64

نیوزی لینڈ میں نمازیوں کے قاتل نے عمرقید کیخلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی

سفید فام برنٹن ٹیرنٹ کی درخواست پر جمعرات کو سماعت ہوگی، فوٹو: فائل

سفید فام برنٹن ٹیرنٹ کی درخواست پر جمعرات کو سماعت ہوگی، فوٹو: فائل

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی دہشت گرد برنٹن ٹیرینٹ نے عمر کی قید کی سزا اور اپنی حیثیت بطور دہشت گرد قیدی میں تبدیلی کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں 51 افراد کو شہید اور 40 کو زخمی کرنے کے جرم میں بغیر پیرول رہائی کے عمر قید پانے والے آسٹریلوی نژاد سفید فام نوجوان نے سزا کی شرط اور دہشت گرد حیثیت میں تبدیلی کے لیے عدالت میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔

30 سالہ برنٹن ہیریسن ٹیرینٹ نے اپنی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جیل میں اس کی دہشت گرد کی حیثیت ختم کرکے عام قیدیوں میں شامل کرنے اور عمر قید میں بغیر پیرول پر رہائی کی شرط کے خاتمے کے لیے قانونی جائزہ لینے کی استدعا کی ہے۔

نیوزی لینڈ کی عدالت کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ آکلینڈ کی اعلی عدالت میں جمعرات کو برنٹن ٹیرنٹ کی درخواست کا عدالتی جائزہ لیا جائے گا تاہم اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس درخواست سے فوجداری مقدمے کے نتائج یا اس کی سزا اور سزا پر سماعت کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

عدالت کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ برنٹن ٹیرنٹ عدالت میں اپنی نمائندگی خود کرے گا۔ جمعرات کو ہونے والی عدالتی کارروائی سے متعلق شہداء کے لواحقین اور متاثرین کو آگاہ کیا گیا تاہم کارروائی میں صرف میڈیا کو شرکت کی اجازت ملے گی۔

خیال رہے کہ برنٹن ٹیرنٹ نیوزی لینڈ میں دہشت گرد کی حیثیت حاصل کرنے والا واحد قیدی ہے جسے عام قیدیوں کے مقابلے میں کم سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

 

 

واضح رہے کہ سفید فام دہشت گرد برنٹن ٹیرنٹ نے مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں جمعے کی نماز کے وقت گھس کر جدید اسلحے سے اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 51 افراد شہید اور 41 زخمی ہوگئے تھے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں