43

معاشرہ ’’مافیاز‘‘ کے نرغے میں

طاقتور گروہوں نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، حکومتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں۔فوٹو : فائل

طاقتور گروہوں نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، حکومتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں۔فوٹو : فائل

مفاد کے تحت اتحاد کرنا بہت اچھا ہے مگر جب یہی اتحاد کسی غلط چیز کی حمایت کے لئے ہو تو اتحاد نہی بلکہ مافیا بن جاتا ہے جو ہر حال میں اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں جاگیرداروں ، سرداروں ، زمینداروں ،سرمایہ داروں کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسے گروہ معروض وجود میں آچکے ہیں کہ جو اپنے مفادات کی خاطر آ خری حد تک چلے جاتے ہیں ، ظاہر ہے کہ ان گروہوں جنہیں ’’مافیاز‘‘ کہا جاتا ہے ، کو قانون نافذ کروانے والے اداروں ، اور طاقتور شخصیات کا تعاون بھی کسی نہ کسی طریقے سے حاصل ہوتا ہے اگر دیکھا جائے تو طاقتور افراد کی سرپرستی کے بغیر مافیاز یا گروہوں کی تشکیل اور چلنا ممکن ہی نہیں ہے ۔

اگر کوئی حکومت واقعتاً مافیاز اور انکی بلیک میلنگ سے جان چھڑوانا چاہے تو اسے مربوط حکمت عملی اور عوامی تعاون حاصل کرنے کے ساتھ اُن تمام اسباب پر غور کرنا پڑ ے گا کہ جس کی وجہ سے مافیاز پیدا ہوتے ہیں اور ہر قسم کے خطرے سے بے خوف و خطر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں ۔

’’گروہی نظام‘‘، گروہی نظام جمہوری نظام سے مکمل طور پر متصادم ہے ، بادشاہی نظام میں گروہوں کی مدد سے سلطنت پر گرفت مضبوط رکھی جاتی تھی۔ برصغیر پاک وہند میں انگریزوں سے پہلے نظام پر بھی غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بادشاہوں نے ہر علاقے میں اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے ہر چھوٹے بڑے علاقے میں اپنے وفاداروں پر مشتمل سرداری نظام قائم کر رکھا تھا، یہ سردار یا زمیندار اپنے علاقے کی رعیت کو قابو میں رکھتے اور بادشاہِ وقت کا وفادار بنائے رکھتے تھے جب انگریزوں نے قبضہ کیا تو انھوں نے بھی اپنے وفادارو ں کو جاگیروں اور زمنیوں سے نواز کر جاگیردار اور سردار نہ نظام مضبوط کیا ۔

پاکستان بننے کے بعد ہر جگہ مفاد پرستوں کے ٹولے معرض وجود میں آتے گئے۔ چالاک وہوشیار ، لالچی اور بے ضمیر افراد نے حصول مفادات کیلئے سیاسی ، مذہبی، تجارتی اور لسانی گروہ تشکیل دیئے۔ ان گروہوں میں ان افراد کو کلیدی حیثیت حاصل تھی کہ جو سادہ لوح عوام کو ورغلانے اور لبھانے کا فن جاننے تھے، عوامی استحصال کے دروازے کھلتے گئے ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر جگہ مافیاز اور پریشر گروپ نظر آنے لگے جنہیں بہرحال طاقتور شخصیات اور قانون نافذ کروانے اداروں کی سر پرستی حاصل رہی ۔ ہر علاقے میں بدمعاشو ں کے اڈے قائم تھے آج بھی ہیں، جرائم پیشہ گروہ کھلم کھلا اپنا کام کرتے ہیں اور انھیںکوئی پوچھنے والا بھی نہیں کہ ان کی پشت پناہی کرنے والے افراد خاصے بارُسوخ ہوتے ہیں۔

’’حکومتی محکموں کی پشت پناہی‘‘، لاقانونیت کی حوصلہ افزائی متعلقہ محکمے ہی کرتے ہیں ، سب سے بڑی مثال تجاوزات بے ھنگم عمارتیں ، ذخیرہ اندوزی ،غیر معیاری اور ملاوٹ زدہ خوراک ، جعلی ادویات ، بے ترتیب ٹریفک اور ہر گلی محلے میں لاقانونیت کے مظاہرے ہیں۔ آج بھی کسی بھی محکمے میں رشوت کے بغیر کام نہیں کیا جاتا، سب کچھ سامنے ہے مگر کسی بھی قصور وار سرکاری افسر یا اہلکار کا محاسبہ نہیں کیا جاتا۔

پاکستان میں بیرون ممالک سے آنے والے مہمان جب ہرگلی کوچے میں ریڑھیوںاور ٹھیلوں کے علاوہ فٹ پاتھوںپر کاروبار ہوتا دیکھتے ہیں تو انھیں فوراًاندازہ ہو جاتا ہے کہ یہاں کے سرکاری محکموں کو قانون کی حکمرانی سے کس حد تک دلچسپی ہے، اگر کھلم کھلا ہونے والی لاقانونیت کو نہیں روکا جاتا تو چوری چھپے ہونے والے جرائم میں تو سبھی شامل ہونگے۔ سپریم کورٹ نے جب موٹر سائیکل سواروںکو ھیلمٹ پہننے کا حکم دیا تو ہر موٹرسائیکل سوار کو اس حکم کی تعمیل کرنی پڑی، یہاں کسی کا اعتراض یا احتجاج کام نہیں آیا ، زینب الرٹ کا بِل اسمبلی میں پیش ہوا تو کسی نے مخالفت نہیں کی، اس بِل کی منظوری سے ہی بچوں کے ساتھ ہونے والے ناپسندیدہ واقعات میں نمایاں کمی واقع ہو گئی۔

دہشت گردی پر قابو پانا سب سے مشکل اور اعصاب شکن مرحلہ تھا، دہشت گردوں نے پاکستان میں ’’گوریلہ جنگ‘‘شروع کی ہوئی تھی انکی پُشت پناہی پر بھارت اور کئی ہمسایہ اور دوسرے ممالک موجود تھے مگر جب عوام ، حکومت اور اداروں نے تہیہ کر لیا تو دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا گیا ۔ اسی طرح جب ایم کیو ایم انڈر ورلڈ مافیا میں تبدیل ہوگئی تو اس پر بھی قابو پا لیا گیا، حالانکہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کو اندرونی اور بیرونی سرپرستی حاصل تھی، ان کے سیکٹر انچارج بڑے مضبوط تھے، ایک منظم نیٹ ورک فعال تھا۔

اسلحہ کی بہتات تھی، ساؤتھ افریقہ ، لندن ، بھارت اور کئی ممالک میں بھی انکا نیٹ ورک موجود تھا، مگر جب طاقتور اداروں نے پانی سر سے گزرتا دیکھا تو انھوں نے فوری اقدامات کئے نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ علاقہ غیر (قبائلی علاقوں) کو مکمل طور پر پاکستان کا فعال حصہ بنانے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آج پورا علاقہ غیر قومی دھارے میں شامل ہو چکا ہے۔

ہمارے عسکری اور خفیہ اداروں کی فعالیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اب پورے ملک میں ایسا نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے کہ کسی بھی فرد کی مدموم سر گرمیاں پوشیدہ نہیں ہیں ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہر فرد کا مکمل ڈیٹا حکومت کے پاس موجود ہے، اسکے باوجود بھی اگر ملک میں مافیاز فعال ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان مافیاز کو کسی نہ کسی طرح قانون نافذ کروانے والے اداروں کی سرپرستی حاصل ہے، انتہا تو یہ ہے کہ اب میڈیکل جیسے معزز پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی مافیا کی شکل اختیا ر کرتے جا رہے تھے۔ سرکاری اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے فارغ الحفیل ڈاکٹرز آئے دن ہڑتال کردیتے تھے، حکومت گھٹنے ٹیک کرانکے، مطالبات تسلیم کرتی رہی ہے۔

حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہی یہ ہے کہ پوری ریاست گروہوں میں تبدیل ہوئے جا رہی ہے، گروہ بندی کا جو نظام پاکستا ن کے پسماندہ علاقوں میں قائم تھا اب وہ شہروں تک پھیل چکا ہے، چھوٹی سیاسی،دینی اور لسانی پارٹیاں بھی طاقتور گروہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، یہ اپنے آپ کو پریشر گروپ کہتے ہیں ۔ یہ ہر موقع پر بلیک میلنگ شروع کردیتے ہیں اور دباؤ ڈال کر اپنا کام اور مقصد نکلوا لیتے ہیں۔

موجودہ حکومت کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ پورے ملک میں مفاد پرست گروہ طاقتور مافیاز کی شکل اختیا ر کر چکے ہیں، ہر مافیا میں ہر قسم کے بااثر افراد موجود ہیں، انھیں یہ بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ مافیاز پر قابو پانا مشکل کام ہے کیونکہ انھیں طاقتور افراد کی سرپرستی حاصل ہے۔

’’سیاسی مافیاز‘‘، حکومت کو سب سے پہلا واسطہ سیاسی مافیاز سے پڑا، انھیں اندازہ ہوا کہ کس طرح چالاک ،شاطر مفاد پرست ، لالچی، ابن الوقت اور بے ضمیر افراد سیاسی پارٹیوں کا حصہ بن جاتے ہیں، ان افراد کی شمولیت سے سیاسی پارٹیاںاپنے مقصد اور منشور سے کس طرح ہٹ جاتی ہیں، ان افراد کا انتخابات میں بے دھڑک رقم خرچ کرنے کا مقصد عوام ، ریاست اور معاشرے کی خوشحالی اور ترقی نہیں ہوتا صرف ذاتی مقاصد کا حصول ہوتا ہے، ان افراد کو نظریاتی اور قومی سیاست کے مفہوم تک کا علِم نہیں ہوتا۔ یہ اپنی ر قم ایک ایسے ’’جُوئے‘‘ میں لگاتے ہیں کہ کامیابی کی شکل میں ایک کے ہزار وصول ہو جاتے ہیں، ’’ عزت ، دولت اور شہرت‘‘ الگ حاصل ہوتی ہے ۔ پاکستانی عوام بھی اسی انتخابی نظام اور طرز سیاست کے عادی ہیں اور وہ اسی کو سیاست سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس معاملے میں زیادہ شعور نہیں رکھتا۔

میاں نواز شریف جب ’’سیاست‘‘ میں آئے اور انھوں نے میڈیا اور عوام پر رقم خرچ کرکے کچھ مقام بنانا شروع کیا، تو مفاد پرست اور استحصالی ٹولہ انکے گرِداکٹھا ہوگیا، مسلم لیگ نے ایک طویل عرصہ پنجاب اور مرکز میں حکومت کی، سب کچا چٹھا سامنے آگیا مگر نتیجہ کیا نکلا ۔۔۔۔۔؟

قبضہ گروپ ، پراپرٹی ڈیلر، لینڈ مافیا ، ذخیراندوزں اور دوسرے شاطر افراد نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے مگر یہ مافیا آج بھی ’’معزز سیاستدان ‘‘ کہلاتا ہے۔

پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی عوامی نمائندگی کے نام پر اپنے اندرون و بیرون ممالک خزانے بھر لئے مگر یہ آ ج بھی ڈھٹائی سے اپنے آپ کو اس استحصال زدہ قوم کا نمائندہ کہتے ہیں اگر ان کے مفاد کوزک پہنچائی جائے تو یہ فوراً اکٹھا ہو جاتے ہیں اورکچھ افراد کو مزید لالچ اور جھانسہ دیکر اپنے آس پاس اکٹھا کر لیتے ہیں ، جب یہ اپنے ساتھ ہونے والے ’’متوقع ظلم‘‘ کو روکنے کیلئے جلسے جلوس نکالتے ہیں تو ان جلسوں میں ’’جو شرکاء‘‘ نظر آتے ہیں انھیں دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ عملی زندگی میں کتنے مصروف ہونگے۔

مولانا فضل الرحمن بھی حصول مقاصد کیلئے ایک دفعہ لانگ مارچ اور دھرنا دے چکے ہیں، اب پھر ان کا یہی ارادہ ہے، ملک کی بڑی پارٹیوں نے ان کا تعاون حاصل کر کے بھرپور فا ئدے اٹھائے، اس دھرنے کے نتیجے میں مسلم لیگ کی قیادت جیلوں اور ملک سے باہر پہنچ گئی ، پیپلز پارٹی کو بھی خاصا ’’ریلیف‘‘ مِلا اور الزام نیب کی ’’نا اہلی، اور کمزور پراسیکیوشن‘‘ پر دھر دیا گیا۔

دوسری پارٹیوں نے بھی فائدے اٹھائے۔ مسلم لیگ ’’ق‘‘ جِسے اس حکومت میں نئی تازگی اور قوت ملی ، نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے ’’ حکومتی استحصال‘‘ کے خلاف احتجاج شروع کردیا ۔ایم کیوایم نے تو اپنے وہ دفاتر کھولنے کا بھی مطالبہ کردیا کہ جن کے ذریعے پورے کراچی کو کنٹرول بھی کیا جاتا تھا ، ہر شہری سے بھتہ ، زکواۃ ، کھالیں اور ووٹ بھی حاصل کیا جاتا تھا۔ پنجاب میں کئی حکومتی ایم پی ایز نے ’’پریشر گروپ‘‘ بھی بنا لیا جب ملک میں خوراک کا بحران پیدا ہوا ، مہنگائی کا طوفان کھڑا ہو تو وزیراعظم اور متعلقہ اداروں کو فوراً اندازہ ہوگیا کہ اس بہتی گنگا میںکون کون ہاتھ دھو رہا ہے۔

اس بات کا علم بھی ہو گیا کہ اس ’’ کارخیر ‘‘ میں اپوزیشن کے علاوہ حکومتی نمائندے بھی شامل ہیں ، وزیر اعظم نے اعلان بھی کر دیا کہ وہ ’’ مافیاز‘‘ کے خلاف بھر پور کاروائی کریں گے، مگر انھیں ’’پریشرگروپ‘‘ بھی نظر آتے ہیں ، مولانا فضل الرحمان اور اس طرح کے کئی سیا ستدان بھی نظر آتے ہیں ۔ چنا نچہ ’’مافیاز‘‘ کو کچلنے کا عزم بھی ایسا ہی نظر آتا ہے کہ جیسے ’’ پیشہ ورسیاستدانوں اور ملکی خزانے اور عوامی دولت لوٹنے والے افراد کے خلاف انھوں نے اظہار کیا تھا۔ وزیر اعظم کی اپنی پارٹی میں بھی ’’باؤنسر ‘‘ لگانے والے بعض ایسے ’’ کھلاڑی ‘‘ موجود ہیں جو ہر ’’ لوز بال ‘‘ پر چھکا لگا دیتے ہیں۔

’’مافیا ‘‘ پر قابو کیسے پایا جائے ؟، وزیر اعظم عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز کا محو رہی ظلم و نا انصافی کے خلاف جنگ کو بنایا ۔ انھوں نے ظلم و استحصال کے خاتمے کو اپنی سیا سی جدوجہد کی بنیاد بنایا ۔ جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو اپر مال لاہور کے علاقہ میں قائم ہونے والے پہلے دفتر میں ہزاروں افراد نے رکنیت فارم بھرے مگر عمران خان کی توقع کے مطابق تحریک انصاف پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔ انھوں نے طویل سیاسی جدوجہد کی مگر رفتار ’’ فاسٹ بائولر‘‘ کی ’’ سپیڈ‘‘ سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔

وہ نظریاتی سیاست کا عزم لیکر میدان سیاست میں آئے تھے مگر انکی ’’ سوچ و فکر‘‘ نے عام لوگوں کو اس حد تک متاثر نہیں کیا کہ انکے اپنے ذہنوں میں ا نقلاب برپا ہوجاتا اور ملک میں کسی بھی مثبت تبدیلی کیلئے میدان عمل میں اُتر نے کیلئے تیار ہو جاتے۔ ’’تبدیلی‘‘ کیلئے بہت مضبوط فکرو سوچ اور ارادے کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر مقصد کا حصول اللہ کے بندوں کو ’’ریلیف‘‘ دینا ہو، انھیں عزت دینی ہو ، انھیں بنیادی سہولیات مہیا کرنی ہو تو جدوجہد میں اللہ کی رضا اور تائید شامل ہو جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا واضح حکم اور قانون دولت کی مساویانہ تقسیم ہے ، ہر انسان کو ریاست میں عزت واحترام کا مقام دینا ہے ۔ ریاست سے ظلم و ناانصافی اور استحصال کا نظام ختم کرنا ہے ، حصول مقصد کیلئے سب سے پہلے اپنی ہی ذات کی نفی ہے، مگر عمران خان کے اپنی’’ لائف سٹائل ‘‘ میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ جس سے عام لوگ متاثر ہوتے اور نہ ہی انکے الفاظ میں وہ قوت تھی کہ ہرفرد متاثر ہوتا۔

بظاہر تو یہی نظر آتا ہے کہ عمران خان بھی اِسی فارمولے کے تحت حکومت میں لائے گئے ہیں کہ جس کے تحت پہلی’’جمہوری حکومتیں ‘‘ ملک میں ’’جمہوری نظام‘‘ چلاتی رہی ہیں ۔ عمران خان کی یہ خوبی سب کو بھاتی ہے کہ وہ بذات خود مالی کرپشن میں ملوث نہیں رہے ، مگر انکے بعض ساتھی اب بھی موقعہ کی تاک میں ہیں کہ کب انھیں اپنے مال میں مزید اضافہ کرنے کا موقعہ ملتا ہے ، دوائیاں ،آٹے اور چینی کے بحران میں حکومت اور اپوزیشن کے کئی سیاستدانوں کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں ۔

اب مافیاز پہلے سے زیادہ مضبوط اور بے مہار ہو رہے ہیں، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کہ عمران خان کی حکومت ہوا میں معلق ہے ، ایک آدھ اتحادی جماعت کے سرکنے سے ہی زمین بوس ہو سکتی ہے، کمزور اور معلق حکومت کا اصل فائدہ مافیاز اٹھا رہے ہیں۔ اگر عمران خان ملک میں مثبت تبدیلی کے متمنی ہیں تو سب سے پہلے انھیں دولت کی مساویانہ تقسیم کا اسلامی فارمولہ اپنانا پڑے گا اور اس سلسلہ میں انھیں ہر دباؤ سے نِکلنا پڑے گا، اگر وہ اس سلسلے میں کسی بھی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے تو انھیں عوام کا اعتماد خود بخود حاصل ہو جائے گا۔

شائد عمران خان کو اندازہ نہیں ہے کہ طبقاتی تفریق میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ مہنگائی کی وجہ سے ایماندار اور کمزور طبقہ بری طرح پِس رہا ہے ، اگر اب بھی اس کا سدِباب نہ کیا گیا تو ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے سول اور عسکری ادارے بھی اس صورتحال پر قابو نہیں پا سکے گے،کیونکہ ایک مخصوص تعداد کو قابو میں لایا جا سکتا ہے مگرتعداد میں اضافہ ہوجائے تو قابو کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا ہے۔ اس وقت تمام اداروں کو ایک صفحہ پر اکٹھا ہونا پڑے گا اور ’’مافیاز‘‘ کو ہر حال میں ختم کرنا پڑے گا ورنہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گی کہ انھیں اپنی بقاء کیلئے کسی نہ کسی گروہ میں شامل ہونا ہے ۔ اگر یہ وقت آگیا تو۔۔۔۔؟؟؟ ؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں