33

ملیریا؛ اسباب، علامات اور علاج

ملیریا ایک ایسا انفیکشن ہے جوکہ اڑنے والے کیڑوں کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ یہ انفیکشن مچھروں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان تک باآسانی پہنچ جاتا ہے۔ یہ انفیکشن بعد میں سردی، بخار اور زکام جیسی علامات کا سبب بنتا ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔

بچوں میں ملیریا ہونے کے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ ملیریا یعنی باری کا بخار مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے جو یک خلوی قسم کے جرثومے پلازموڈیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماری دنیا بھر میں پائی جاتی ہے خصوصاً امریکا، ایشیائی اور افریقی ممالک میں۔ ہر سال پوری دنیا میں 500-350 ملین افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح تین ملین افراد ہر سال ملیریا کے مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ملیریا سے ہلاک ہونے والے90 فیصد افراد کا تعلق افریقی ممالک سے ہوتا ہے۔ ملیریا کے پھیلاؤ کی وجوہات کو عام طور پر غربت سے جوڑا جاتا ہے اور اس بیماری سے متاثر ہونے والی آبادی میں بلاشبہ غربت کی شرح میں اضافہایک اہم سبب ہے۔ اس بیماری کا تعلق گندگی سے بھی ہے جہاں گند زیادہ ہو وہاں مچھر زیادہ پیدا ہوتے ہیں لیکنگندگی کا تعلق غربت سے نہیں ہے۔

ملیریا کے نشانات اور علامات

وہ ممالک جہاں ملیریا عام ہے وہاں کا سفر کرنا ہے تو احتیاط کریں۔ دنیا کے مندرجہ ذیل چند خطوں میں ملیریا عام ہے۔

1۔افریقہ ، 2۔جنوبی ایشیا، 3۔ مشرق وسطیٰ، 4۔ایشیا ، 5۔وسطی امریکا۔

اگر ان ممالک میں جانا بہت ضروری ہو اور خاص طور پر بچوں کو لے کر جانا ضروری ہو تو نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کوشش کریں بچوں کو نہ لے کر جائیںکیونکہ بچوں کو یہ انفیکشن بہت جلدی پکڑتا ہے۔

ملیریا کی علامات عموماً انفیکشن ہونے کے 6 سے 30 دن کے بعد نظر آتی ہیں۔ اس کی علامات نظر آنے میں ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔ اس کی علامات شدید نزلہ جیسی ہوتی ہیں۔بخار، سردی، متلی، الاٹیاں، ڈائریا، شدید کمزوری، پٹھوں کا دکھنا، پیٹ، کمر اور جوڑوں میں درد، کھانسی، گھبراہٹ۔ سفر سے واپسی پر ملیریا بچوں میں بخار کی خطرناک اور اہم وجہ ہو سکتا ہے۔ بخار اس کی ایک علامت ہے نہ کہ بیماری۔ یہ جسم پر انفیکشن کا ردعمل ہوتا ہے۔ بخار کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی سنجیدہ مسئلہ ہو رہا ہے۔ اگر آپ کے بچے پر ان علامات میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو، تو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھائیں، اگر اس کا سنجیدگی سے علاج نہ کرایا گیا تو نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔

ایک بار اگر ٹھیک اور وقت پر علاج ہو جائے تو علامتیں خودبخود غائب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ دیگر بہت سے جراثیم ملیریا جیسی علامتیں دکھاتے ہیں۔ اس لیے بعض دفعہ مرض کا تعین کرنے میں دیر لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے مرض میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اسکولوں اور گھروں پر ماں باپ 14-8 سال کے بچوں کو آگاہی فراہم کریں۔ اس میں 10 سے 14 سال کی عمر ایسی ہوتی ہے جو بچے بات کو آسانی سے سمجھ جاتے ہیں اور اس عمر کے بچوں کا میل جول چھوٹی عمر کے بچوں سے بھی ہوتا ہے اور اسکول کی ہر بات اس عمر کا بچہ گھر میں بھی بتاتا ہے۔ اس طرح اس عمر کے بچوں کے ذریعے بڑوں تک آگاہی پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔

ملیریا اسمال، غذا ٹیسٹ، کھانسی، سردی اور بیماری آنتوں کے طفیلی کیڑے پانی کو صاف کرکے پینا اور صفائی کا خاص خیال رکھنا بچوں کے ذریعے بڑوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح 10 پیغامات بنا کر بچوں کو یاد کروا دیے جائیں تاکہ بچے آگے بتا سکیں وہ پیغامات یہ ہیں۔

1۔ ملیریا ایک ایسی بیماری ہے جوکہ متاثرہ مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے پھیلتی ہے۔

2۔ ملیریا خطرناک ہے، یہ بخار کا سبب بنتا ہے اور خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

3۔ ملیریا سے بچاؤ ممکن ہے کیڑے مارنے والی دواؤں کا اسپرے کیا جائے۔

4۔ ملیریا کے مچھر اکثر غروب اور طلوع آفتاب کے درمیان کاٹتے ہیں۔ اس وقت خاص احتیاط کرنا۔

5۔  بچوں کو ملیریا کے بعد بڑھنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

6۔گھروں، ہوا اور پانی پر ملیریا کے مچھروں کو مارنے کے لیے 3 طرح کے اسپرے ہوتے ہیں۔

7۔ ملیریا کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

8۔ ملیریا سے بچاؤ اور علاج ہیلتھ کارکن سے ہدایت حاصل کرکے اور ڈاکٹر کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

9۔ ملیریا متاثرہ شخص کے خون میں رہتا ہے جس کی وجہ سے خون کی کمی ہو سکتی ہے۔

10۔جب علاقے میں ملیریا پھیلا ہوا ہو تو ملیریا سے بچاؤ کی گولیوں اور خون کی کمی سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے اور اس کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

پیچیدگیاں

شدید پیچیدگیاں

1۔دماغ کا خلل

2۔ خون کی سرخی میں شدید کمی۔

3۔جھٹکے

4۔اچانک دوسری بیماریوں کا حملہ

5۔گردوں کا فیل ہونا

6۔کومہ۔

اگر آپ کو ملیریا کا شک بھی ہے تو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور ڈاکٹر کو چاہیے فوری طور پر بلڈ ٹیسٹ کروا لیں اس سے بیماری کے بارے میں معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔

علاج کا دورانیہ اور اس کی نوعیت مندرجہ ذیل ہے:

1۔بیماری کی نوعیت

2۔بیماری کی شدت

3۔بچے کی عمر

4۔علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی بہت ضروری ہے۔

بچاؤ کیسے ممکن ہے ؟

اگر آپ ایسی جگہ رہتے ہیں یا آپ کا روزانہ ایسا جگہ جانا ہوتا ہے جہاں گندگی، کوڑے کے ڈھیرے، گٹر کا پانی، حتیٰ کہ صاف پانی کا  بھی ہر وقت بہنا زیادہ ہے تو لازم ہے وہاں مچھر بھی زیادہ ہوں گے۔ ایسے علاقے میں نہ جائیں اور اگر وہاں رہتے ہیں  یا جانا بہت ضروری ہے تو اینٹی ملیریل ادویات کا استعمال کریں۔

2۔ایسے بستر کا استعمال کریں جو جالی سے ڈھکا ہوا ہو، اور اس بستر پر جاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے اندر کوئی مچھر نہیں ہے۔

3۔کیڑے مارنے والی ادویات کا استعمال کریں۔

4۔ حفاظت رکھنے والے کپڑے جیسے پوری آستینوں والی قمیض اور شلوار کا استعمال کریں۔ صبح اور شام کے وقت خاص طور پر گھر پر رہیں۔ مغرب سے تھوڑا پہلے اپنے گھر کے کھڑکیاں دروازے بند کردیں عشا تک ، پھر کھول لیں۔

اگر بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے اور ماں نے اینٹی ملیریا ادویات کھائی ہیں تو بچے کو ملیریا کی ادویات کی ضرورت ہے۔ اگر بچہ ایک دو دن ادویات کھا کر ٹھیک نہیں ہو رہا ہے تو ڈاکٹر سے دوبارہ رجوع کریں۔

اگر آپ کے بچے کو تیز بخار ہے جو دوا کے استعمال سے نہیں اتر رہا یا سانس لینے میں دشواری ہے، پیٹ میں شدید تکلیف، اس قابل نہیں کہ دوا منہ سے لے سکے، 8 گھنٹے سے پیشاب نہیں آیا یا بہت گہرے رنگ کا آتا ہے، رنگ کا ہلکا ہونا، یا اچانک بیماری کا حملہ آور ہونا، سستی، صحیح نہیں لگ رہا جلد کا رنگ اڑنا۔

اہم نکات

ملیریا ایک جراثیمی بیماری ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں سفر کرتے ہوئے ملیریا کی پکڑ ہو سکتی ہے۔

1۔اپی کاکIpecacuanha

پیاس کا نہ ہونا، مستقل متلی اور قے، زبان صاف

2۔نیٹرم میورNatrum Muriaticum

سردی 10 سے 11 بجے صبح بخار کی تیزی میں شدید سر میں درد، پسینے آنے سے آرام، بخار کے دوران شدید پیاس

3۔آرسنک البم Arsenicum Album

مرض کا دورہ 2 بجے سے رات 12 بجے تک یا 1 بجے رات سے 2 بجے رات تک زبان صاف اور سرخ۔ بہت بے چینی، تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد پیاس کا لگنا۔

4۔چائناChina

سردی شروع ہونے سے پہلے پیاس، لیکن سردی شروع ہونے کے بعد پیاس ختم، بخار کے تیز ہونے پر پیاس اور زیادہ بخار کے بڑھنے پر پیاس ختم، جوں ہی حرارت ختم ہو کر پسینہ آنے لگتا ہے پھر شدید پیاس۔

5۔ یوپٹیوریم پرفولیمEupatorium Perfo

ہڈیوں میں شدید درد، لرزہ کے بعد قے اور 7 بجے سے 9 بجے تک تکالیف کا ہونا۔

دیگر ادویات

نکس وامیکا  Nux-Vam

جیلسیمیم  Gelsemium

رسٹاکس  Rhustox

اگنیشیا  Igratia

پلسلا  Pulsatila

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں