26

مہنگائی کے خاتمہ کیلئے حکومت کو تاجروں پر اعتماد کرنا ہوگا

جو تاجر ناجائز منافع خوری کیلئے قیمت بڑھائے گا یا کوالٹی کم کرے گا وہ خود ہی مارکیٹ سے آوٹ ہو جائے گا۔

جو تاجر ناجائز منافع خوری کیلئے قیمت بڑھائے گا یا کوالٹی کم کرے گا وہ خود ہی مارکیٹ سے آوٹ ہو جائے گا۔

 لاہور: عوام دوست اور کچھ منفرد کرنے کا جنون رکھنے والی حکومت کیلئے کچھ بھی نیا کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ چیلنجز کے سونامی میں موجوں کے مخالف تیرنے کیلئے بہت ہمت درکار ہوتی ہے جبکہ تبدیلی کو ابتداء میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور یہی وقت ہوتا ہے جب دانش مند حکمران ضد، ہٹ دھرمی یا اپنی انفرادی سوچ کو جبری نافذ کرنے کی بجائے متعلقہ عوامی، سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں کی حمایت اور معاونت حاصل کرنے کیلئے نیک نیتی کے ساتھ سنجیدہ اقدامات کرتے ہیں۔

گزشتہ پونے تین برس سے تحریک انصاف کی حکومت بقول ان کے ملک میں تبدیلی لانے کیلئے کوشاں ہے اور ان کی مجوزہ تبدیلی کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ ہم صرف اس کے تجارتی پہلو پر بات کرتے ہیں کیونکہ اس دور حکومت میں عوام کو اذیت ناک مہنگائی کا سامنا ہے اور حکومت تمام تر دعووں کے باوجود مہنگائی کے عفریت پر قابو نہیں کر پا رہی ہے۔ حکومت مہنگائی بڑھنے کی ذمہ داری تجارتی حلقوں پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتی ہے اور بیوروکریسی بھی اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کیلئے انڈسٹریل اور کامرس سیکٹرکو ذخیرہ اندوز اور چور قرار دینے میں مشغول رہتی ہے۔

آٹا گندم کا بحران آتا ہے تو فلورملز کو چور قرار دے دیا جاتا ہے، چینی کا بحران آتا ہے تو شوگر ملز پر ملبہ ڈال دیا جاتا ہے جبکہ سبزیاں پھل مہنگے ہوتے ہیں تو آڑھتیوں پر مہنگائی بڑھانے کا الزام تھوپ دیا جاتا ہے،ان تمام حلقوں میں سے چند ضرور ’’چور‘‘ ہوں گے لیکن 5 یا10 فیصد کی وجہ سے باقی کے 90 فیصد کو بھی چور قرار دینا نا انصافی بھی ہے اور حماقت بھی لیکن ہماری حکومتوں کی مثال بھی شتر مرغ کی جیسی ہے جو اپنی جانب آتے خطرہ کو دیکھ کر گردن زمین میں چھپا کر سمجھتا ہے کہ اب وہ محفوظ ہو گیا ہے۔

دنیا بھر کے محققین نے کئی دہائیوں کے تجربات کے بعد اس نکتہ پر اتفاق کیا ہے کہ مہنگائی اور قلت کو انتظامی جبر کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کا ایک ہی موثر حل ہے جو کہ رسد وطلب کا توازن درست کرنا ہے۔آٹا گندم کی بات کی جائے تو سب سے بنیادی خرابی کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے جو کہ فلورملز کو سرکاری گندم کا کوٹہ دینا ہے۔

سرکاری گندم کوٹہ سو خرابیوں کا ایک سبب ہے۔ سارا دن تپتی دھوپ میں مزدوری کرنے والا شخص دس یا پندرہ روپے کی دال کے ساتھ سبسڈی والے آٹا کی روٹی کھاتا ہے تو وہیں کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ہزاروں روپے مالیت کا کھاناکھانے والے کو بھی سبسڈی والے آٹا سے بنی روٹی ملتی ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے عوام کو حقیقی معنوں میں معاشی ریلیف دینے میں ناکامی کے بعد سیاسی شعبدہ بازی کرتے ہوئے ’’آٹا‘‘ کی قیمت کو کم رکھ کر کریڈٹ لینے کی کوشش کی ، اس مقصد کیلئے گزشتہ دس برس میں کھربوں روپے کی سبسڈی کا بوجھ معیشت پرڈال دیا گیا ۔جب حکومت غیر حقیقی اور شوباز اقدامات کرتی ہے تو متعلقہ صنعت کے کرپٹ مافیاز بھی مزید خرابی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔ آٹا پر حکومتی سبسڈی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمارے ملک میں فلورملنگ سیکٹر کی مجموعی استعداد ملکی ضروریات سے 7گنا زیادہ ہو چکی ہے اور ان میں سے بیشتر ایسے علاقوں میں قائم کی جا رہی ہیں۔

جہاں ان کی ضرورت کسی طور نہیں ہے ۔لاہور سمیت بڑے شہروں کی بڑھتی آبادی اور وہاں سفید آٹا کی روٹی کھانے کے مضبوط رجحان کے سبب ملوں کی تعداد کا جواز موجود ہے لیکن پنجاب کے ایسے اضلاع جن کی بیشتر آبادی دیہی ہے اور وہاں کے معاشرے میں دیسی گندم کی روٹی زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔

ایسے ہر ضلع میں درجنوں کی تعداد میں فلورملز کا ہونا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ آج تک کسی بھی حکومت نے ایسی کوئی پالیسی تیار نہیں کی کہ نئی فلور مل لگانے کی اجازت دینے کیلئے پہلے اس ضلع کی آبادی، پہلے سے موجود ملز کی استعداد اور مارکیٹ کی طلب کا جائزہ لیا جائے ۔ فلورملز ایسوسی ایشن گزشتہ 25 برس سے زبانی کلامی تو نئی ملز کے قیام کی مخالفت کرتی ہے لیکن اپنی مجبوریوں اور مصلحتوں کی وجہ سے باضابطہ طور پر اس بارے حکومت سے کبھی بات نہیں کی گئی۔

پنجاب تمام ملک کی گندم ضروریات کا بڑا حصہ مہیا کرتا ہے لیکن نہایت ضروری ہے کہ کوئی ایسا باضابطہ میکنزم ہو جس کے تحت پنجاب کی فلورملز بلا خوف و خطر اور پریشانی کے آٹا، میدہ سوجی و دیگر مصنوعات دوسرے صوبوں کو فروخت کر سکیں اور پنجاب میں بھی طلب و رسد کو متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے چاروں صوبوںکے فلور مل نمائندوں کو مدعو کر کے ان کی تجاویز اور مسائل سنے تھے، اس موقع پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنما لیاقت علی خان نے نہایت عمدہ بات کی تھی کہ سرکاری محکموں کی پکڑ دھکڑ کے سبب اوپن مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی بڑھتی اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

ملک میں گندم آٹا کی فری ٹریڈ ہی سب بحرانوں کا حل ہے اور اس مقصد کیلئے لانگ ٹرم پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے،فلور مل مالکان بھی اسی ملک کے محب وطن افراد ہیں انہیں چور کہنے کی روایت کو ترک کرکے معاشی حقائق اور ضروریات کے مطابق فیصلے کیئے جائیں۔

فلورملز ایسوسی ایشن کے نوجوان رہنما حافظ احمد قادر بہت سے اہم سرکاری اجلاسوں میں یہ تجویز دے چکے ہیں کہ آٹا کی سرکاری قیمت اور اوپن مارکیٹ ریٹ میں غیر حقیقی فرق مت رکھا جائے کیونکہ اسی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، زمینی حقائق اور اوپن مارکیٹ کی رسد وطلب کے مطابق حکومت نرخ مقرر کرے اور سرکاری انتظامی مشینری جبر کا ہتھیار استعمال کرنا چھوڑ دے ۔

حافظ احمد قادر جیسے نوجوان فلور مل مالکان کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ ملکی زر مبادلہ میں اضافہ اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ مستحکم کرنے کیلئے گندم کی امپورٹ فار ایکسپورٹ کی پالیسی کا کامیاب نفاذ بہت سے مسائل کو ختم کر سکتا ہے۔ بطورصحافی میری رائے کے مطابق حکومت کو مرحلہ وار سکیم کے تحت گندم کے سرکاری کوٹہ سے نجات حاصل کرنی چاہئے اور اوپن مارکیٹ ٹریڈ کو آزاد کیا جائے تاہم رسد وطلب اور قیمتوں پر کڑی مانیٹرنگ برقرار رکھنے کا شفاف اور فول پروف نظام بھی لازم ہے۔

انتہائی غریب افراد کو سستا آٹا دینے کیلئے حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی کے پروگرام پر عمل کر رہی ہے اس کو جلد از جلد لانچ کرنے کیلئے رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سے سبزیوں پھلوں کی مہنگائی کا ملبہ حکومت نے آڑھتیوں پر ڈال رکھا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ تمام قصور آڑھتیوں کا نہیں ہوتا۔ آڑھتی تو منڈی تک محدود ہے لیکن جو جنس منڈی کی چار دیواری سے باہر نکلنے کے بعد کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے اس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

پنجاب بھر کی سبزی وپھل منڈیوں کی واحد رجسٹرڈ نمائندہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری حاجی رمضاناپنے ساتھیوں کے ہمراہ متعدد مرتبہ حکومت کو تجاویز دے چکے ہیں کہ کیسے رسد وطلب اور قیمتوں کو متوازن کیا جا سکتا ہے حکومت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک زرعی جنس جو کہ آوٹ آف سیزن ہے اور امپورٹ ہو کر آرہی ہے اس کی قیمت اس جنس کے مقامی سیزن کی قیمت سے زیادہ ہونا لازمی عمل ہے۔ جب تک حکومت پرائس کنٹرول میکنزم کا ایک خودمختار اور موثر ادارہ قائم نہیں کرتی تب تک مہنگائی کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات شروع نہیں ہو سکتے۔

ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام ایک جانب حکومت کو اربوں روپے سالانہ کی غیر ضروری سبسڈی کے بوجھ سے آزاد کر سکتا ہے تو دوسری جانب صحت مند باہمی کاروباری مسابقت کے سبب اشیائے خورو نوش کی قیمتیں بھی مستحکم رہیں گی اور ان کا معیار بھی بہتر ہوگا۔

جو تاجر ناجائز منافع خوری کیلئے قیمت بڑھائے گا یا کوالٹی کم کرے گا وہ خود ہی مارکیٹ سے آوٹ ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کو سیاسی دباو سے آزاد ہو کر اس معاملے میں انقلابی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ بدستور سیاسی مصلحت اور فائدہ کا شکار ہو کر مصنوعی اقدامات کرتے رہے تو ان کے دور حکومت کو بھی ماضی کے حکمرانوں کی ناکامیوں کی لائبریری میں محفوظ کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں