47

معروف پشتو ادیب اور نقاد سلیم راز 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

وہ ترقی پسند ادبی تنظیم سے بھی منسلک رہے، فوٹو: فائل

وہ ترقی پسند ادبی تنظیم سے بھی منسلک رہے، فوٹو: فائل

 پشاور: عالمی امن پشتو کانفرنس کے چیئرمین اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو ادیب سلیم راز طویل علالت کے بعد 82 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

معروف ترقی پسند انقلابی شاعر، ادیب، صحافی اور نقاد سلیم راز رضائے الہی سے انتقال کرگئے۔ 82 سالہ پشتو ادیب کی نمازجنازہ چارسدہ میں ادا کی گئی۔ان کی نماز جنازہ میں اہم سیاسی شخصیات اور علاقہ معززین نے بھی شرکت کی۔

سلیم راز 29 مارچ 1939ء کو چارسدہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول بنوں سے حاصل کی۔ وہ پشتو عالمی کانفرنس کے بانی اور ترقی پسند تنظیم عوامی ادبی انجمن (پشتو شاخ) پختونخوا کے کنوینر بھی تھے۔

سلیم راز نے 2  پشتو عالمی کانفرنسوں کا انعقاد بھی کرایا تھا جب کہ وہ ملک گیر سطح پر پاکستانی زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے سرگرم رہے اور مسلسل 22 سال تک انجمن مصنفین (خیبر پختونخوا) کے جنرل سیکریٹری کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔

ان کی تصانیف میں زخمونو سپرلے (زخموں کی بہار)،تنقیدی کرخے،لہ باڑے تر باڑہ گلی (باڑے سے باڑہ گلی تک) رپوتاڑ،زہ لمحہ لمحہ قتلیگم، (میں لمحہ لمحہ قتل ہوتا رہا)پشتو شاعری اکسٹھ سال،پشتو انشائیہ پچاس سال،پشتو سفر نامہ پچاس سال اوراردو مقالوں کا مجموعہ شامل ہیں جبکہ ان کی پچاس سے زیادہ کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں