62

وزیراعظم کے سندھ کے لیے اعلان کردہ منصوبے پرانے ہیں، سندھ حکومت

سکھر حیدرآباد موٹروے، نادرا آفس، ریلوے اسٹیشن، گاج ڈیم سب بجٹ میں پہلے سے شامل ہیں، صوبائی وزرا کی پریس کانفرنس (فوٹو : فائل)

سکھر حیدرآباد موٹروے، نادرا آفس، ریلوے اسٹیشن، گاج ڈیم سب بجٹ میں پہلے سے شامل ہیں، صوبائی وزرا کی پریس کانفرنس (فوٹو : فائل)

 کراچی: وزیر اطلاعات سندھ ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے سندھ کے لیے اعلان کردہ منصوبے پرانے ہیں اور بجٹ بک میں پہلے سے شامل ہیں، وزیراعظم کو ایک اور تقریب میں آنا تھا یہ صرف بہانہ کیا گیا۔

یہ بات انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری جاوید ناگوری بھی موجود تھے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کو وزیراعظم کے دورے کی آفیشلی اطلاع نہیں دی گئی اور ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ان کا استقبال کرنے نہیں جاتے۔

انہوں نے کہا کہ کل بہت سارے منصوبوں کااعلان کیا گیا جو کہ سب پرانے تھے، سکھر حیدرآباد موٹروے، نادرا آفس، ریلوے اسٹیشن، گاج ڈیم سب پرانے منصوبے تھے جو بجٹ میں پہلے سے شامل ہیں۔

جزیروں سے متعلق انہوں نے کہا کہ جزیروں پر ایک خط کا جواب دیا تھا اور کہا تھا ماہی گیروں کو ساتھ ملا کر ترقی کے منصوبے بنائے جائیں لیکن وفاقی حکومت نے آرڈی ننس لا کر جزیرے ہڑپ کرنے کی کوشش کی، سخت آرڈی ننس لانا ان کی بدنیتی تھی، جزیروں کا معاملہ پارلیمنٹ میں لاتے، ان کی منافقانہ سیاست کو لوگ جان چکے ہیں۔

یہ پڑھیں : پنجاب میں مافیا سے مقابلہ تھا اس لیے سندھ پرتوجہ نہیں دے سکا، وزیراعظم

 

صوبائی وزیر اطلاعات نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی پر کہا کہ نااہل ترینوں کے ساتھ شوکت ترین کیا کرسکتے ہیں، وہ ان نااہل حکمرانوں کے ساتھ کیا کارکردگی دکھائیں گے؟ اصل میں یہ جو نااہل ترین ہیں ان سے جان چھڑانی ہے اس سے ملک میں بہتری آئے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں نامزدگیاں میرٹ پر ہوتی ہیں، کچھ شکایتیں آتی ہیں، اس پر ایکشن لیا گیا ہے ہم لسانیت میں یقین نہیں رکھتے، جہاں حق تلفی ہوئی وہاں وزیر اعلیٰ سندھ نے ایکشن لیا، سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر اعتراض کرنے والوں کی سیاست ہی یہی ہے وہ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں، اردو بولنے والے قابل احترام ہیں پیپلز پارٹی نے کبھی تفریق کی سیاست نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کا یہ حال کس نے کیا؟ ٹی وی بیچ کر اسلحہ خریدنے کی بات کس نے کی؟ بوری بند لاشیں کس نے دیں؟ یہ عوامی جذبات سے کھیلتے رہے ہیں لیکن اب عوام انہیں جان چکی ہے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ حکومتیں اثاثے بناتی ہیں اور اثاثوں کا تحفظ کرتی ہیں لیکن موجودہ وفاقی حکومت نے قومی اثاثوں کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، انہوں نے اسٹیٹ بینک کو گروی رکھ دیا ہے، اسٹیل مل کو بیچنے میں لگی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی مانگے تانگے کی حکومت ہے جو جہانگیر ترین کی مہربانی سے بنی اب ان سے اپنے اتحادی ناخوش ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں