف کی طرح جس کا رجحان ادبی حقیقت پسندی کی طرف تھا۔

بایور تجرباتی اور حقیقت پسندانہ تحریروں میں اے آئی کی قوت کو واضح کرتے ہیں۔ وہ ایلیسن پیرش کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ،’’ایلیسن پیرش نیویارک کے ایک شاعر اور پروگرامر ہیں جنہوں نے ایلگورتھم کو موجودہ لفظوں ہی سے نئے لفظ گڑھنے یا کھوجنے میں لگادیا ہے۔ مثال کے طور پر نارتھ، ایسٹ، اور ویسٹ بن جاتے ہیں ’’ایِیُرتھ‘‘ یا ووئیرتھ۔‘‘

بایور مانتے ہیں کہ اس طرح کے غیرروایتی اصول فن کارانہ افعال کے لیے زیادہ کارآمد نہیں ہیں۔ ’’ٹھیک ہے کہ استعارہ یا لطافت ان میں اتنے اچھے نہیں ہوتے، لیکن میں نہیں جانتا کہ اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ دیکھنا زیادہ دل چسپ ہے کہ ان کی مہارت کیا ہے اور اس سے کس قسم کی ادب تخلیق ہو سکتا ہے۔‘‘

مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب یا آرٹ تخلیق کرنا ایک ایسا خواب ہے جس کی تکمیل ناممکن آتی ہے، لیکن اگر اس خواب کو تعبیر مل گئی تو انسانوں پر روبوٹس اور مشینوں کی حکومت کا وہ ڈراؤنا خواب بھی پورا ہوسکتا ہے جو اب تک صرف فلموں میں نظر آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں