29

ناقابلِ علاج بلڈ پریشر الٹراساؤنڈ سے قابو کرنے میں کامیابی

الٹراساؤنڈ کے ذریعے ناقابلِ علاج بلڈ پریشر کے علاج میں نمایاں کامیابی ملی ہے۔ فوٹو: فائل

الٹراساؤنڈ کے ذریعے ناقابلِ علاج بلڈ پریشر کے علاج میں نمایاں کامیابی ملی ہے۔ فوٹو: فائل

 نیویارک: بسا اوقات بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) ادویہ سے بھی قابو میں نہیں آتا۔ اب الٹراساؤنڈ کی بدولت اس نوعیت کے بلڈ پریشر کے علاج میں نمایاں کامیابی ملی ہے۔

کولمییا یونیورسٹی سے وابستہ ویگلوس کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے ماہرین نے گردے کے قریب اعصاب پر الٹراساؤنڈ کی لہریں ڈالی گئیں تو ان مریضوں کے فِشارِ خون میں کمی واقع ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ مریض تمام دوائیں استعمال کرچکے تھے بلکہ انہیں ملا کر کھارہے تھے لیکن افاقہ نہیں ہورہا تھا۔

اس عمل کو رینل ڈینورویشن کہتے ہیں جس کی آزمائش کے بعد دو ماہ میں دن کا بلڈ پریشر 8 پوائنٹس تک کم ہوگیا جبکہ فرضی دوا کھانے والوں میں صرف تین فیصد کمی دیکھی گئی۔ جبکہ الٹراساؤنڈ سے رات کے وقت بلڈ پریشر میں 8.3 پوائنٹس کمی دیکھی گئی اور فرضی دوا والوں میں یہ شرح صرف 1.8 پوائنٹس ہی تھی۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ 8 پوائنٹ بلڈ پریشر میں کمی کو طویل عرصے تک برقرار رکھا جائے تو فالج اور دل کے دورے کے خطرات کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح الٹراساؤنڈ سے علاج کا طریقہ بہت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ طبی تحقیقات کو ریڈیئنس ایچ ٹی این ٹرائیو کا نام دیا گیا ہے جس کی تفصیلات 16 مئی کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔

اگرچہ یہ ابھی ایک تجرباتی معالجہ ہے جسے ایف ڈی اے نے منظور نہیں کیا ہے۔ تاہم مختلف ہسپتالوں میں اسے بطور طبی آزمائش کے پیش کیا جارہا ہے۔ اب اگلے پانچ برس تک تمام مریضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ دنیا بھر میں 66 فیصد افراد بلڈ پریشر کو ادویہ سے کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ ایک تہائی افراد پر ادویہ کے اثرات نہیں پڑتے یا وہ کسی مضر سائیڈ افیکٹ میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے کہ بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں گردوں کا غیرمعمولی کردار ہوتا ہے۔ گردے خون میں پانی شامل کرتے ہیں جن کی کمی بیشی بلڈ پریشر میں کمی اور اضافے کی وجہ بنتی ہے۔ اب الٹراساؤنڈ سے گردے کو سرگرم کرکے اس کے سگنل کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس عمل میں رینل آرٹری ( گردے کی شہ رگ) میں تارکے ذریعے الٹراساؤنڈ نظام گردے تک پہنچایا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ رینل ڈینرویشن کا طریقہ ہرقسم کی ادویہ کے مقابلے میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں